پنڈ دادن خان میں ورچوءل یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام وقت کی اہم ضرورت

[03:14, 2.1.2026] Guul Bahar Bano:
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے ۔مگر بدقسمتی سے آج ہمارے ملک کے کئی شہر اور تحصیلیں ایسی ہیں۔ جہاں اعلی تعلیم تک رسائی ایک خواب بنی ہوئی ہے۔ پنڈ دادنخان بھی ان علاقوں میں شامل ہے۔ جہاں کی طلبہ طلبات کو صرف اس لیے تعلیمی سفر میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کہ ان کے علاقے میں اعلی تعلیمی ادارے موجود نہیں ہیں ۔ ورچول یونیورسٹی کی بات جہاں تک ہے ۔یہ پاکستان کا وہ ادارہ ہے ۔جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کم وسائل میں معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے۔ لیکن پنڈ داد ن خان جیسے دور دراز علاقے کے طلبہ کے لیے صرف آن لائن تعلیم بھی اس وقت کافی نہیں رہی ،جب امتحانات دینے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے۔ خراب سڑکیں، نا کافی ٹرانسپورٹ، وقت اور پیسے کا ضیاع یہ سب مسائل طلبہ کے حوصلے توڑ دیتے ہیں.
پنڈ دادن خان سے جہلم، منڈی بہاولدین، چکوال ،سرگودہ یا دیگر شہروں کا سفر نہ صرف تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ بلکہ کئی مقامات پر سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ ہوتی ہے ۔اور بالخصوص پنڈ دادن خان اور اس کے ارد گرد علاقوں میں سے ورچول یونیورسٹی کی خواتین طلبات کے لیے خصوصا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لوکل سفر ،ناخستہ سڑکیں اور پرچہ جات کی ٹائمنگ فرسٹ ٹائم اور سیکنڈ ٹائم جس سے خواتین طلبہ کو رات تک گھر لوٹنا پڑتا ہے ۔اور یہ سفر بہت تھکا دینے والا ہوتا ہے ۔
ایسے میں پنڈ دادن خان میں ورچویل یونیورسٹی کے باقاعدہ کیمپس کا قیام علاقے کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا۔ ہو سکتا ہے یہ کیمپس نہ صرف امتحانی مرکز کے طور پر استعمال ہو بلکہ طلبہ کو تعلیمی رہنمائی کمپیوٹر لیب پریکٹیکل اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم ہوں گی ۔ہماری( ایگزیکٹو آفیسرز ورچول یونیورسٹیز ڈاکٹر ناصر محمود )

سے درخواست ہے کہ وہ ورچول یونیورسٹی کے کیمپس پنڈ دادن خان (ضلع جہلم ) میں بھی قائم کریں. تاکہ تمام طالبات کو علم کے اصول میں آسانی ہو ۔اس سے نہ صرف تعلیمی شرح میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کو ہنر مند اور بنا اعتماد بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے واقع ہی تعلیم کے فروغ کے لیے خواہ ہیں ۔تو پنڈ دادن خان جیسے علاقے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہاں ورچول یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام ایک تعلیمی منصوبہ نہیں، بلکہ یہ نوجوان نسل کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اب وقت آگیا ہے ۔کہ عوامی آواز کو سنا جائے ۔طلبہ کی مشکلات کو سمجھا جائے، اور پنڈ دادن خان میں یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کرنے چاہیے ۔تاکہ تعلیم کسی کے لیے بھی بوجھ نہیں بلکہ سہولت بن سکے۔۔۔۔۔۔
رابطہ :-
چکوال کیمپس
03334339025
0

6 تبصرے ”پنڈ دادن خان میں ورچوءل یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام وقت کی اہم ضرورت

  1. السلام و علیکم !

    ور چوئل یونیورسٹی کا قیام نوجوان نسل کے لیے تعلیم کے دروازے کھول دے گا مصنف قابل تحسین ہیں۔

  2. ورچوئل یونیورسٹی کیمپس کا قیام واقعی پنڈدادنخان کی عوام کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے ہماری حکومت وقت سے گزارش ہے پنجاب کی پسماندہ ترین تحصیل کے لیے بھی کچھ ایسا تعلیمی منصوبہ بنائیں جس سے مستقبل میں ہماری آنے والی نسلیں مستفید ہوسکیں

    1. شکریہ عرفان ارشد
      سائٹ آپ سب کی رائے کا احترام کرتی ہے اور آپ سائٹ کے بارے میں مزید بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

  3. السلام علیکم میرا نام سارہ ہے اور میں خود ورچول یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہی ہوں ہمیں بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے خصوصا پیپر دیتے وقت ہمیں سفر کر کے دور دراز علاقوں تک جانا پڑتا ہے۔ جو ہمارے لیے بہت پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ ہماری حکومتی اداروں سے گزارش ہے کہ وہ پنڈ دادنخان میں بھی ورچول یونیورسٹی کے کیمپس کو بنائیں تاکہ طلبات کے لیے آسانی ہو۔

  4. ورچول یونیورسٹی کا کیمپس پنڈ دادن خان کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا حکومتی اداروں کو اس پر عملی طور پر توجہ دینی چاہیے۔

  5. کالم میں بیان کیے گئے مسائل تمام طالبات کی آواز ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں