بلکہ پنجاب میں ایک دیہی علاقہ ایسا بھی ہے جہاں انکی تاریخی رومانوی خاتون ہیر پر بننے والی فلم کو سنیمہ پر لگانے کی اجازت نہیں ۔غالباً اس سے بھی انکی پگڑی اچھلنے کا خطرہ ہوتا ہو گا۔دوسری رومانوی فلموں مثلاً سوہنی مہینوال، سسی پنو، اور لیلیٰ مجنو جیسی شہرہ آفاق فلموں کی نمائش پر اس علاقے سے کسی اعتراض کی
اس کیٹا گری میں 325 خبریں موجود ہیں
گر سرائے کے اندر کا دروازہ اور باہر والا سلاخوں کا دروازہ دونوں کھلے ہوتے تو پھر گھر کے کسی پنجرے میں رہنے کا احساس ہوتااور مجھے تو کئی بار محسوس ہوا کہ اپنی سرخ ٹائی، سبز ہیٹ اور بی اے کی ڈگری کے باوجود میں کوئی بہتر قسم کا لنگورہوںجو کھڑکی میں سے نیچے اسٹیشن کے سامنے بیٹھے ہوئے بندروں کو پہچان کر بھائی بندی کے جذبے کے تحت مسکرا
محمد خالد اختر کے سفرناموں میں پڑھنے والوں کو مسحور کرنے والی بات ان انسانی کرداروں کی رنگا رنگی ہے جن سے ان کی سفر کے دوران ملاقات ہوتی ہے۔ اپنی اپنی مخصوص صورت حال سے دوچار انسانوں پر مشتمل زندگی کا میلہ ہی ہے جس سے محمد خالد اختر کا سفری تجربہ عبارت ہے۔ وہ اپنے ان عارضی ہمسفروں ،مختلف پس منظر رکھنے والے عام لوگوں سے بھرپور تخلیقی دلچسپی لیتے ہیں اور ہمدردی اور گہرائی سے بنائی گئی تصویروں کے ذریعے پڑھنے والے کو اپنے اس مطالعے میں شریک کرتے ہیں۔اس عمل میں محمد خالد اختر کی تخلیقی شخصیت کا فکشن نگار پہلو پوری طرح بروئے کار آتا ہے۔
ایک وزیر عالی مرتبت نے تو سرے سے جوتے والے واقع کو ماننے سے ہی انکار کر دیا۔کیا کہنے آپ کے۔ایسے حاکم وقت کے مداحوں کا رول بہت قابل تعریف ہے۔وہ ہر لمحہ میڈیا کے چلتروں کا جواب دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یقیناً انہیں اپنے بیچارے حاکم پہ ترس ا تا ہو گا۔انکے جانثاروں کے لیے یہ بہت کڑی گھڑی ہے۔انہیں
حکومت کوئی بھی ہو طاقت کے دمسے چلتی ہے۔ان ترکیبوں پہ عمل کر کے `پ ایک ùیڈیل بہو بن سکتی ہیں۔اور ہاں یہ ترکیب کسی اور کو بتانا نہیں
