کیا اب جدائیوں‌میں‌احساس نہیں‌رہا

·
یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔؟
چھوڑ دینا بھول جانا کیا اتنا اسان ہے ؟
افسوس ۔۔
ہر نئی خبر پرانی خبر سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ جیسے ابھی عائشہ خان کا غم، ان کے بچوں کی، ان کے بہن بھائیوں کی لا تعلقی کا غم تازہ تھا کہ
حمیرا اصغر کے انتقال کی خبر اگئی ۔
جو عائشہ خان کی انتقال کی خبر سے
زیادہ سنگین اور دل دہلا دینے والی ہے سوچیں ایک جیتی جاگتی ہستی دنیا میں موجود ہے اور اسے کوئی پوچھ نہیں رہا دوستوں کو اس کی خبر ہے نہ ماں باپ کو نہ بہن بھائیوں کو ۔ حمیرا کے کئی انٹرویو میں نے دیکھے سنے جس میں حمیرا نے اپنے والدین سے محبت کی بات کی ہیں انہوں نے یہ بالکل بھی نہیں کہا کہ میرے والدین سے تعلقات ٹھیک نہیں تھے یا وہ ان سے ملتی نہیں تھیں یہی کہا کہ میں کراچی میں رہتی ہوں وہ لاہور میں رہتے ہیں ۔۔
تو پھر کیا وجہ ہوئی کہ والدین اتنے سنگ دل ہو گئے اگر تھے بھی تو کم سے کم دنیا کے سامنے تو اس نفرت کا پردہ رکھ لیتے ہیں جس طرح حمیرہ اصغر نے جیتے جی ان کا پردہ رکھا ۔۔
اقرار الحسن کے مطابق 2024 ستمبر اکتوبر کے بعد سے ان کا کسی سے کوئی
رابطہ نہیں رہا ان کے گھر میں جو کھانے پینے کی چیزیں ملی ہیں ان میں ایکسپائری ڈیٹ درج ہے ۔ 2024
دوستو ! کیا ہم اتنے زیادہ خود غرض ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے علاوہ کسی کی خبر ہی نہیں ۔۔ کم سے کم اپنے ساتھی اپنے دوستوں کی تو خبر رکھیں ۔۔
مجھے کسی اور سے نہیں صرف حمیرہ کے والدین سے یہ کہنا ہے ماں باپ تو بچوں کی عیبوں پہ سو پردے ڈالتے ہیں آپ نے یہ کیا کِیا ۔
کیا قیامت کے روز صرف اولاد سے ہی سوال ہوں گے ماں باپ سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا بہن بھائیوں سے حق تلفی کا کوئی سوال نہیں کیا جائے گا ۔
حقوق العباد کیا ہے ؟
صلہ رحمی کس کو کہتے ہیں ۔۔؟
یہ ہم سب کے لیے ایک سوال ہے ۔۔ کیا قیامت واقعی قریب آ چکی ہے اتنی قریب کہ ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر سمجھ نہیں رہے ۔
کل عائشہ خان کی موت ہمیں لرزا رہی تھی آج حمیرا کی موت نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں تو کیا آنے والا دن ان خبروں سے پاک ہوگا ؟
ہرگز نہیں اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو یہ خبریں عام ہوتی جائیں گی ۔۔
یہ غم صرف شوبز میں کام کرنے والوں کا نہیں ہے ۔ کسی کے بھی گھر کا ہو سکتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ شوبز کے تمام واقعات ہم تک با آسانی پہنچ جاتے ہیں، عام گھر کی کہانی گھروں میں دب کے رہ جاتی ہے ۔
خدارا اپنے رویے بدلیں ۔۔
اپنوں سے بے خبر نہ رہیں ۔
دنیا مکافات عمل ہے ۔۔ اور یہ بہت تکلیف دہ سچائی ہے
دلشاد نسیم ۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں