یہ کس کا دن ہے؟

                               (بالکل تازہ تخلیق )
  ”  نہ مائ نہ ۔آج نہ جاؤ”کوٹھری سے نکلتے ہوئے اس کا پانچ سالہ اکلوتا بیٹاچھوٹو اس کی دھوتی سےلٹک گیا۔ خود سے الگ کرتے ہوئے سکھیا نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ بہت گرم تھا۔اس نے اسے گود میں اٹھایا تو اس کا جسم بخار سے پھنک رہا تھا۔دس منٹ بہلانے کے بعد وہ سوگیا تو سکھیا نے اسے گھر کی اکلوتی کھٹیا جس پر اس کی بوڑھی ساس پہلے ہی سے پڑی ہوئ تھی آہستہ سے لٹایا اور بھاگتی ہوئ کام پر چل دی۔
       سکھیا کا تعلق بلاسپور کے مزدور طبقہ سے تھا۔یہاں کے مزدور دوسرے علاقہ کے مزدوروں سے نسبتا” زیادہ محنتی خیال کئے جاتے ہیں۔یہاں کی عورتوں کو صنف نازک کہنا شاید سب بڑا مذاق ہے۔یہ مزدورنیں  اپنے سروں پر  ڈیڑھ ڈیڑھ درجن اینٹیں رکھے لکڑی کی سیڑھیوں سے اوپر کی منزلوں پر سخت گرمی اور دھوپ میں بھی بآسانی چڑھتی ہوئ دکھائ دیتی ہیں تو اجنبی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ جاتی ہیں۔سکھیا تقریبا” دوسال سےقریب کی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ٹھیکیدار کو چڑھاوا دے کر بحیثیت دیہاڑی مزدور لگی ہوئ تھی۔اس کا شوہر بھی یہیں کام کرتا تھا۔مرد ہونے کے سبب اسے سکھیا سے کچھ زیادہ اجرت ملتی تھی لیکن جو زیادہ تر ٹھرا(دیسی شراب) کی نذر ہوجاتی تھی۔ بلکہ اکثر تو وہ سکھیا کی جیب بھی صاف کردیا کرتا تھا۔۔
        آج سکھیا جب کام پر پہنچی تو ٹھیکیدار نے اسے حاضری کے خانہ میں دستخط سے روک دیا کیونکہ وہ پندرہ منٹ لیٹ تھی۔بہت خوشامدوں کے بعد اس نے اس شرط پر اسےاپنی حاضری درج کرنے دی کہ آج وہ چھٹی کے بعد سزاکے طور پر آدھا گھنٹہ دیر تک کام کرنے پر ہی پگار کی حقدار ہوگی۔دن بھر وہ بچے کی بیماری کے بارے میں سوچتی اور دل پر جبر کرکے کام کرتی رہی۔
        شام کے پانچ سارےمزدور اپنے گھروں کوجاچکے تھے۔سکھیاجب اپنے کام سے فارغ ہوکر ٹھیکیدار سےاپنی آج کی پگار لینے پہنچی تو وہ آفس مقفل کرکے جاچکا تھا۔وہ تھوڑی دیر سکتہ کے عالم میں کھڑی رہی ۔آج تو اسے پیسہ کی زیادہ ضرورت تھی۔ چوکیدار سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ٹھیکیدار سب کو تنخواہ بانٹ کر یوم مئ کی تقریب میں شرکت کے لئے گیا ہوا ہے ۔اسے مائک سے گانے کی آوازیں تو سنائ دی تھیں لیکن اس نے یہ سوچا تھا کہ شاید یہ کہیں شادی بیاہ کا سلسلہ ہو۔
        اسے دور سے ہی سڑک پر بےشمار چمچماتی ہوئی گاڑیاں نظر آئیں۔آگے بڑھنے پر میدان میں ایک بہت بڑا ٹنٹ نصب تھا۔ٹنٹ کے گیٹ ایک بہت بڑا سا بینر آویزاں تھا۔ اس بینر کی عبارت تو وہ پڑھ نہیں سکی لیکن اس پر بنی ہوئ تصویر سے یہ اندازہ ضرور لگالیا کہ ٹھیکیدار یہیں مل سکتا ہے۔
          وہ ہمت کرکے آگے بڑھی۔کہیں سےتازےپکوانوں اور گرم کافی کی خوشبوؤں نے اس کا استقبال کیا۔وہ سائڈ سے چل کر گیٹ پر پہنچی تو اتفا قا” اسے ٹھیکیداراندر داخل ہوتے ہوئے نظر آگیا۔
      ” صاحب ! صاحب ! ارے وہ میری پگار۔ ذراسنئے ۔بتایا تھا نہ۔میرا بچہ بیمار ہے.” سکھیا نے اس قریب جاکر کہا۔
        ٹھیکیدار نے اسے گھورا اور ڈیوٹی کانسٹبل کو اشارہ کیا کہ اس عورت کو باہر نکالو۔
         سکھیا سر جھکائے ہوئے بوجھل قدموں سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
     ” یوم مئ زندہ باد۔مزدور دوس امر رہے۔”
        اسٹیج سے کسی نیتاجی کے یہ نعرے گونج رہے تھے۔
     
          رضیہ کاظمی
          نیو جرسی
         یوم مئ ۲۰۱۶
اپنا تبصرہ لکھیں