اور ہر طرف خوشیوں کا سماں دکھائی دیتا تھا ۔چھتوں پر خاندان اکٹھے ہوتے تھے۔ ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی، اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا تھا زر لباس اس تہوار کی خاص پہچان ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بسنت کے تہوار میں اتار چڑھاؤ بھی نظر آیا ،وہ بھی ناپسندیدہ رجحانات اور حفاظتی خدشات کے باعث اس تہوارکو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انسانی جان ہر چیز سے افضل ہے ۔ہر بار کی طرح اس بار بھی بسنت کو منانے کی تیاریاں پورے جوش و خروش سے شروع ہو چکی ہیں۔ شہر بھر کی مارکیٹس میں رنگ برنگی پتنگیں سجی ہوئی ہیں اور خریداری زور شور سے جاری ہے۔ کئی کروڑ روپے کی مالیت کی پتنگیں اور ڈورے فروخت ہو چکی ہیں ۔اور ان کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی بسنت کے تہوار اور اس تہوارکے نقصانات کو ٹھیک کر کے 6 فروری کو عوام کے لیے بسنت کا تہوار منعقد کر دیا ہے۔ بسنت کی تیاریاں اور جدید انتظامات میں درج زیل چیزیں شامل ہیں
پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت
2,246 رسمی طور پر بسنت اٹھ فروری تک رجسٹرڈ ٹریڈرز کو پتنگ فروش کے طور پر اجازت دی گئی ہے
چھتوں اور جگہوں کی سجاوٹ شہری اور کاروباری مقامات بسنت کے رنگ و جیسے زرد اور روشن ڈیزائنوں سے سج گئے ہیں خاص طور پر قدیم عمارتیں اور چھتوں پر خصوصی سجاوٹ کی گئی ہے ۔کچھ چھتیں مہمانوں کے لیے کرائے پر دی گئی ہیں
سرکاری انتظامات اور حفاظتی اقدامات
سخت سلامتی اور حفاظتی Sops فائنل کر دیے گئے ہیں تاکہ بسنت محفوظ ماحول میں منائی جا سکے .خراب اور خطرناک عمارتوں کو سیل کیا گیا ہے تا کہ حادثات سے بچا جا سکے۔
پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہو گئی ہے بس میٹرو اور دیگر ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی ہے تاکہ عوام محفوظ طریقے سے جشن میں شامل ہو سکے۔
حفاظتی سمسٹر اور ایمرجنسی تیاری بسنت پر ایمرجنسی سروسز جیسے ایمبولینس، ریسکیو ٹیمیں تعینات ہو گئی ہیں ۔
موسم اور انتظامی پلان محکمہ موسمیات نے بسنت کے لیے خوشگوار اور سازگار موسم کی پیشن گوئی کی ہے.
خصوصی ثقافتی پروگرام لاہور میں کئی مقامات پر جشن کو پرکشش بنانے کے لیے خصوصی سجاوٹ اور پروگرام رکھے گئے ہیں.
جس میں موسیقی تماشے اور دیگر تفریحی سرگرمیاں بھی شامل ہیں ۔بسنت کے دن حکومت پاکستان نے بسنت کے دن چھ سات آٹھ فروری کے دن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور پورے پاکستان میں چھٹیاں جاری کر دی گئی ہیں۔
آپ سب قارین سے التماس ہے۔ کہ بسنت تہوار کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار ضرور دیں اور تبصرے کی صورت میں بتائیں کہ کیسے بسنت کے تہوار کو آپ سب کس نظر سے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ یہ تہوار اور یہ خوشیاں خیر و عافیت سے گزریں

اسلام و علیکم
میرا نام سائرہ ہے میں آپکے سارے آرٹیکل پڑھتی ہوں بہت مزے دار تحریر ہے جو آپ نے بسنت کے حوالے سے لکھی ہے یہ تو ہم بچپن میں تھے تو بہت منائی جاتی تھی یہ روایت پر اب دوبارہ سے شروع ہو چکی ہے مریم نواز کو سارا کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے اس روایت کو دوبارہ زندہ کیا
میرے خیال میں بسنت منانا وقت کا ضیاع ہے۔ نہ آسکی کوئی شرعی حیثیت ہے اور نہ کوئی دنیاوی فائدہ۔ اس تہوار کا منانا پیسے کا بھی ضیاع ہے۔ جتنی غربت ،بے روزگاری ،معاشی بدحالی ،تعلیمی صورتحال ،صحت کی کم سہولیات ،اس کے علاؤہ پاکستان کئی مسائل کا شکار ہے ،ان حالات بسنت منانا بے وقوفی ہے۔
اس کے منانے کا فایدہ ان لوگوں کو ہے جو معاشی طور پر خوشحال ہیں ،جو مشکل سے اپنی ضروریات زندگی پوری کر رہے ہیں وہ تو مزید احساس کمتری کا شکار ہوں گے۔ اس لیے حکومت کو بسنت منانے سے زیادہ ملکی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
👍👍👍
میرے خیال میں اس وقت ہمیں اپنے ملکی
حا لا ت پر توجہ دینی چا ہیے۔ایک طر ف جنگ کا سماں ہے اور دوسری طرف جشن منا یا جا رہا ہے ۔اللہ ہما رے ملک کی حفا ظت فرمائیں آ مین