گر سرائے کے اندر کا دروازہ اور باہر والا سلاخوں کا دروازہ دونوں کھلے ہوتے تو پھر گھر کے کسی پنجرے میں رہنے کا احساس ہوتااور مجھے تو کئی بار محسوس ہوا کہ اپنی سرخ ٹائی، سبز ہیٹ اور بی اے کی ڈگری کے باوجود میں کوئی بہتر قسم کا لنگورہوںجو کھڑکی میں سے نیچے اسٹیشن کے سامنے بیٹھے ہوئے بندروں کو پہچان کر بھائی بندی کے جذبے کے تحت مسکرا
اس کیٹا گری میں 1826 خبریں موجود ہیں
اولڈ وہوم ان کے لے کسی قید خانے سے کم نہیں۔انکا بس چلے تو وہ خود ہی اسے آگ لگا کر بھاگ جائیں۔وہ تو اپنے بچوں ،بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے درمیان آزادی کی زندگئی گزارنا چاہتے ہیں۔اکثر بوڑھے اسی آزادی کی خاطر فرار ہوتے ہوئے
ایک اخلاقی معیار کو بلند کرنے کے لیے ادبی اور غیر ادبی دونوں عناصر کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔جہاں ایسا ممکن ہے وہاں وہاں یقینا§ ایسا ادب تخلیق ہو گا جو اخلاقی اقدار کے سامنے سرنگوں ہو گا۔
لاس اینجلس میں ہی قیام کے دوران میں نے سنا تھا کہ میرے ایک دوست کی دوست ہسپانوی ہارلیم نزدکولمبیا میں اپنا پارٹمنٹ چھوڑ رہی ہے ۔ اور نیو یارک کی رئیل مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے جلد از جلد وہاں پہنچ کر قبضہ کر لینا چاہیے۔باہمی اتفاق
محمد خالد اختر کے سفرناموں میں پڑھنے والوں کو مسحور کرنے والی بات ان انسانی کرداروں کی رنگا رنگی ہے جن سے ان کی سفر کے دوران ملاقات ہوتی ہے۔ اپنی اپنی مخصوص صورت حال سے دوچار انسانوں پر مشتمل زندگی کا میلہ ہی ہے جس سے محمد خالد اختر کا سفری تجربہ عبارت ہے۔ وہ اپنے ان عارضی ہمسفروں ،مختلف پس منظر رکھنے والے عام لوگوں سے بھرپور تخلیقی دلچسپی لیتے ہیں اور ہمدردی اور گہرائی سے بنائی گئی تصویروں کے ذریعے پڑھنے والے کو اپنے اس مطالعے میں شریک کرتے ہیں۔اس عمل میں محمد خالد اختر کی تخلیقی شخصیت کا فکشن نگار پہلو پوری طرح بروئے کار آتا ہے۔
ایک وزیر عالی مرتبت نے تو سرے سے جوتے والے واقع کو ماننے سے ہی انکار کر دیا۔کیا کہنے آپ کے۔ایسے حاکم وقت کے مداحوں کا رول بہت قابل تعریف ہے۔وہ ہر لمحہ میڈیا کے چلتروں کا جواب دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یقیناً انہیں اپنے بیچارے حاکم پہ ترس ا تا ہو گا۔انکے جانثاروں کے لیے یہ بہت کڑی گھڑی ہے۔انہیں
حکومت کوئی بھی ہو طاقت کے دمسے چلتی ہے۔ان ترکیبوں پہ عمل کر کے `پ ایک ùیڈیل بہو بن سکتی ہیں۔اور ہاں یہ ترکیب کسی اور کو بتانا نہیں
۔مجھے اپنے ناروے کے فٹ پاتھ پہ گرم دوپہروں میں ننگے پائوں چلتی ہوئی حسینائیں اوراپنے وطن میں کچی پگڈنڈیوں پہ جوتے بناء چلتی ناریاں یاد آ گئیں۔تب میں نے فوراً عائشہ کے اس فیصلے کی بھر پور تائید کی۔یہاں تو لوگ کیا کیا اتار دیتے ہیں اگر تم سینڈل اتار دو گی تو کون سی آفت آ جائے گی۔یہ سنتے ہی عائشہ نے جھٹ سے سینڈل اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے اور اس کے تھکے ہوئے چہرے پہ آسودگی سی پھیل گئی۔وہاں نہ کسی
اٹلی کا کیپیٹل شہر روما ہے۔اسکے علاوہ اسکا شہر وینس اپنی بے مثال خوبصورتی اور رومانوی ماحول کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔اس شہر میں پانی کی نہریں ہیں۔ پورا شہر انہی پانیوں پر آباد ہے۔ مگر بہت کم مزید پڑھیں
