[06:40, 16.8.2025]
Gull Bahar Bano:
یوم پاکستان کے موقع پر کی گئی ایک دل افروز گفتگو
السلام علیکم کیسے ہیں آپ؟
وعلیکم السلام جی میں ٹھیک اللہ کا شکر ہے۔
سوال:-کیا نام ہے آپ کا ؟
جواب:-میرا نام محمد ارشد محمود ہے.
سوال:-ارشد صاحب مجھے بتائیں کس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں آپ؟
جواب جی میرا تعلق کاشت کاری کے شعبے سے ہے۔
ماشاءاللہ
سوال:- اپ کس علاقے کے رہائشی ہیں؟
جواب:-جی میرا تعلق ہرن پور سے ہے
سوال:-جی ٹھیک چند سوالات کرنا چاہتی ہوں آپ سے سروے سے متعلق
کیسا سروے؟
پاکستان کے بہادروں کے حوالے سے
جی پوچھیئے
سوال:-جی ٹھیک میرا پہلا سوال ہے اپ سے کیا آپ بہادر ہیں اگر ہیں تو کوئی قصہ سنائیں ؟
جواب جی ایک دفعہ ہمارے گاؤں میں سیلاب اگیا تھا پانی اتنا تیز تھا کہ گھروں کی دیواریں گرنے لگی تھیں جب میں نے دیکھا کہ ایک گھر میں دو بچے اور ان کی دادی گھر کے اندر پھنسے ہوئے ہیں تو میں بغیر سوچے سمجھے ان کی طرف دوڑ گیا پانی کمر سے اونچا تھا ۔اور پانی کا بہاؤ…
[06:49, 16.8.2025] Gull Bahar Bano: میں نے ایک ایک کر کے بچوں کو کندھے پر اٹھا کر باہر نکالا پھر ان کی دادی ماں کو بھی بچا لیا اس دوران ہوا یوں کہ پانی کا بہاؤ اتنا بڑھ گیا کہ میرا خود کا پاؤں پھس گیا مگر میں نے رسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ورنہ میں نے بھی بہ جانا تھا جتنا پانی کا تیز بہاؤ تھا اس وقت ہو گیا ہے اج بھی لوگ مجھے ملتے ہیں تو یاد کرتے ہیں کہ اپ بہت بہادر ہیں اپ نے اگر مدد نہ کی ہوتی تو وہ بچے اور ان کی دادی ماں پانی میں بہہ جاتے میرا خیال یہ ہے کہ بہادری کی یہ وہ مثال تھی جہاں نہ وردی تھی۔ نہ ہتھیار تھا ۔بس انسانیت کا جذبہ تھا ۔اور دوسروں کو بچانے کی لگن تھی۔
ماشاءاللہ بہت خوب
سوال:-میرا اپ سے دوسرا سوال یہ ہے کہ اپ کے خیال میں اج کے دور میں بہادری کی کیا مثال ہے؟
جواب:-دیکھیں میرے خیال میں بہادری صرف ہتھیار کا اٹھانا نہیں اور دشمن کے سامنے کھڑے ہونا ہی نہیں ،بلکہ یہ کئی شکلوں میں نظر آ سکتی ہے۔ سچ بولنا جب سب خاموش ہوں، یہ بھی بہادری ہے جب سب غلطی کو نظر انداز کر رہے ہوں۔ اور آپ حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ یہ بھی بڑی ہمت اور بہادری کی بات ہے ظلم یا نا انصافی کے لیے بولنا لوگ آپ کو چاہے تنہا چھوڑ دیں ۔کسی کمزور کا ساتھ دینا بھلے آپ کو مشکل یا بڑے سے بڑے نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنے پڑیں۔
سوال:-اچھا مجھے بتائیں دنیا کے کوئی سے چند بہادروں کی مثالیں جو آپ خود جانتے ہوں؟
جواب:- یہ تو بڑا اچھا سوال کیا اپ نے ایک حادثہ ہوا تھا۔ مجھے خود پتہ ہے۔ ہوا یوں کہ خانیوال کے قریب ایک ٹرین میں ڈرائیور نے بریک اور ہارن کا استعمال کرتے ہوئے آخری لمحے میں کئی مسافروں کو چھلانگ لگا کر بچنے کا موقع دیا ،اور خود آخری وقت تک ٹرین میں رہا۔ ایسے بہادر بہت کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ دیکھ لیں عبدالستار ایدھی جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی، ایسی زندگی گزاری جس میں دوسروں کی مدد کی، انہوں نے جوانی سے ہی عیش عشرت کو چھوڑ کر غریبوں یتیموں اور بیماروں کی خدمت کی ۔جب بھی کہیں حادثہ پیش آتا تو وہ سب سے پہلے پہنچتے بھلے کتنا بڑا خطرہ ہی کیوں نہ ہو وہ بہادر اور نڈر انسان تھے۔ ایسے بہادر قوم کا فخر ہوتے ہیں؟ اسی طرح آپ دیکھ لیں ملالہ یوسف زئی کو کہ جن کا تعلق سوات سے تھا۔ تو وہاں شدت پسند تعلیم کے خلاف تھے۔ اور لڑکیوں کو سکول جانے سے روکتے تھے۔ تب ملالہ یوسف زئی جیسی بہادر بچی نے آواز بلند کی وہ صرف طلبہ تھی۔ مگر انہوں نے ٹی وی اور ریڈیو پر لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بات کی۔ اکتوبر 2012 میں جب وہ سکول سے واپس آ رہی تھی ۔تو شدت پسندوں نے ان پر حملہ کیا اور انہیں گولی لگی اور یہ واقعہ دنیا بھر میں مشہور ہوا مگر انہوں نے صحت مند ہونے کے بعد دوبارہ جدوجہد کو مزید آگے بڑھایا ملالہ کی بہادری یہ ہے۔ کہ انہوں نے خوف کے باوجود اپنی تعلیم کا حق نہیں چھوڑا ۔بلکہ پوری دنیا کی بچیوں کے لیے آواز بن گئی۔
[07:01, 16.8.2025] Gull Bahar Bano: سوال:-
آپ اپنے علاقے کے یعنی ہرن پور کہ کسی بہادر سپوت کو جانتے ہوں اور ان کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں تو؟
جواب:-
جی ہمارے علاقے ہرن پور کے ایک بہادر سپاہی جن کا نام سید ذوالقرنین حیدر تھا۔ جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر قربانی دی۔ وہ ایک فرض شناس سپاہی تھے۔ جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ بلوچستان فرنٹیئرز کور (FC) کے جوان کی حیثیت سے خدمت سرانجام دینے والے شہید ذوالقرنین عسکریت پسندوں کے حملے کے دوران لازوال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا جسد خاکی جب ہرنپور پہنچا، تو نوجوانوں بزرگوں اور پوری آبادی نے پھولوں کے ساتھ استقبال کیا۔ نماز جنازہ میں رینجرز اور ایف سی کے افسروں نے شرکت کی اور فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ اہل علاقہ کا پیغام یہ تھا۔ کہ جنہوں نے اپنی جان دے کر اہل وطن کی جانیں بچائی ان کی بہادری کو سلام اور ان کی بہادری کی قربانیوں آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

ہرن پور تحصیل پنڈ دادن خان کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے ـ-اس معزز کاشت کار کی سچی کہانی سن کر میرے اندر بھی بہادری کی لہر پیدا ہوئی وہ لہر ،وہ جذبہ ،وہ اعتماد ،وہ بھروسہ ،وہ یقین جس کے ذریعے میں نے سیکھا کہ:
بغیر کسی لالچ کے کام کرنا
انسانیت کی فلاح
انسانیت کی خدمت
میں نے سیکھا کہ بامراد ہو گیا وہ جو دوسروں کے لیے اپنی خدمات بغیر کسی غرض کے انجام دےـ-
سلام ہو اس بہادر کاشت کار پر جس نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دوسروں کی جان بچائی
ایسے سپوت اگر میرے وطن میں موجود ہیں تو میرے وطن پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا —
ضلع جہلم کے تمام قصبوں کے لوگ بہادر ہیں۔اور اس علاقے کو بہادروں کی سر زمین کہا جاتا ہے اس علاقے میں سے زیادہ تعداد میں لوگ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں