[15:51, 26.6.2025]
گل بہار بانو ضلع جہلم
Guul Bahar Bano:

ڈسٹرکٹ جہلم کی کل آبادی 12,22,650 ہے اس بات کا تخمینہ لگانے کا مقصد جہلم میں موجود لاکھوں کی تعداد میں لوگ مقیم ہیں ۔جس میں 50 فیصد آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ پانی، بجلی ،گیس کی رسائی کسی بھی علاقے کی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہاں چند اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
*گیس کے نئے میٹر پر پابندی:-
پنجاب کے اتنے بڑے علاقے جہلم جہاں لاکھوں لوگ آباد ہیں پچھلے چھ سالوں سے گیس کے نئے میٹرز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ڈھیروں درخواستیں (SSGC)
(Sui southern Gas company)
کے ادارے میں دی گئی, مگر گیس کے میٹرز پر پابندی ہٹانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی. اگر گیس کے نئے میٹرز لگانے پر توجہ دی جائے تو دیے گئے مسائل کا حل ممکن ہے.
*گیس کی بے تحاشہ لوڈ شیڈنگ:-
جہلم کے بہت سے قصبے اور گاؤں میں گیس کی رسائی ناممکن ہے۔ اور جہاں گیس موجود ہے ۔ وہاں لوڈ شیڈنگ کے مسائل درپیش ہیں۔ سردیوں کے موسم میں گیس بند ہونے کے سبب لوگ لکڑیاں جلا کر گزارا کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں گرمی بہت زیادہ پڑتی ہے۔ اسی طرف سردی کی شدت بھی زیادہ ہوتی ہے شدید سردی دھند، اور برستی بارش میں گیس نہ ہونے کی صورت میں کھانا بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح گرمیوں میں بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہونے کے سبب لوگ اگ جلاتے ہیں جس سے بہت سے مسائل سامنے آتے ہیں۔
*میٹرز نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے ذرائع کا استعمال:-
پانچ گھروں کے گیس کا کنکشن صرف ایک میٹرز پر ہونا، اور اوپر سے لوڈ شیڈنگ ہونا ان پانچ گھروں میں سے اگر ایک گھر بھی سپلائی استعمال کرے۔ تو باقی چار گھروں میں گیس نہیں ہوتی باقی کے گھر سلنڈرز، ڈیزل والا چولہا، لکڑیاں وغیرہ خرید کر گزارہ کرتے ہیں۔ جس سے اپ ادمی اور مزدور طبقہ بہت پریشان بھی خرید دیتا ہے۔
*گیس کے بل اور عام آدمی:-
اگر ہر گھر کا الگ میٹر ہوگا تب بل بھی مناسب آئے گا ۔لیکن اگر ایک میٹر اور پانچ گھر ہوں گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بل 50 ہزار سے 70 ہزار ا جائے تو عام ادمی کے چہرے پر پریشانی کے اثار صاف دکھائی دیتے ہیں ایک مزدور ادمی جو دو وقت کی روٹی کے جتنا کماتا ہے اس کے لیے ماہانہ آٹھ ہزار سے 10 ہزار بل ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان تمام مسائل کے حل پر توجہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔گیس کے پائپ لائنز بچھائی جائیں اور نئے میٹرز کی منظوری بھی دی جائے اور قصبے اور گاؤں دیہات میں گیس کی رسائی کو ممکن بنایا جائے تاکہ عام شہری کو زندگی کی سہولیات میسر ہو سکیں۔

میرا تعلق جہلم کی بہت بڑی تحصیل پنڈ دادنخان سے ہے ۔اور یقین جانئے کے سردیوں کو چھوڑیں گرمیوں میں بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور بل تو اتنے زیادہ آتے ہیں کے گزارہ کرنا مشکل ہوتا ہے
یہ بات درست ہے کہ گیس کے بلوں اور اس لوڈ شیڈنگ نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے ـ-اگر لوڈ شیڈنگ کے لیے ایک باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا جائے تو عوام کو بھی پریشانی نہ ہوـ- عوام سے بھی گزارش ہے کہ گیس کو بلا وجہ ضائع نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی دی گئی اس نعمت کی قدر کریں
جی بلکل ایسا ہی حال ہے حکومت کو اس کی بہتری کی طرف توجہ دینی چاہیے
Bilkul aisa hi hei haqoomat ko bhot zaida tawajha denay ki zaroorat hei Allah tallah rehm farmaey aur hidayat dei Ameen