مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حسین ترین جوان*
**********
چونکہ آپ کی والدہ بہت مالدار عورت تھیں… اس لیے آپ کی پرورش بہت ناز و نعم میں ہوئی۔ اعلیٰ ترین لباس پہنتے، بیش قیمت جوتے استعمال کرتے اور ہر وقت خوشبو میں بسے رہتے… جانِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “میں نے مکہ میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس کی زلفیں مصعب کی طرح حسین ہوں، جس کا لباس مصعب جیسا ہو اور جس کو مصعب کی مانند زندگی کی ہر آسائش میسر ہو۔”
(طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۸۲)
دارِ ارقم میں ایمان لائے… پہلے تو اپنے ایمان کو چھپاتے رہے، مگر ایک دن عثمان بن طلحہ نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا اور آپ کے والدین کو اطلاع دے دی۔ والدین اتنے ناراض ہوئے کہ انہوں نے اپنے نازوں پلے بیٹے سے سب کچھ چھین لیا اور اسے قید کر دیا۔ ہجرتِ حبشہ کے وقت کسی نہ کسی طرح آپ نے قید سے جان چھڑائی اور مہاجرین کے ہم سفر ہو گئے۔ پھر جب مہاجرین کی واپسی شروع ہوئی تو مصعب بھی واپس آئے…
اس وقت سفر اور غربت کی وجہ سے آپ کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا اور تن ڈھانپنے کو معقول لباس بھی میسر نہ تھا۔ ایک دن پھٹی پرانی، پیوند لگی چادر اوڑھے ہوئے جانِ دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے… تو جانِ دو عالم ﷺ نے ان کے استقلال و استقامت کی بے حد تعریف کی اور فرمایا:
“زمانے کے انقلابات ہیں… ایک وقت تھا کہ مصعب سے زیادہ خوش لباس اور ذی نعمت شخص پورے مکہ میں کوئی نہیں تھا، مگر اس نے اللہ اور رسول کی محبت میں وہ ساری نعمتیں ٹھکرا دیں…”
(طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۸۵)
مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے جو اہلِ مدینہ اسلام لا چکے تھے، انہوں نے جانِ دو عالم ﷺ سے درخواست کی کہ کوئی ایسا شخص یہاں بھیجیں جو ہمیں دین سکھائے اور قرآن پڑھائے۔ جانِ دو عالم ﷺ کی نگاہِ انتخاب حضرت مصعبؓ پر پڑی اور انہیں یہ اعزاز ملا کہ وہ اسلام کے پہلے مبلغ بن کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے انصار کے بیشتر گھرانے مسلمان ہو گئے۔
جب مسلمانوں کی تعداد خاصی ہو گئی تو حضرت مصعبؓ نے جانِ دو عالم ﷺ کو لکھا کہ “اگر اجازت ہو تو میں یہاں جمعہ پڑھانا شروع کر دوں؟” جانِ دو عالم ﷺ کی طرف سے اجازت نامہ آیا تو سعد بن خیثمہؓ کے گھر میں حضرت مصعبؓ کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی اور نمازیوں کو بکری ذبح کر کے کھلائی گئی۔ یہ پہلی نمازِ جمعہ تھی جو اسلام میں باجماعت ادا کی گئی۔
(طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۸۳)
غزوۂ بدر میں مہاجرین کا جھنڈا حضرت مصعبؓ کے ہاتھ میں تھا۔ اسی طرح غزوۂ احد میں بھی آپ کے ہاتھ میں علم تھا، جسے مرتے دم تک اونچا کیے رکھا۔ دایاں ہاتھ کٹ گیا تو بائیں ہاتھ میں لے لیا، بایاں بھی کٹ گیا تو علم کو کٹے ہوئے بازوؤں کے حصار میں لے کر سینے سے چمٹا لیا۔ پھر جب زخموں سے چور ہو کر زمین پر گر گئے تو ایک اور صحابی نے بڑھ کر جھنڈا اٹھا لیا اور حضرت مصعبؓ شہید ہو گئے۔
لڑائی ختم ہوئی تو جانِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاش کے پاس آئے جو اوندھے منہ پڑی تھی اور یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی:
“مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ…”
(مومنوں میں کچھ ایسے جواں مرد ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے وعدے کو سچ کر دکھایا…)
پھر فرمایا:
“اے اُحد کے جانثارو! اللہ کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم قیامت کے دن بالیقین شہداء کے مقام پر فائز ہو گئے۔”
پھر صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا:
“لوگو! ان کی زیارت کے لیے آیا کرو اور انہیں سلام کیا کرو۔ خدا کی قسم! قیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کرے گا، یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔”
(طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۸۵)
پھر جب ان کو کفن دیا جا رہا تھا تو سوائے ایک چادر کے کوئی کپڑا نہ تھا، اور وہ بھی اتنی چھوٹی تھی کہ سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں ننگے ہو جاتے، اور پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر برہنہ ہو جاتا۔ جانِ دو عالم ﷺ نے فرمایا:
“سر کو چادر سے ڈھک دو اور پاؤں پر اذخر (گھاس کی ایک قسم) ڈال دو۔”
یہ کفن تھا اس شخص کا جس سے زیادہ خوش پوشاک پورے مکہ میں کوئی نہ تھا… شہادت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔

Recent Comments