ناروے سے آتی، خوش کُن ہوائیں


آج ہی (دو اگست،ہفتہ) یہ خبر ملی ہے کہ پاکستان کی سولہ سال سے کم عمر (انڈر سِکسٹِین)فٹ بال ٹیم نے ناروے کے بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹ میں 35 ملکی مقابلہ جات میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے ٹرافی اپنے نام کر لی ہے۔ پاکستان کی یہ ٹیم کوئی عام سی ٹیم نہیں تھی۔ ناروے میں رہنے والے فٹ بال کے چند شیدائی کاروباری افراد(سلیمان سرور، فاروق انصاری اور محمد عمران )نے پاکستان کا نام روشن کرنے کی ایک انوکھی تجویز سوچی اور پھر اُس پر عمل درآمد کی ٹھان لی۔
بیٹر فیوچر (Batter Future)نام سے ناروے میں ایک تنظیم رجسٹر کروائی۔ کراچی کے پس ماندہ ترین علاقے لیاری کا انتخاب کیا (دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں حضرات کا تعلق لیاری سے نہیں ضلع گجرات سے ہے)۔ اپنے ذاتی فنڈز سے وہاں( لیاری میں) ایک فٹ بال کلب بنایا اور حیران کن بات یہ ہے کہ لیاری کے پس ماندہ ترین خاندانوں (سٹریٹ چلڈرن)کے بچوں کو خالصتا” میرٹ پر منتخب کیا، پھر انہیں چھ سے آٹھ ماہ کی ٹریننگ دی اوراس ٹیم کو ناروے کے انٹر نیشنل ٹورنامنٹ میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔
لیاری کے بچوں کے لئے یہ کوئی آسان کام نہ تھا، وہ بچے جنہوں نے پورا کراچی بھی کبھی نہ دیکھا تھا وہ اب ناروے پہنچ کر دنیا بھر کی پنتیس ممالک کی ٹیموں کا سامنے کرنے نکلے تھے۔


میرٹ، محنت، مہارت اور بیٹر فیوچر کے کوآرڈینیٹرز کے اخلاص نے رنگ دکھایا اور ٹیم اللہ کے بھروسے پر مقابلے پہ مقابلہ جیتتے چلی گئی۔
الخدمت یورپ (ناروے) پچھلے سال سے اس ٹیم کی سپانسر ہے۔اسے سہولیات پہنچانے کے ساتھ ساتھ ٹیم کی ناروے میں پروموشن کا کام بھی کرتی ہے۔ 25 جولائی نمازِ جمعہ کے بعد الخدمت یورپ نے اسلامک کلچر سنٹر اوسلو میں ٹیم کو خوبصورت استقبالیہ دیا جس میں پاک ایمبیسی کے ذمہ داران آئی سی سی کے صدر سید رضوان، معروف عالم دین مولانا محبوب الرحمان،صدر الخدمت یورپ عبدالواہاب اور دیگر نمایاں افراد بھی شریک ہوئے۔الخدمت کے سکریٹری جنرل وقاص جعفری اور خود مجھے بھی اس استقبالیہ میں شرکت کا موقع ملا کہ اس روز ہم دونوں بھی وہاں موجود تھے۔ یہ مقابلہ جات ناروے کے فٹبال کے ایک سو بیس(120) مختلف میدانوں میں آٹھ دنوں تک کھیلے جاتےرہے۔ آج آخری مقابلے میں پاکستان 2–0 سے فاتح قرار پایا۔لیاری (کراچی)ٹیم کے ذہین اور غریب بچے، بیٹر فیوچر ناروے، الخدمت یورپ اور اسلامک کلچر سنٹر سب کے ذمہ داروں کو ڈھیروں مبارک۔ پاکستانی قوم بہتر رابطوں، میرٹ کی بالا دستی اور محنت و مہارت سے کیسے کیسے کمالات دکھا سکتی ہے۔
خوشیوں سے نہال اور ہاتھوں میں ٹرافی سنبھالے یہ ٹیم 4-اگست کی صبح 4.30 بجے ترکش ایر لائن سے کراچی پہنچ رہی ہے۔
محمد عبدالشکور
الخدمت یورپ، بیٹر فیوچر،اسلامک کلچر سنٹر اور لیاری کے ہونہاروں کے ہمراہ لی گئی تصویر
Abdus Shakoor

اپنا تبصرہ لکھیں