ایک ایسی تحریر جو آپ کی زندگی کی تفریحات کو چار چاند لگا دے
تحریر شازیہ عندلیب
چھٹیوں کا نام لیتے ہی زہن میں رنگا رنگ تفریحات کی فلم چلنے لگتی ہے۔سوچ میں سکون لہریں لینے لگتا ہے اور دل و جاں ایک فرحت بخش احساس کے ساتھ سر شار ہونے لگتے ہں۔ اور ہو بھی کیوں نہ ۔وہ کون ہے بھلا جس کے زہن کے سلمیٰ ہال میں اس کی کوئی بھی چھٹیاں کسی دلکش، رومانٹک یا بھرپور یاد سے نہ جڑی ہوں۔ چھٹیوں کے استعمال اور افادیت کے بارے میں مختلف نظریات اور اصول وضوابط ہیں۔مگر ایک عام نظریہ یہی ہے کہ چھٹیاں آرام یا تفریح کے لیے ہی ہوتی ہیں۔مگر یہ نظریہ اتنا بھی درست نہیں ہے۔ اس موضوع پر بہت کم ریسرچ موجود ہے۔حالا نکہ یہ انسانی تاریخ کا اہم حصہ ہے اور اس موضوع پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سب سے ذیادہ چھٹیاں کس شعبہ میں ہوتی ہیں اور سب سے کم کس شعبہ میں؟
چلیں میں بتا دیتی ہوں سب سے زیادہ چھٹیاں اسکولوں میں اور سب سے کم چھٹیاں شعبہ صحت ، یعنی ہسپتالوں میں اور واپڈا کے محکمہ میں ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ ایک ایسا شعبہ بھی ہے بلکہ ہستی ہے جسے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ افسوس کی بات ہے کہ اس ہستی کو نہ صرف یہ کہ چھٹی نہیں ہوتی بلکہ اس بیچاری کو کوئی تنخواہ بھی نہیں ملتی۔وہ ہستی اپنی فل ٹائم ڈیوٹی صرف روٹی کپڑے اور مکان کے بدلے میں کرتی ہے۔
جی وہ ہستی ہے ہائوس وائف۔
اور اگر یہی کام وہ گھر سے باہر جا کر کرے اسے اچھی خاصی تنخواہ ملتی ہے۔خیر بات چھٹیوں کی ہو رہی تھی تو چھٹیاں درمیانی طبقہ کے لوگ اپنے آس پاس تفریح کے لیے جاتے ہیں جبکہ اہل ثروت لوگ دور دراز مقامات میں سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں۔سیرو تفریح نہ صرف آپ کی صحت کو اچھا کرتی ہے بلکہ آپ کے جسم کو بھی چاک و چوبند بناتی ہے۔اس سے زہن کے خیالات کو جلا ملتی ہے اور انسان کی زندگی کا اسٹینڈرڈ بلند ہوتا ہے۔
وہ لوگ جنہیں چھٹیوں میں بھی سیرو تفریح کے مواقع میسر نہیں آتے وہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔اور جنہیں چھٹیاں ہی میسر نہیں آتیں ان بیچاروں کو کیا کہا جائے؟؟
چھٹیاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں مگر سب سے مشہور موسم گرماء کی چھٹیاں ہیں۔
اردو فلک ڈاٹ نیٹ نے اپنے قارئین کے لیے ایک مفید دوروزہ آن لائن ورکشاپ کا اہتمام کیا جس میں کئی افراد نے حصہ لیا اس موضوع پر مفید عملی ٹپس سیکھیں جبکہ ان کے لیے اردو فلک کی جانب سے آن لائن ریفریشمنٹ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
اگر مزید قارئین بھی اس کورس سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں وہ کمنٹ باکس میں اپنا پیغام لکھ کر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته بہت ہی پیاری تہریر ہے واقعی جو جو اپ نے لکہا بلکل سچ اور حقیقت ہے خاتون خانا وہ واحد دنیا کی حستی ہے جسے کوئ چھٹی نہی ۔ اور اس گرمی مین جوکام وہ کرتی ہے ماشاءاللہ ۔ اور دوسری بات جس کورس کا اپ نے ذکر کیا ماشاءاللہ بہت ذبردست بہت معلوماتی اور بہت ہی شاندار تھا۔ اس گرمی کے سخت موسم میں کورس کے دو دن بہت اچھے گذزے بہت کچھ سیکھنے کوملا ۔ مستقبل کے لیے پرامید ہین کے ایندا بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملےگا۔الله حافظ اللہ نگہبان
یہ بہت اچھا موضوع ہے ہمیں گرمیوں کی چھٹیاں خوشی، آرام اور فائدہ مند کاموں کے ساتھ گزارنی چاہئیں۔
روزانہ کچھ وقت مطالعہ کرنا چاہیے۔
قرآن پاک کی تلاوت اور دعائیں یاد کرنی چاہئیں۔
صبح یا شام کھیل اور ورزش کرنی چاہیے۔
گھر کے کاموں میں والدین کی مدد کرنی چاہیے۔
نئی مفید مہارت سیکھنی چاہیے، جیسے ڈرائنگ یا کرافٹ۔
رشتہ داروں سے ملنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے۔
تفریح اور سیر کے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے۔
بہت زیادہ موبائل اور ٹی وی استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
وقت پر سونا اور جاگنا چاہیے۔
چھٹیوں کے اختتام پر ہمیں یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ہم نے آرام بھی کیا اور کچھ نیا بھی سیکھ
بہت خوبصورت تحریر ہے
چھٹیوں کا ذکر آتے ہی واقعی دل خوش ہو جاتا ہے، مگر آپ نے جس زاویے سے اسے دیکھا وہ بہت گہرا اور سوچنے پر مجبور کر دینے والا ہے۔
خاص طور پر “ہائوس وائف” والی بات دل کو لگی۔
اور یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ سیر و تفریح صرف مزہ نہیں، یہ ذہنی سکون اور صحت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ جنہیں یہ موقع نہیں ملتا وہ واقعی ہمدردی کے مستحق ہیں۔
مجموعی طور پر چھٹیوں کی اہمیت کو نئے انداز سے سمجھانے پر شکریہ ❤️
السلام علیکم!”چھٹیوں کےتفریحات اور مزے” تحریر نے بچپن کی یاد تازہ کردی۔چھٹیوں کا نام ذہن میں آتے ہی ذہن میں طرح طرح کی منصوبہ بندی پنپنے لگتی ہے چھٹیوں میں یہ کریں گے یہاں جائیں گے بہت سے کام رکے ہوئے ہوتے ھیں جنہیں ہم چھٹیوں سے منسوب کیا ہوتاہے۔اسُمیں عمر کی کوئی قید نہیں چاہے کوئی کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتا ہو اپنے اپنے حساب سے پلاننگ کرتاہے میرا ماننا ہے کہ وقت بہت قیمتی ہے ھمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے اور چھٹیوں کا دورانیہ ٹائم ٹیبل کے ساتھ گزارنا چاہئے جس میں ہر ایکٹیویٹی کے لیے وقت مختص ہو۔اللّٰہ پاک سے دعا ہے یہ وقت سب کے لیے خیر و برکت باعث بنےآمین۔
یہ تحریر بہت خوبصورت انداز میں لکھی گئی ہے ۔ اس میں شعبہ تعلیم اور صحت کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے میرے خیال سے شعبہ صحت کے لوگ 365 دن اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔اسی طرح ہمارے ارد گرد لوگوں کی اپنی شاپس ہیں وہ بھی اپنی ڈیوٹی دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے طالب علموں کے پاس اور ٹیچرز کے پاس سیرو تفریح کے لیے یہ اچھا موقع ہوتا ہے اور اس کے علاوہ طالب علموں کے پاس اچھا موقع ہوتا ہے اگر وہ کسی مضمون میں کمزور ہیں تو اپنے آپ کو اس میں بہتر کر سکتے ہیں۔