کالم نگار شازیہ عندلیب
گزشتہ ہفتہ ناروے کے دارلخلافہ اوسلو میں پاکستانی اسٹریٹ کھلاڑیوں کی انڈر سکسٹین کی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت کا کپ اپنے نام کر لیا۔اس جیت پر ناروے میں موجود پاکستانی کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔تمام حلقوں نے ان بچوں کو شاندار کار کردگی پر سراہا۔
پاکستانی سیاستدان سمیعہ ناز جو آجکل ناروے کی لیکشن مہم کی ایک سر گرم عہدے دار ہیں انہوں نے بھی اس جیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی خوب دل لگا کر جیتے اور انہوں نے ہمارے دل جیت لیے۔
یہاں تک تو سب ٹھیک تھا۔یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر مسلہء اس وقت پیدا ہوا جب ایک اماناللہ نامی کھلاڑی بالکل کھیل کے ابتدائیہ سے ہی اپنی ٹیم سے غائب ہوگیا اور تا حال اسکے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی کہ وہ کہاں گیا ہے اسکا پاسپورٹ بھی نارویجن حکام نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔جبکہ ایک اور سوشل میڈیا کگروپ کے مطابق پوری ٹیم کے کھلاڑی ہی غائب ہو گئے ہیں جبکہ دس کھلاڑیوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دی ہے تاہم یہ ایک غیر مستند خبر ہے جو کہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے گھڑی گئی ہے۔اس سلسلے میں اگر دیکھا جائے تو کھلاڑیوں کا ناروے جیسے ترقی یافتہ ملک میں غائب ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔کیونکہ وہ کراچی کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسرے ایک پندرہ سالہ کم سن بچہ اتنا عقلمند نہیں ہو سکتا کہ وہ از خود غائب ہو جائے بلکہ یہ کام تو سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔یقیناً کھیل کے لیے ناروے آنے والے کم سن کھلاڑی کو غائب کرنے میں کسی بڑے کا ہی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ کھلاڑی کسی بھی طریقے سے ناروے یا کسی یورپین ملک میں سیٹ ہو جائے مگر اتنی اچھی ٹیم جو کہ اپنا مستقبل روشن کر سکتی تھی اس ایک کھلاڑی کی وجہ سے اسکا امیج بہت خراب ہو گیا ہے۔
ایک اور خبر کے مطابق اس ٹیم کو تیاری کے باوجود ناروے کے اگلے ٹورنا منٹ میں حصہ لینے کے لیے ویزہ نیں ملا۔ظاہر ہے اس کھلاڑی کی اس حرکت نے باقی ٹیم کا مستقبل بھی دائو پر لگا دیا ہے۔
اس میں ٹیم لیڈر شپ اور ٹیم کے سربراہوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاکی تحقیق کر کے اسے اچھے طریقے سے سلجھائیں تاکہ پوری ٹیم کا مستقبل دائو پر نہ لگے اور یہ کھلاڑی برائٹ فیوچر حاصل کریں۔
میچ کے آرگنائزرز سے گزارش ہے کہ براہ کرم اس سلسے میں وضاحت دیں تاکہ ی قابل فخر کامیابی قوم کا وقار اور اسکی خوشی قائم رہے۔

Recent Comments