کربلا کے پس منظر کا اجمالی جائزہ

کربلا کے پس منظر کا اجمالی جائزہ

اسلام کی تاریخ کا سب سے دردناک اور دل سوز واقعہ “واقعہ کربلا” 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا، جب نواسۂ رسولؐ، امام حسینؑ بن علیؑ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے حق، عدل اور دینِ محمدی کے تحفظ کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔ امام حسینؑ اپنے اہلِ بیت اور اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور وہاں سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، لیکن کوفہ پہنچنے سے قبل کربلا میں ان کا راستہ روک لیا گیا اور 10 محرم کو ان کے قافلے کو شہید کر دیا گیا۔


10 محرم کے بعد – 11 محرم الحرام کی صبح

جب 10 محرم (یومِ عاشور) کے غروبِ آفتاب کے بعد رات چھا گئی، کربلا کا میدان شہداء کے خون سے تر تھا۔ امام حسینؑ سمیت ان کے 72 جانثار ساتھی شہید ہو چکے تھے۔ 11 محرم کی صبح اہلِ حرم کے لیے ایک نئی آزمائش لے کر آئی۔ شہداء کی لاشیں بے گور و کفن زمین پر پڑی تھیں۔ دشمنوں نے اپنے گھوڑوں کو لاشوں پر دوڑایا، خاص طور پر امام حسینؑ کے جسمِ اقدس کو پامال کیا گیا۔


11 محرم کا آغاز

قافلہ اسیران کی حالت

امام حسینؑ کی شہادت کے بعد امام زین العابدینؑ (جو شدید بیمار تھے) ہی قافلہ اہلِ بیت کے واحد مرد زندہ تھے۔ حضرت زینبؑ، حضرت امِ کلثومؑ، حضرت سکینہؑ، حضرت ربابؑ، حضرت فاطمہ بنت حسینؑ، اور دیگر بیبیاں اسیر ہو چکی تھیں۔ یزیدی لشکر نے ان پاکیزہ خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر ان کے خیموں کو جلایا، اور ان کے زیورات لوٹ لیے۔


شہدائے کربلا کی تفصیلات

1. امام حسینؑ بن علیؑ

نواسہ رسولؐ، سیدالشہداء، عدل و صداقت کے علمبردار، جنہوں نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا۔

2. حضرت علی اکبرؑ

امام حسینؑ کے جوان بیٹے، جو حسنِ سیرت و صورت میں رسولؐ اللہ کے مشابہ تھے۔ آپ نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی دشمنوں کو جہنم واصل کیا۔

3. حضرت علی اصغرؑ (عبداللہ بن حسین)

چھ ماہ کے معصوم شیر خوار، جنہیں امام حسینؑ نے پانی کے لیے دشمن کے سامنے پیش کیا، لیکن حرملہ نے ان کے گلے پر تیر مار کر شہید کر دیا۔

4. حضرت عباسؑ بن علیؑ

علمدارِ کربلا، امام حسینؑ کے بھائی، جنہوں نے پانی لانے کے لیے علم اٹھایا اور دریائے فرات کے کنارے شہید ہوئے۔ ان کی وفاداری ضرب المثل بن گئی۔

5. حضرت قاسمؑ بن حسنؑ

امام حسنؑ کے کم سن فرزند، جنہوں نے امام حسینؑ سے لڑنے کی اجازت لے کر جوانمردی سے دشمن کا مقابلہ کیا۔

6. حضرت عون و محمدؑ

حضرت زینبؑ کے بیٹے، جنہوں نے اپنی کم عمری کے باوجود دشمن کے کئی سپاہیوں کو واصلِ جہنم کیا۔

7. حضرت مسلم بن عقیل کے فرزند

جنہوں نے اپنے والد کی شہادت کے بعد امام حسینؑ کا ساتھ دیا اور کربلا میں شہید ہوئے۔

8. حبیب بن مظاہرؑ

امام حسینؑ کے پرانے دوست اور جاں نثار صحابی، جنہوں نے بڑھاپے کے باوجود دشمنوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

9. زُہیر بن قینؑ

پہلے امام حسینؑ سے دور تھے، پھر قلب بدل گیا اور وفادار بن کر کربلا میں شجاعت کا مظاہرہ کیا۔

10. دیگر اصحاب

نصر بن مزاحم، مسلم بن عوسجہ، جون (آزاد کردہ غلام)، وہ تمام اصحاب جنہوں نے دین کی خاطر قربانی دی۔


یزیدی فوج کی حرکتیں – 11 محرم کو

11 محرم کی صبح یزید کے لشکر نے لاشوں پر گھوڑے دوڑانے کے بعد اہلِ بیت کے قافلے کو قیدی بنا کر کربلا سے کوفہ روانہ کرنے کا حکم دیا۔ امام حسینؑ کا سر نیزے پر بلند کیا گیا، دیگر شہداء کے سر بھی نیزوں پر چڑھا دیے گئے۔ قیدیوں کو رسیوں میں جکڑ کر اونٹوں پر سوار کرایا گیا۔

حضرت زینبؑ اس سارے قافلے کی رہنما بنیں۔ ان کی استقامت، بہادری اور خطبے نے دشمنوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ امام زین العابدینؑ نے قید کی حالت میں بھی دین کا پرچم بلند رکھا۔


کوفہ روانگی

کربلا سے کوفہ تک کا راستہ بیحد اذیت ناک تھا۔ خواتین کو بغیر چادروں کے، بے پردہ کر کے اونٹوں پر سوار کیا گیا۔ راستے میں لوگ تماشا دیکھنے آتے۔ بعض لوگ روتے، بعض یزید کے حق میں نعرے لگاتے۔

کوفہ پہنچ کر اہلِ بیت کو ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا۔ وہاں حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ نے تاریخی خطبے دیے جن میں انہوں نے یزید کے ظلم کو بے نقاب کیا۔


اہم واقعات جو 11 محرم کو ہوئے:

  1. لاشوں پر گھوڑے دوڑانا

  2. اہلِ حرم کو قیدی بنانا

  3. خیموں کو جلانا

  4. امام حسینؑ کا سر نیزے پر بلند کرنا

  5. قافلے کی روانگی کوفہ کی طرف

  6. حضرت زینبؑ کا قافلے کی قیادت کرنا

  7. شہدائے کربلا کی لاشوں کو دفن نہ ہونے دینا

  8. اہلِ بیت کا صبر و استقامت


11 محرم کا پیغام

11 محرم ہمیں صرف غم و اندوہ کا دن ہی نہیں بلکہ استقامت، حوصلے، صبر، اور حق گوئی کا درس دیتا ہے۔ اگرچہ یزید کی فوج نے ظاہری طور پر فتح حاصل کی، لیکن حقیقی فتح امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی ہوئی، جنہوں نے حق کے لیے جان دے دی، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا

اپنا تبصرہ لکھیں