ناروے میں‌قومی انتخابات کا موسم

شازیہ عندلیب
ہمارا دین اور کلچر اس قسم کی بد اخلاقی کی ہرگز اجازت نہیں‌دیتا.ہم تو امت محمدی ہیں اور کیا ہمارے نبی پاک کے اخلاق کی کوئی اور مثال ملتی ہے تو ہم لوگ ایسی اخلاق سے گر ی ہوئی حرکتیں‌کیسے کر لیتے ہیں‌اور اس پر ذرہ بھر نادم یا پشیمان بھی نہیں‌ہوتے…پچھلے دنوں‌ایک مسجد میں‌ایک سیاسی پارٹی ….
اس وقت موسم سرماء کی چھٹیوں‌کے ساتھ ساتھ سیاحتی اورسیاسی دونوں‌سرگرمیاں‌عروج پر ہیں.نارویجن سیاسی منظر نامہ پر نارویجن سیاستدان اپنے اپنے اسٹائل سے سیاسی سر گرمیاں‌ایک دائرے میں رہ کر بڑے مہذب طریقے سے کر رہے ہیں‌نہ تو کوئی ہڑبونگ ہے نہ ایک دوسری پارٹی پہ الزام سازی نہ وشنام طرازی ، نہ لوٹے بازی نہ ہارس ٹریڈنگ. بس ٹھنڈے ٹھار طریقے سے اپنی اپنی پارٹی کا منشور مختلف اداروں اور گروپوں‌میں‌شیئر کرتے ہیں‌اور اگلے اسٹاپ پہ چل پڑتے ہیں.
پچھلے دنوں‌ایک مقامی مسجد میں ایک سیاسی پارٹی کے کارکن ووٹ‌لینے کے لیے گئے اور مسجد والوں نے انہیں‌بے عزت کر کے نکال دیا.یہ واقعہ اوسلو میں پیش آیا.پھر ایک گروپ نے اسکی وڈیو شئیر کرتے ہوئے باقی لوگوں‌سے درخواست کی کہ باقیوں‌کو بھی ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے ان سیاستدانوں‌سے .
بہت ہی افسوس ہوا یہ پڑھ کر کہ ہم لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں مگر ہمارے اخلاق اتنے کیوں‌گر گئے ہیں‌ایک تو ہم ایسی بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں‌اور پھر دوسروں‌کو بھی اسکی دعوت دیتے ہیں‌تاکہ ہماری قوم کی بدنامی میں‌کوئی کثر نہ رہ جائے.ہمارا دین اور کلچر اس قسم کی بد اخلاقی کی ہرگز اجازت نہیں‌دیتا.ہم تو امت محمدی ہیں اور کیا ہمارے نبی پاک کے اخلاق کی کوئی اور مثال ملتی ہے تو ہم لوگ ایسی اخلاق سے گر ی ہوئی حرکتیں‌کیسے کر لیتے ہیں‌اور اس پر ذرہ بھر نادم یا پشیمان بھی نہیں‌ہوتے…
ہم تو اس نبی پاک کی امت ہیں‌جو اپنے دشمنوں‌کے ساتھ بھی برا سلوک نہیں‌کرتے تھے.ہمارے رسول عربی نے تو کوڑا پھینکنے والی بڑھیاء‌کی بھی مزاج پرسی کی تھی جب اس نے نبی پاک پر کوڑا نہیں‌پھینکا تھا.جبکہ وہ ہر روز نبی پاک پر کوڑا پھینکتی تھی جب وہ اسکے گھر کے سامنے سے گزرتے تھے.اس خوش اخلاقی کا کیا نتیجہ ہوا کہ نہ صرف وہ عورت مسلمان ہو گئی بلکہ نبی پاک نے ایک اعلیٰ‌مثال قائم کی اور رہتی دنیا تک اسلام کا پرچم سر بلند کر دیا.
پھر دور کیا جانا بھی تازہ مثال ہے کہ مانچسٹر میں‌کئی نسل پرستی اور فرقہ واریت پر مبنی گینگ بن گئے تھے.جو مساجد کے نمازیوں‌کو ستاتے تھے.کافی عرصہ تک انکی جھڑپیں‌ہوتی رہیں‌اور اخبارات میں بھی انکا بہت ذکر آتا رہا لیکن پھر اچانک یہ خبریں آنا بند ہو گئیں .آپ کو پتہ ہے اسکی کیا وجہ تھی.مساجد میں‌کام کرنے والے گروپس کے ممبران نے بھی نبی پاک کے اسوہء‌حسنیٰ‌پر عمل کرتے ہوئے ان بپھرے ہوءے اسلام مخالف نو جوانوں‌کو بڑے اخلاق سے مسجد میں‌بلایا اور ان سے ایسے اخلاق سے بات کی کہ انہوں‌نے اپنی سرکش روش ہی چھوڑ‌دی.اور علاقہ میں‌امن و امان قئم ہو گیا.اب اس تناظر میں‌دیکھا جائے تو آپ یہ سوچیں‌کہ ہم جن لوگوں‌کے ملک میں‌رہتے ہیں‌ان کے ساتھ بد اخلاقی کر کے کیسے خوش رہ سکتے ہیں�
ٹھیک ہے کہ ان میں‌بھی تعصب ہے مگر اس مسلہ کا یہ حل تو نہیں‌کہ آپ انہیں‌ان مساجد سے نکال دیں‌جو انہی کے پیسے اور فنڈز سے چل رہی ہیں‌.گو کہ مسلمانوں‌کی جیب سے بھی کافی فنڈز جاتے ہیں‌مگر آپ یہ بھی دیکھیں‌کہ ایک حالیہ سروے رپورٹ‌کے مطابق بیشتر مساجد کا حساب ہی صاف شفاف نہیں.
ہم اپنے وطن سے باہر رہ کرتو اپنا میج بہتر کریں‌تاک ہماری آنے والی نسلیں‌تو ہم پر فخر کریں‌نہ کہ پاکستانی ہونے پر شرمائیں.
ناروے کی مرکزی اسمبلی کے الیکشن میں کئی پاکستانی امید وار بھی کھڑے ہیں‌اور ان میں سے تین سینٹرل پارٹی کے پلیٹ‌فارم سے کھڑے ہیں‌.ہمیں‌اپنے ووٹ‌کا استعمال منصفانہ طریقے سے کرنا چاہیے.تاکہ ہمارا ووٹ‌کوئی ہمارے مخالف کے لیے استعمال نہ کرے اور ایسے سیاستدانوں‌کو آگے لائیں‌جو واقعئی ہمارے لیے کام کریں.بیشک وہ پاکستانی ہو یا کسی بھی قوم کے ہوں.اب یہ کیسے جانا جائے کہ کون درست ہے اس کے لیے ایک علیحدہ نشست کی ضرورت ہو گی.

اپنا تبصرہ لکھیں