“ایک گولی، ایک لمحہ… اور بکھرتے ہوئے کئی گھران

فائر ہونے کے بعد بیرل سے نکلنے کے بعد گولی ایک سیکنڈ میں 710 میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ عموما بندے پر فائر جب کیا جاتا ہے۔ تو وہ پچاس یا سو میٹر سے زیادہ دور نہیں ہوتا۔ یعنی سیکنڈ سے بہت کم وقت میں زندگی کا خاتمہ کرتا ہے۔
اس وقت ایک شخص نہیں مرتا۔
بلکہ اس وقت بوڑھے ماں باپ کا سہارا مرتا ہے۔
کسی لاڈلی بہن کا بھائی مرتا ہے۔
کسی چھوٹے بھائی کے خواب مرتے ہیں۔ کسی ہماری بہن کی زندگی اجڑ جاتی ہے۔
معصوم ننھے منے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔
اور پھر وہ یتیم بچے ساری زندگی روتے رہتے ہیں۔ عید کے دن جب باقی بچے پٹاخے چلاتے ہیں۔ کھیل کودتے ہیں۔ اس وقت وہ یتیم بچے باپ کی قبر پر آنسوؤں بہا رہے ہوتے ہیں۔
وہ ساری زندگی محرومیوں کا شکار رہتے ہیں۔
کوئی سر پر ہاتھ رکھنے والا نہیں ہوتا۔
ایک ہنستا ہوا خاندان اجڑ جاتا ہے۔
کسی پر فائر کرنے کے لئے جب آپ ٹریگر دباتے ہے تو بس اتنا ضرور سوچا کرے کہ آپ ایک شخص نہیں مار رہے۔ آپ ایک خاندان کو اجاڑنے جارہے ہو۔ اور وہ درجنوں لوگوں کو وہ دکھ درد دے رہے ہو۔ جس کو بیان کرنا ممکن نہیں ۔۔
سوچیئے۔ ضرور سوچئیے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں