کون کہتا ہے کہ ملاقات نہیں ہوتی

selected by
Tariq Shah
کون کہتا ہے کہ ملاقات نہیں ہوتی
 روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی
 
 اسی طرح: کون کہتا ہے کہ سگریٹ پینے کے صرف نقصان ہی نقصان ہیں،فائدہ کوئی نہیں؟ ہمارے للو میاں کی اپنی جوروسے حکیمانہ گفتگو سنیں تو آپکو بھی پکا یقین ہو جائیگا کہ سگریٹ صرف نقصان دہ ہی نہیں بلکہ بہت ہی فائدے اور کام کی شے بھی ہے۔ یقین نہیں آرہا تو پڑھ کر دیکھیے۔
 
بیگم للو میاں جو کہ ہمیشہ کہ طرح کسی نامعلوم وجوہ کی بنا پے کئی روز سے برین لیس تھیں، للو میاں کو گھر میں سگریٹ پھوکتے دیکھ کر پھر گھیر لیا کہ : یہ کیا آپ سارا دن گھر میں سگریٹ پھوک پھوک کر ریلوے اسٹیشن یا بس اڈا بنارکھتے ہو؟ جدھر دیکھو سگریٹ کے ٹوٹے نظر آتے ہیں کہ جیسے یہاں چرسی ، موالی بستے ہوں اور میں جھاڑو دے دے کر گوڈے گٹے گھسا بیٹھتی ہوں۔ ایش ٹرے آپ استعمال نہیں کرتے، جہاں دیکھا سگریٹ پھونک کر پھینک دی۔ اوپر سے یہ آپکی کھانسی اور آئے روز کا زکام جسکا وائرل اور بکٹیریل انفیکشن دوسرے بچوں کو بھی آئے روز بیمار کیے رکھتا ہے ۔ ایک روز یہ آپکے لاڈلے چھوٹے میاں سگریٹ کی ڈبی اور ماچس میرے پاس اٹھا لائے کہ مما مجھے سگریٹ سلگا کر دو میں بھی پاپا کی طرح سے سگریٹ پیونگا! اور بڑے صاحبزادے بھی آپکی دیکھا دیکھی اکثر آپ کی ڈبیوں سے سگریٹ چرا کر باہر دوستوں کے ساتھ سگریٹ پارٹی مناتے رہتے ہیں، دیکھے ذرا کتنے ہیں نقصان آپ کی اس سگریٹ نوشی کے؟۔ للو میاں کچھ دیر تو بیگم کی چک چک بک بک سنتے رہے پھر گویا ہوئے کو دیکھو بیگم:
 
یہ سگریٹ بڑے کام کی شے ہے اور اسکے فوائد بھی بہت ہیں۔ اﷲ پاک نے کوئی بھی شے بے فائدہ پیدا نہ کی ہے۔ اب دیکھو نہ کروڑوں لوگ سگریٹ پیتے ہیں، جس سے کہ سگریٹ بنانے کی فیکٹریاں چل رہی ہیں اور لاکھوں لوگوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔ ہر سال حکومت اربوں روپے ٹیکس اس صنعت سے وصول کرتی اور ہڑپ کر جاتی ہے، جس سے کہ اسکی دال روٹی چل رہی ہے۔ سگریٹ پینے والے کو دانت صاف کرنے کو ٹوتھ پیسٹ یا منجن بھی ضرورت پڑتا ہے۔ اسطرح ان اشیاء بنانے والی فیکٹریوں کی روزی اﷲ پاک نے ان سگریٹ نوشوں کے ذریعے لگائی ہے۔کچھ لوگوں کو ریلیکس رہنے کے لیے سگریٹ کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ وہ غصے میں آکر بیگم کا سر سمیت کچھ بھی پھوڑ سکتے ہیں، لہذا فائدہ۔ کچھ لوگوں کا دماغ سگریٹ پینے کے بعد ہی کام شروع کرتا ہے، لہذا، خمیرہ گاؤزبان عنبری جواہر دار کا سا مہنگا نسخہ استعمال کرنے کی بجائے یہی کام ایک دوروپے کی سگریٹ میں پورا ہو جاتا ہے ۔ ہے نہ فائدہ!
 
ایک خبر کے مطابق امریکی صدر اوبامہ نے بیوی کے ڈر سے سگریٹ چھوڑ دی۔ ہے نہ بیوی کا فائدہ۔ ہم نے کچھ ڈرپوک قسم کے ایسے شوہر بھی دیکھے ہیں کہ جو بیوی کے ڈر سے سگریٹ پیتے ہی گھر سے باہر جاکر ہیں۔ ایک روز گھر کے باہر ایک بیگم نے میاں کو رنگے ہاتھوں سگریٹ چڑھاتے پکڑ لیا۔ میاں صاحب بیگم کو دیکھتے ہی کش کا لگایا گیا دھواں تو اندر پیٹ میں ہی سڑک گئے، پر سگریٹ نہ بجھا پائے اور گھبراہٹ اور جلدی میں جلتی سگریٹ چھپانے کے لیے قمیض کی جیب میں ڈال دی اور پھر قمیض کا ستیا ناس۔ یوں کلاتھ ہاؤس اور درزیوں کا فائدہ۔ اکثر سگریٹ پینے والوں کے کپڑوں پر جلتی سگریٹ کا ٹکڑا یا گل کرنے سے سگریٹ نوشوں کے کپڑوں میں سوراخ ہو جاتے ہیں اور وہ آئے روز رفو گر کے پاس ٹانکے لگوا رہے ہوتے ہیں۔ ہے نہ فائدہ۔مزید سنو کہ سگریٹ صرف مرد حضرات ہی نہی سوتتے، تمہاری یہ معصوم اور کئی نیک نام خواتین اور اسکول کالج کی لڑکیاں بھی اس شوق میں مردوں کا بھر پور ساتھ دے رہی ہیں اور خالی اور بھری دونوں ہی سگریٹ بڑے شوق سے پیتی ہیں۔ یقین نہ آئے تو آؤ یو ٹیوب پر انکی فل ایکشن فلمیں دکھاؤں۔ہے نہ یو ٹیوب والوں کا فائدہ!
 
اسکے علاوہ سگریٹ پینے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں۔ اسطرح بندہ دانتوں والے ڈاکٹر کے پاس جاتا آتا رہتا ہے ، جس سے کہ اسکے روزگار میں آئے روز اضافہ ہو تاہے۔ اب اتنا پیسہ ایک عام ڈاکٹر نہیں کماتا جتنا کہ دانتوں والا ڈاکٹر کما لیتا ہے۔ڈاکٹر ایک دانت ٹھیک یا صاف کرتا ہے تو اسی دوران دوسرے پر ہلکا سا رگڑا لگا دیتا ہے کہ مریض بار بار آئے اور ان دونوں کا ساتھ تا عمر برقرار رہے۔اسی طرح بہت سے لوگوں کو رفع حاجت کے لیے بھی سگریٹ کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ شوق وہ لیٹرین میں ہی پورا کرتے ہیں۔ فراغت کے بعد انہیں لیٹرین میں ایئر فریشنرضرور مارنا پڑتا ہے،تاکہ بیگم کی مار سے بچے رہیں۔ لہذا ا ن فریشنر والوں کی کمائی۔ کچھ لوگ جیب میں الائچیوں کی ڈبی بھی رکھتے ہیں کہ سگریٹ سے فراغت پاتے ہیں الائچی منہ میں ڈال لی کہ باس کے آگے بات کرتے سگریٹ کی باس نہ آئے، الائچیوں والوں کا فائدہ۔ تاہم کچھ لوگ سگریٹ اتنا انوولو ہو کر پیتے ہیں کہ انکے انگ انگ اور کپڑوں وغیرہ میں سے بھی سگریٹ کی باس آ رہی ہوتی ہے۔ اسکے لیے ایک صاحب کافور کے جیسے عطر کی شیشی ہر وقت جیب میں رکھتے ہیں اور ہر سگریٹ سے فراغت کے بعدتھوڑا سا عطر کا لیپ دے لیتے ہیں، تو ہوا نہ عطر بنانے والوں کا فائدہ۔
 
بد نام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا: اب تم ہی بتا ؤ کہ اگر لوگ سگریٹ نہیں پئیں گے تو دل کے مریض کیسے بنیں گے؟ اور پھر اسطرح ہفتہ واری یا ہر پندھرواڑے دل والے ڈاکٹر کے پاس جا کر اسکا روزگار بھی چلانا ہوتا ہے ۔ دل کی اسی فیصد بیمار یاں سگریٹ نوشی سے ہوتی ہیں۔ اگر لوگ سگریٹ پینا چھوڑ دیں تو یہ دل والے دلہنیا ، مطلب پیسا کہاں سے کمائیں گے ، اور کہاں جائیں گے؟ اور پھر ان ڈاکٹروں سے ہزاروں لوگ لنک ہوتے ہیں۔ مثلا: آپریشن تھیڑ میں کام کرنے والے، آپریشن کی اشیاء بنانے والے، انجیوگرفی، انجیو پلاسٹی ، بائی پاس کا سامان بنانے اور دیگر ادویات بنا نے والے آخر کہاں سے روٹی شوٹی کھائیں گے۔ ہم سگریٹ نہ پئیں تو یہ لوگ فاقوں مر جائیں گے جو کہ ہمیں گوارا نہیں ۔مزید یہ کہ سگریٹ نوش لوگ جو روٹی کی بجائے ماہانہ سینکڑوں گولیاں کھاتے ہیں انکے بناے والو ں کا کیا بنے گا؟پھر انسے ریلیٹڈ لوگ، میڈیکل اسٹور والے، دوائیاں سیل کرنے والوں کی روزی کا کیا بنے گا؟ہے نہ فائدہ!
 
ارے ہاں ایک اور فائدہ تو بھول ہی گیا کہ سگریٹ پینے سے سانس کے مریضوں میں اضافہ، کھانستے ، غراتے، بلغم نکالتے ، نابولائز ہوتے، پف لیتے مریضوں کا پھیپھڑوں والے کے ڈاکٹر کے پاس رش۔ ڈاکٹر کی تمام انگلیاں اور سر دیسی گھی کی کڑاہی میں ۔ غرضیکہ سگریٹ کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ ڈاکٹر تک جانے کے لیے گاڑی ، ڈرائیور، ڈیزل ، پٹرول کی ضرورت، اس طرح روزگار کے مواقع، ڈیزل ،پٹرول کی کھپت سے حکومت کو اضافی آمدنی، ریفائنریوں کا فائدہ ہی فائدہ۔
 
بہت سے لوگ دل کی اور سگریٹ سے لگی دوسری بیماریوں کے لیے حکیم اور ہومیو ڈاکٹروں کے پاس بھی جاتے ہیں۔ اگر مریض کم پڑ گئے تو انکے روزگار کا کیا ہوگا کالیا۔ اسکے علاوہ ہو میو ادویات تو جرمنی، آسٹریا اور فرانس تک سے آ تی ہیں ہیں، تو گورے تو بھوکے مر جائیں گے اگر ہم لوگوں نے سگریٹ چھوڑ دی تو ۔ اور یہ کہ ہمارے دو نمبر بھائی جو گھروں میں دو نمبر ادویات بنا کر دوسروں کو مزید بیمار کرتے اور خود جہنم کماتے ہیں تو انکا کیا بنے گا؟۔ اسکے علاوہ یہ کہ سگریٹ پینے والے کچھ لوگوں کو تو بلکل بھوک ہی نہیں لگیتی اسطرح وہ روٹی کم کھائیگا، انکے گھر کے ا خرااجات میں کمی، کیسا؟ہے نہ ایک اور فائدہ۔کبھی کبھار کسی شوہر کی بیوی صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے اسکا گھر چھوڑ جاتی ہے، میاں کی خوش نصیبی۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ چوکھا آئے۔ ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔اچانک کبھی کوئی زخم لگ جائے اور کوئی دوا دستیاب نہ ہو تو سگریٹ پی کر اسکا گل زخم پر لگا دو ، زخم ٹھیک، ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔بچوں سے کبھی سگریٹ منگاؤ تو باقی کی رقم کبھی نہیں لوٹاتے اور اپنی جیب گرم رکھتے ہیں۔ ہے نہ بچوں کا فائدہ۔سگریٹ کی خالی ڈبیوں سے مختلف قسم کے شاہکار بنائے جاتے ہیں، ہے نہ فائدہ۔مچھر اگر کسی بھی دوائی یا سپرے سے نہ بھاگ رہا ہو تو سگریٹ کی دھونی دے دو، نظر ہی نہیں آئے گا۔ ہے نہ فائدہ۔
 
اسکے علاوہ اور فوائد سنو: کسی بھی نشئی کو ایک سگریٹ میں مال بھر کر پلادو اور سارا دن جو مر ضی آئے کراتے رہو۔ فائدہ ہی فائدہ۔ اشتہاری کمپنیاں آئے روز نئے نئے اشتہائی اشتہار بازی سے کروڑوں کما رہی ہیں اور ہزاروں لو گ وا بستہ، تو انکا فائدہ۔ ماڈل ، اداکار اور اداکاراؤں کی روزی روٹی۔ ٹی وی ، ریڈیو ، اخبارات اور رسائل میں مشہوری سے انکے روزگار میں لگے لوگوں کا فائدہ۔کوئی کام نہ ہو تو سگریٹ پیو ، ساتھ چائے پیوٹائم پاس کرنے کا اچھا نسخہ۔ پھر بیمار ہوکر ڈاکٹر کے پاس ، مذکورہ تمام فوائد پھر ایک بار پھر!تمباکو اگانے والے زمینداروں کے تو وارے نیارے ہوتے ہیں کہ سگریٹ کا تمباکو اگاؤ اور لاکھوں کماؤ، گھر کے لیے مفت لاؤ، حقے میں ڈالو اور سوٹے لگاؤ۔ ساتھ ساتھ زمینوں پر کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کا فائدہ کہ انہیں بھی حقے کے لیے تمباکو زمینوں سے فری مل جاتا ہے۔ ہے نہ فائدہ۔
 
اسی طرح آجکل ٹرپل فائیو یا گولڈ لیف کی سگریٹ کی ڈبی جیب میں رکھنے اور پینے کو مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے کئی لونڈوں کوگلی کے نکڑ پر اسٹا ئل اور ایکشن میں سگریٹ پی کر لڑکی پٹاتے بھی دیکھا ہے! تو ہے نہ فائدہ۔سگریٹ کی ڈبی بنانے والے پریس والوں کا فائدہ، مارکیٹنک کمپنیوں کا فائدہ، پان والوں کافائدہ کہ بہت سے لوگ پان سگریٹ اکٹھے چلاتے ہیں۔پھر پان اگانے والوں کا فائدہ، پان میں ڈالنے والے دیگر لوازمات بنانے والوں کا فائدہ۔ بہت سے حضرات سگریٹ میں مختلف مصالحہ؟؟؟؟؟ جات بھر کر پیتے ہیں، لہذا ان مصالحے؟؟؟؟ بنانے والوں کا فائدہ۔گھر میں ابا سگریٹ کی وجہ سے بار بار بیمار، بچوں کی عیش در عیش۔ ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔سگریٹ سلگانے کے لیے ماچس اور لائٹر کی ضرورت ، انکے بنانے والوں کا فائدہ۔
 
مزید فائدے یہ کہ کسی بڑے عہدے کے بندے سے اگر کام نکالنے ہوں اوروہ سگریٹ کی لت میں مبتلا ہوں تو دوچار ڈنڈے اچھی سی سگریٹ برانڈ کے اس تک پہنچادیے جائیں تو کام نکالنے میں آسانی، ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔سگریٹ کی ایک جدید شکل سگار ہے اور یہ بڑے لوگوں کا مرغوب نشہ ہے۔ کولمبیا یا ارجنٹائن سگار کے دو چار پیکٹ کسی افسر کو ٹکا دو تو مہینوں کا کام دنوں میں انجام۔باہر کے ممالک سے آنے والے ہمارے پاکستانی بھائی اپنے دوستوں کو رام اور راضی کرنے کو سگریٹ کے بڑے بڑے ڈنڈے لاکر تحفے میں دیتے ہیں ۔ ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔ جوانی میں ایک بار ہمیں ہانگ گانگ جانے کا اتفا ق ہوا ۔ وہاں سے بائی ٹرین چین جانے لگے تو ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ واپسی پر فلاں سگریٹ کے کچھ درجن پیکٹ لاکر ہانگ کانگ میں بیچ دینا ، آنے جانے کا خرچہ نکل آئیگا۔پھر ہم نے ایسا ہی کیا۔ ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔بچپن میں ہم لوگ پرانی سگریٹ کی ڈبیوں کے تاش بنا کر ان پر پیسے لگا لگا کر کھیلا کرتے تھے اور اچھی خاصی دیہاڑی بن جاتی تھی۔مرا ہاتھی سوالاکھ کا کے مصداق سگریٹ کی تو خالی ڈبی بھی کار آمد تھی۔آجکل بھی بیچارے کوڑا چننے والے ان ڈبیوں کو چن کر بیچتے اور روزی کماتے ہیں اورہیرو ئنچی حضرات کے لیے اس سگریٹ کی ڈبی کی پنی نشہ کرنے کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ہے نہ فائدہ ہی فائدہ۔
 
بیگم للو میاں نے اتنے سارے فائدے سنے تو للو میاں کو کہا کہ لاؤ پھر ایک سگریٹ میرے لیے بھی لگادو اور تما م بچوں کو بھی صبح دوپہر شام پلاؤ تاکہ مزید لوگوں کا فائدہ اور بھلا ہو۔للو میاں بیگم کی یہ بات سن کر کچھ سٹپٹا سے گئے اور فورا ہی سیاستدانوں کی طرح اپنے دیے گئے تمام بیانات سے مکر گئے کہ سوری بیگم وہ سب تو بس ایویں ہی جھوٹ تھا، ورنہ سگریٹ کے تو صرف نقصان ہی نقصان ہیں۔ ویسے صرف تم، صرف تم چاہو تو بھری ہوئی سگریٹ کی عادت لگا لو تاکہ بیماریوں کا مجموعہ بنکر جلد اوپر سدھار کر میر ی جان چھوڑ سکو! اسکے بعد ٹام اینڈ جیری کی طرح للو میاں آگے آگے اور بیگم بیلن لیکر ا سکے پیچھے پیچھے ! مزید بتانا بھی ضروری ہے کیا؟؟؟
اپنا تبصرہ لکھیں