“ڈاکٹرآئن سٹائن

ایک مرتبہ آئن سٹائن پرنسٹن سے ٹرین میں سفر کررہا تھا کہ دوران سفر ٹکٹ چیکر آیا اور ہر مسافر کے ٹکٹ چیک کرکے مہر لگانا شروع کردی-
جب وہ آئن سٹائن کے پاس پہنچا تو آئن نے اپنی شرٹ کی جیب میں اپنا ٹکٹ ڈھونڈا پر نہیں ملا، اس کے بعد پینٹ کی جیب میں تلاش کیا ٹکٹ وہاں بھی نہیں تھا، اس کے بعد اس نے اپنے بریف کیس میں دیکھا لیکن اسے نہیں ملا۔ پھر اس نے اپنے ساتھ والی سیٹ پر دیکھا۔ ٹکٹ وہاں بھی نہیں مل سکا۔
چیکر نے کہا: “ڈاکٹر آئن سٹائن، میں جانتا ہوں کہ آپ کون ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے ٹکٹ خریدا ہوا ہے۔ نہیں مل رہا تو اس کی فکر نہ کریں۔”
آئن سٹائن نے تشکرانہ انداز میں سر ہلایا۔ چیکر نے بدستور ٹکٹوں پر مہریں لگانا جاری رکھا۔ جیسے ہی وہ ٹرین کے اگلے کمپارٹمنٹ کی طرف جانے لگا اس نے مڑ کر دیکھا کہ عظیم طبیعیات دان اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ کر اپنی سیٹ کے نیچے ٹکٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔
چیکر نے واپس آکر کہا:
“ڈاکٹرآئن سٹائن ! ڈاکٹر آئن سٹائن ! پریشان نہ ہوں، میں جانتا ہوں کہ آپ کون ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں. آپ کو ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے ٹکٹ خریدی ہوئی ہے”
آئن سٹائن نے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ
” نوجوان! میں بھی جانتا ہوں کہ میں کون ہوں، بس میں میں یہ نہیں جانتا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ ”
( بحوالہ ورڈ پریس، بھول جانے والا آئن سٹائن )

اپنا تبصرہ لکھیں