‏نکولا ٹیسلا، چکرا اور آفاقی محبت

خیال: ڈاکٹر شہلا گوندل

‏دل کا در کھلا تھا ہرے نغمے میں،
‏جہاں حکمرانی تھی 528 کی،
‏محبت کے وہ سُر،
‏وہ روشنی،
‏ایک خواب تھا،
‏پیار کا نغمہ تھا

‏میری اڑان تھی نیلے آسمانوں تک،
‏تھرڈ آئی کی بنفشی روشنی کی طرف

‏963 پہ میری جان اٹکی تھی

‏ہر ارتعاش میں مگر

‏ تیرے ہی عکس کو ڈھالا میں نے

‏مگر تُو…
‏ریڈ روٹ پر ہی ٹھہرا رہا،
‏بقا، خوف، پیسہ،
‏تُو نے جسم سے پیار کیا،
‏مادی رشتہ استوار کیا

‏میں نے تجھے چاند میں تلاشا
‏ستاروں کے جھرمٹ میں
‏تیرے سنگ رقص کی خواہش کی

‏میں لمبی مسافتوں کی مسافر
‏وائلٹ سے بھی آگے
‏تجھے اپنا ہمسفر بنانے کی خواہاں
‏ساتواں چکرا، نروان کی دھن،
‏اور تُو،
‏پہلی سیڑھی پر ہی سستا رہا ہے
‏تیرے قدم ہوا میں معلق
‏نہ دھرتی سے جڑ پائے اور
‏نہ آکاش کو چھونے کے خواہاں

‏کاش تُو دیکھ پاتا،
‏ہر رنگ میں چھپی ہے روشنی،
‏ہر فریکوئنسی،
‏ایک پیغام ہے،
‏369 کا راز
‏خود کو جان،
‏خوف سے نکل اور روشن ضمیری میں داخل ہو

‏369 کو 963 بنا ڈال

‏نمبروں کے آئینی عکس میں

‏خود سے خودی اور خودی سے خدا تک کا سفر طے کر

‏اور سب کچھ جان لے، جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے

‏اب میرا کیا؟؟؟

‏اب میں اپنے اندر کے سورج کو تھامے کھڑی ہوں،

‏بےبسی کے اندھیرے میں بھی ایک امید ہے،

‏کہ شاید کسی دن،
‏تیرا چکرا بھی بدلے گا
‏ایک ہلکی سی لال سے نارنجی فریکوینسی شفٹ

‏پھر پیلا،
‏اور کبھی…
‏وہ ہرا دروازہ
‏جہاں ہم ملے تھے

‏میں رکوں گی نہیں
‏میں وائبریٹ کرتی رہوں گی،

‏ہر رنگ، ہر سُر،ہر رمز کے ساتھ
‏شاید تُو نہ سمجھے،

‏مگر یہ کائنات ضرور سمجھے گی

‏ریاضی، فریکوینسی، سُر، ساز، آواز
‏رنگ ونور سے آگے

‏کئی جہان ہیں

‏جہاں ہم پہلے بھی کبھی ملے تھے

اپنا تبصرہ لکھیں