ایوارڈ یافتہ ایڈووکیٹ کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں کا سامنا

کم قیمت پر اوسلو سینٹر میں قانونی مشاورت فراہم کرنے والے ایڈووکیٹ فاروق انصاری کو سوشل میڈیا پر نسلی منافرت اور دھمکیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ خود غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک کی بار ایسو ایشن کے سربراہ وکلاء نے ترکی میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ترکی سفات خانے کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ان وکلاء پر دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کا ساتھ دینے اور ترکی میں ہنگامے کرنے کا الزام تھا۔
ایک ترک ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جب میں نے احتجاج میں حصہ لیا تو مجھے ترک حکومت اور اردگان کی طرف سے غدار قرار دیا گیا۔
کو آرڈینیشن گروپ اگینسٹ لائیسنس انکار کے مطابق ترکی حکومت نے اپنے تمام نا پسندیدہ وکلاء کو لائیسنس جاری نہیں کیے گئے حالانکہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے تھے۔
اس طرح خود وکلاء بھی اپنے خلاف ہونے والی بے انصافی نہیں روک سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں