جنس کی تبدیلی کی چھ سو سے ذائد درخواستیں رجسٹرڈ

پچھلے سال سے اب تک نارویجن محکمہء رجسٹریشن میں اب تک چھ سو پچپن جنسی تبدیلی کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ایسا نارویجن قانون میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا ہے۔اس میں سے بیشتر درخواستوں کا فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ کچھ درخواستوں پر غور جاری ہے اور چند درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔مقامی نارویجن اخبار ہمارا وطن کے مطابق نیا قانون بننے سے پہلے قانونی طور پر صرف انہی افراد کی جنس ی تبدیلی رجسٹر کی جاتی تھی جن کے جسم میں قدرتی طور پر تبدیلی کے آثار ظاہر ہوتے۔اسکے بعد وہ لوگ آپریشن کے ذریعے جنس تبدیل کروا لیتے تھے۔نئے قانون کے تحت اب جنس کی تبدیلی ذاتی احساس اور پسند نا پسند کی بنیاد پر ممکن ہے۔ایک ستاسٹھ سالہ عورت نے ایک اخباری گفتگو میں بتایا کہ اب وہ پچھلے چاربرس سے جنسی تبدیلی کے بعد پہلے سے بہتر زندگی گزار رہی ہے ۔
ناروے میں جنسی تبدیلی کی مدد کے لیے تنظیم
ناروے میں جنس تبدیل کرنے والے افراد کی مدد کے لیے ایک تنظیم کا قیام سن انیس سو چھیاسٹھ 1966 میں لایا گیا۔اسکا نامForeningen for transpersoner i Norge (FTP Norge) ہے۔ابتداء میں یہ تنظیم رازداری سے لوگوں کی مدد کرتی تھی۔تاہم اب یہ تنظیم جنسی تبدیلی والے افراد کو معاشرے میں بہتر مقام دلانے کے لیے کوشاں ہے۔
NTB/UFN

اپنا تبصرہ بھیجیں