ہدہد اور انسان

خیال : ڈاکٹر شہلا گوندل

میں ہد ہد ہوں
نہ آواز میں موسیقی
نہ اڑان میں تمہارے تخیل سی پرواز
لیکن میں وہ ہوں
جسے ایک نبی نے پہچان لیا
اور جس نے ایک قوم کو بدلتے دیکھا

میں پرندہ ہوں
مگر میری چونچ صرف جسم کا حصہ نہیں
ایک خوردبین ہے
ایک ہتھیار ہے
ایک اوزار ہے
میں لکڑی پر ٹھونک مار کر
رازوں کے دروازے کھولتا ہوں
ہر ٹھونک، ایک مساوات ہے
جیسے نیوٹن کی کششِ ثقل کو
کسی نبی کی نگاہ نے بھانپ لیا ہو

میرے ہر وار میں

 چار ہزار گریویٹیشنل ایکسلریشن

 چھپے ہوتے ہیں لیکن
نہ کوئی چٹختی ہڈی
نہ بہتا خون
کیونکہ میرے خالق نے
مجھے خود اپنی حکمت سے بنایا
میری کھوپڑی

sponge

سے بھری ہے
میری چونچ

layered structure

رکھتی ہے
اور میری زبان…
وہ دماغ کے گرد لپٹی وہ کائناتی بفر ہے
جو ہر جھٹکے کو جذب کرتی ہے
جیسے کائنات کی خاموشی
آواز کو نگل جاتی ہو

میرے ہر ٹھونک پر
وہ قوت اُترتی ہے
جو انسان ایک پل بھی سہہ نہیں سکتا

اور میں یہ سب
یوں سہہ جاتا ہوں
جیسے
ایک ذرّہ دھوپ میں سجدہ ریز ہو

انسان؟
ایک جی پر عام حالات
تین جی پر سانس میں دشواری

پانچ جی پر دنیا گھومنے لگتی ہے

نو جی  کوایک لمحہ برداشت نہیں کر سکتا

اور میں؟
ہر لمحہ
بلیک ہول جیسی کشش کو
اپنی چونچ سے درخت کی چھاتی پر اتارتا ہوں
بغیر کسی کپکپاہٹ کے
بغیر کسی چیخ کے

میں زمین کے نیچے دوڑتی مقناطیسی لکیر کو محسوس کرتا ہوں
جیسے تم قبلہ کی سمت جانتے ہو
ویسے میں ہر سمت کا راز جانتا ہوں
تم کہتے ہو:
Fe3O4 )Magnetite)
میں کہتا ہوں: ہدایت

میں ملکِ سبا گیا
جہاں سجدے کی سمت ظاہریت پر تھی
وہاں سجدہ روشنی کو دیا جاتا تھا
مگر روشنی بھی تو مخلوق ہے
خالق تو وہ ہے
جو امر کو بھی “کُن” کہہ کر چلاتا ہے

میں واپس آیا
میری چونچ تھکی نہیں تھی
میرا پر گرد آلود نہ ہوا
کیونکہ میں صرف ہوا میں پرواز نہیں کرتا
میں سچ کی لہروں پر سفر کرتا ہوں

میں نے حضرت سلیمانؑ کو خبر دی
اور انہوں نے کہا:
ہم دیکھیں گے
کیا وہ عقل رکھتی ہے؟
یا بس آنکھوں سے دیکھ کر جھکتی ہے؟

یہ وحی کا مکالمہ تھا
جس میں میں وسیلہ بنا
میں نہ نبی تھا
نہ عالم
لیکن میں قاصد تھا
وہ قاصد
جس کی ہر حرکت
تمہارے علمِ حیاتیات
علمِ طبیعیات
اور علمِ کائنات کو جھنجھوڑ دیتی ہے

میں تمہیں یاد دلانے آیا ہوں
کہ

design blind

نہیں ہوتا
اتفاقات

layered protection

نہیں رکھتے
اور قدرت کا انجینئر
کوڈ نہیں لکھتا
وہ تخلیق کرتا ہے
شکل دیتا ہے
روح ڈالتا ہے

میں ہد ہد ہوں
ایک آیت
ایک دلیل
ایک علمی سوال
جو پر رکھتا ہے
پریشر سہتا ہے

ثقلی اسراع سے چار ہزار گنا زیادہ اسراع کے ساتھ بھی
اپناتوازن برقرار رکھتا ہے
جیسے وحی اور عقل کے درمیان
ایک خاموش پُل

تو سنو
میں وہ پرندہ ہوں
جو نہ صرف ہوا کو چیرتا ہے
بلکہ وقت کو بھی
میں اس لمحے سے آیا ہوں
جہاں علم، حیرت، اور سجدہ
ایک ہی نکتے میں جمع ہو جاتے ہیں

میرے اندر جو آہنگ ہے

وہ صرف طبیعات کا نہیں
وہ ایک دعا ہے
جو میرے پروں اور
چونچ کی حرکت میں چھپی ہے

اور اگر تم میری پرواز کوصرف

رفتار میں پرکھو

یا میری چونچ کی حرکت کا امپیکٹ ناپو
تو تم علم کے دروازے پر دستک تو دو گے
مگر داخل نہ ہو سکو گے

کیونکہ میں صرف جسم نہیں
میں ایک سوال ہوں
جو تمہاری عقل سے
تمہارے یقین تک کا فاصلہ طے کراتا ہے

میں ہد ہد ہوں
میں پیامبر ہوں
لیکن میں خود
مادے اور توانائی کے سنگم پر کھڑا
وقت کا وہ لمحہ ہوں
جسےتم جب چاہو
جہاں چاہو
واپس موڑ سکتے ہو
مگر ظاہری نہیں
فقط ایک باطنی سجدہ لازم ہے!

ہدہد اور انسان“ ایک تبصرہ

  1. اللہ تعالٰی کی حکمت قدرت سبحان اللہ بےشک اللہ الحق ھے اور ہر چیز پر قادر ھے۔
    شہلا آپ نے الفاظ میں پرو کر کمال کر دیا ھے ماشاءاللہ

اپنا تبصرہ لکھیں