بارہ گاڑیوں کے پیسے۔۔۔

بارہ گاڑیوں کے پیسے۔۔۔
1999-2000 کا زمانہ تھا۔۔۔
گزر بسر کے لیے ٹیوشن پڑھانی ہوتی تھی، جس کے لیے بسوں میں دھکے کھانے پڑتے تھے۔۔۔
بائیک چلانے سے والدہ منع کر کے وفات پاچکی تھیں تو ڈر سے کبھی ہاتھ نہیں
لگایا کہ اماں کی نافرمانی کروں گا تو سزا ملے گی۔۔۔
آج تک!
تین گھنٹے ٹیوشن کے چکر میں چھے گھنٹے بس میں گزر جاتے۔۔
کبھی کبھی تو آخری گھر سے پیدل آنا پڑتا کہ بسیں اس وقت تک بند ہو جاتی تھیں۔۔۔
ڈیفینس میں تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ آدھا گھنٹہ واک کر کے سٹاپ سے ٹیوشن والے گھر تک پہنچا کرتا تھا۔۔۔
رمضان میں اترتے ہی دو سموسے اور پانی پکڑتا، بیچ میں اذان ہوتی تو رک کر افطار کرتا پھر چل پڑتا۔۔۔
پھر ٹیوشن سے ہی کچھ پیسے جمع کر کے، کچھ ادھار لے کر ایک ایف ایکس 88 ہزار میں خرید لی۔۔۔
پرانی گاڑی تھی۔۔
ہر تھوڑے دن بعد مکینک کا چکر لگاتی تھی
کبھی کبھی تو ایک دن میں دو مرتبہ بھی پنکچر ہو جاتی تھی۔۔۔
ٹائر بدل بدل کی میری حالت خراب ہو جاتی تھی۔۔۔
مگر وہ پیاری میرا وقت بچا دیتی تھی۔۔۔
سفر کا وقت چھے سات گھنٹوں کے مقابلے میں اب آدھے سے بھی کم لگتا تھا۔۔۔
وقت پر گھر بھی پہنچ جاتا تھا۔۔۔
دوٹیوشنز زیادہ پڑھا لیتا تھا۔۔۔
بارہ گاڑیاں خریدنے کے پیسے نہ تب پاس تھے اور نہ اب ہیں۔۔۔
مگر مجھے یہ یقین ہے کہ اگر اس وقت جان پر جبر کر کے وہ گاڑی نہ خریدتا تو آج بھی بسوں اور چنگچیوں میں دھکے کھا رہا ہوتا۔۔۔
ایک تحریر نظر سے گزری کہ گاڑی جب خریدیں جب آپ کے پاس 12 گاڑیاں خریدنے کے پیسے ہوں۔۔۔
تو بھائی انٹرنیٹ پر پڑا ہوا ہر مشورہ کام کا نہیں ہوتا۔۔۔
میں اپنے سے ملنے والے ہر کام کرنے والے دوست کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ اپنی سواری خریدنے کی کوشش کریں۔۔
وقت بچائیں اور اسے کچھ سیکھنے سکھانے کے استعمال میں لائیں۔۔۔
تاکہ آگے بڑھ سکیں۔۔۔
ہمارے گھر کے قریب ہی ایک گھر ہے جس کے آگے ایک بی آر وی کھڑی ہوتی ہے۔۔۔
اس پر کپڑا پڑا رہتا ہے۔۔۔
روز صفائی ہوتی ہے۔۔۔
اور سارے گھر والے ایک رکشے میں آتے جاتے ہیں۔۔۔
کیوں؟
مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی بارہ گاڑیوں کے پیسے جمع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اس کے بعد اپنی گاڑی کو چلانا شروع کریں۔۔۔
غربت اکثر انسان کے دماغ میں ہوتی ہے۔۔۔
اور جس کے دماغ میں غربت بس جائے۔۔
وہ جمع تفریق میں ہی لگا رہ جاتا ہے۔۔
رسک نہیں لیتا۔۔۔
آگے نہیں بڑھتا۔۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں