خیال: ڈاکٹر شہلا گوندل
دل کا در کھلا تھا ہرے نغمے میں،
جہاں حکمرانی تھی 528 کی،
محبت کے وہ سُر،
وہ روشنی،
ایک خواب تھا،
پیار کا نغمہ تھا
میری اڑان تھی نیلے آسمانوں تک،
تھرڈ آئی کی بنفشی روشنی کی طرف
963 پہ میری جان اٹکی تھی
ہر ارتعاش میں مگر
تیرے ہی عکس کو ڈھالا میں نے
مگر تُو…
ریڈ روٹ پر ہی ٹھہرا رہا،
بقا، خوف، پیسہ،
تُو نے جسم سے پیار کیا،
مادی رشتہ استوار کیا
میں نے تجھے چاند میں تلاشا
ستاروں کے جھرمٹ میں
تیرے سنگ رقص کی خواہش کی
میں لمبی مسافتوں کی مسافر
وائلٹ سے بھی آگے
تجھے اپنا ہمسفر بنانے کی خواہاں
ساتواں چکرا، نروان کی دھن،
اور تُو،
پہلی سیڑھی پر ہی سستا رہا ہے
تیرے قدم ہوا میں معلق
نہ دھرتی سے جڑ پائے اور
نہ آکاش کو چھونے کے خواہاں
کاش تُو دیکھ پاتا،
ہر رنگ میں چھپی ہے روشنی،
ہر فریکوئنسی،
ایک پیغام ہے،
369 کا راز
خود کو جان،
خوف سے نکل اور روشن ضمیری میں داخل ہو
369 کو 963 بنا ڈال
نمبروں کے آئینی عکس میں
خود سے خودی اور خودی سے خدا تک کا سفر طے کر
اور سب کچھ جان لے، جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے
اب میرا کیا؟؟؟
اب میں اپنے اندر کے سورج کو تھامے کھڑی ہوں،
بےبسی کے اندھیرے میں بھی ایک امید ہے،
کہ شاید کسی دن،
تیرا چکرا بھی بدلے گا
ایک ہلکی سی لال سے نارنجی فریکوینسی شفٹ
پھر پیلا،
اور کبھی…
وہ ہرا دروازہ
جہاں ہم ملے تھے
میں رکوں گی نہیں
میں وائبریٹ کرتی رہوں گی،
ہر رنگ، ہر سُر،ہر رمز کے ساتھ
شاید تُو نہ سمجھے،
مگر یہ کائنات ضرور سمجھے گی
ریاضی، فریکوینسی، سُر، ساز، آواز
رنگ ونور سے آگے
کئی جہان ہیں
جہاں ہم پہلے بھی کبھی ملے تھے

Recent Comments