کبھی آپ نے سوچا کہ یہ مریخ پہ جانے کا one-way ٹکٹ ہی کیوں ہے؟
دنیا کی مشہور کمپنیاں ایک طرف ہی جانے کا خرچہ دے رہی ہیں مگر واپسی؟
عام طور پہ ہم ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہیں۔
ہمیں علم ہوتا ہے کہ واپسی پہ سواری مل جائے گی۔
جب فلائے کر کے دوسرے ملک جاتے ہیں۔
تو واپسی کا پتہ ہوتا ہے کہ ریٹرن ٹکٹ مل جائے گا۔
کیا خلا کے شوقین واپس کبھی نہیں آسکیں گے؟
دنیا کے پہلے 500 ارب والے امیر ترین انسان ایلان مسک کی کمپنی کا نام سپیس ایکس ہے۔ جس کا مقصد یہی ہے کہ انسان کو مریخ پہ لے کر جانا اور وہاں کالونیاں بنانا ہے۔
ایلان کا ماننا ہے کہ انسانوں کو بچانے کے لیے مریخ پہ جانا ہوگا۔
اسی کمپنی کے سٹار شپ راکٹ کو مریخ کے سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
انہوں نے سال 2030ء تک پہلا انسانی مشن مریخ پہ بھیجنے کا سوچا ہوا ہے۔
اور جو وہاں جائے گا صرف جاپائے گا۔
کمپنی نے واپسی کا ٹکٹ نہیں بیچا ہے۔
ابھی تک مریخ کے ٹکٹ 3 کروڑ سے 15 کروڑ پاکستانی روپے کی رینج بتائی جارہی ہے۔ ٹکٹ کے فوائد درج ذیل ہیں:
★آپ کو اسٹار شپ پہ جانا ہوگا۔
★مریخ پہ زندگی گزارنے کی ضروری سہولتیں دیں گے۔
★پانی، کھانااور آکسیجن دی جائے گی۔
★آپ کو اوپر جانے سے پہلے ٹریننگ بھی دی جائے گی۔
اب اس میں چند شرائط بھی ہیں۔
وزن کم از کم 113 کے جی ہو اور جسمانی طور پہ ٖفٹنس بھی ہونی چاہیے۔
کم ازکم عمر 18 سال ہوگی تو ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ مریخ تک سفر 6 سے 9 مہینے میں مکمل ہوگا۔
رات میں درجہ حرات 125 ڈگری تک جائے گا۔
اب ون وے ٹکٹ کی 2 وجوہات ہے:
1): چھ مہینے کے لمبے سفر کے بعد جب آپ مریخ پہ اتروگے۔
تب تک ہڈیاں کمزور اور دماغ پہ بھی بوجھ ہوگا۔ اس لیے بجائے واپس اپنے گھر جانے کے دوسرے سیارے پہ رکنا صحت کے لیے اچھا ہے۔
2): مریخ تک فاصلہ 55 سے 400 ملین کلومیٹر تک بن سکتا ہے۔
یعنی فیول بھی، بہت سارے وسائل اور سپورٹ سسٹمز چاہیں۔ تو واپسی کے لیے ایک اور راکٹ اور فیول کی ضرورت ہوگی۔ وہ کہاں سے آئے گا؟
ایلان مسک کے زریعے جانے کے شوقین اس لنک پہ دیکھیں:
امریکی مشہور کمپنی ناسا کے زریعے جانے والے اس پہ دیکھیں:
جب کہ جیف بیزوس کی کمپنی بلیو آرجن کے لیے درج زیل لنک پہ جائیں:
کیا آپ مریخ پہ ون وے ٹکٹ پہ جانا چائوگے؟
اور اگر چند مخصوص چیزوں کی اجازت مل جائے۔ (جو مشکل ہے۔)
تو اپنے ساتھ کیا لے کر جانا لازمی سمجھوگے؟

Recent Comments