تحریر شازیہ عندلیب
راوی حناء عامر
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خانہ کعبہ کے سامنے ہوں۔ہر طرف نور اور روشنیوں کا سمندر بہ رہا تھا۔آنکھ کھلی تو ایک عجیب سی سرشاری کا عالم تھا۔ دل نے کہا حج پہ جانا چاہیے پھر سوچ آئی کہ نہیں ابھی بچے چھوٹے ہیں ذرا بڑے ہو جائیں پھر جائوں گی۔ یہ فیصلہ کر کے میں اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئی۔ ادھر ماما حج پہ جانے کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ ماما حج کے لیے ہر ممکن معلومات اور چیزیں اکٹھی کر رہی تھیں۔ان کی روانگی میں چند ہفتے ہی رہ گئے تھے کہ اچانک میں نے پھر وہی خواب دیکھا۔کہ میں خانہ کعبہ کے سامنے ہوں۔آنکھ کھلی تو خوشی توتھی ہی مگر اب اس خوشی میں حیرت کا ایک عنصر بھی شامل تھا۔ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے یاد دہانی کروائی ہو کہ ۔۔۔۔میں جو یہ فیصلہ کر کے بیٹھی تھی کہ میں دس سال بعد جائوں گی بچے تھوڑے بڑے ہو جائیں تو شائید یہ درست فیصلہ نہیں تھا۔

ایک سوچ آئی کہ ماما جو حج پہ جا رہی ہیں کیوں نہ ان کے ساتھ چلی جائوں مگر اب تو حج کی درخواستیں موصول ہونے کا وقت ہی ختم ہو چکا تھا۔پھر میں نے بس یونہی حج کی درخواستوں والی سائٹ چیک کی وہاں لکھا تھا کہ ابھی بھی آپ درخواست بھیج سکتے ہیں ہمارے پاس ایک یا دوسیٹوں کی گنجائش ہے۔میں نے ڈرتے ڈرتے درخواست بھیج دی۔پھر اپنے شوہر سے بات کی کہ کیا میں حج پہ چلی جائوں ماما کے ساتھ۔اور انہیں خواب بھی سنایا۔وہ کہنے لگے کہ ہاں تم بچوں کو میرے پاس چھوڑ جائو۔پھر میں بعد میں چلا جائوں گا ابھی تم چلی جائو۔میں حج کی درخواست کے جواب کا انتظار کرنے لگی اور دل ہی دل میں دعا مانگنے لگی کہ میری درخواست قبول ہو۔دعا مانگ کر دل ایک عجیب سے اطمینان اور سکون سے بھر گیا۔دوسرے دن ڈرتے ڈرتے میل باکس کھولا تو اس میں درخواست کی منظوری کی خوش خبری تھی۔دل ایک عجیب سی خوشی سے بھر گیا۔میں نے یہ خوش خبری اپنی ماما کو سنائی۔پھر میں خوشی خوشی حج کی تیاری کرنے لگی۔سب سے معافی تلافی کے بعد آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جب میں نے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے سرزمین حجاز کے لیے روانہ ہونا تھا۔ میں اور ماما مشقات حج و عمرہ گروپ کے ساتھ روانہ ہوئےہمارا پہلا قیام مدینہ شریف میں تھا وہاں مسجد نبوی کے سامنے واقعہ ہوٹل زم مزم پل مین میں ہمیں ٹھہرایا گایا تھا۔مسجد نبوی کے پاس قیام کرنے کا اپنا ہی لطف تھا۔ہمارے ساتھ گروپ کی عورتیں بہت خوش مزاج تھیں۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک فیملی ہو۔خاص طور سے ہمارے گروپ لیڈر ساجد الٰہی تھے۔ انہیں سب ساجد بھائی کہتے تھے اور وہ ہم سب کا بہت خیال رکھ رہے تھے۔
مدینہ شریف میں ہم لوگوں نے مسجد قباٰء اور مسجد احد کی زیارت کی ۔
ہم لوگ مدینہ شریف میں زیارتیں اور دیگر ضروری فرائض کی ادائیگی کے بعد مکہ معظمہ کی جانب روانہ ہوئے۔ہمارا گروپ مکہ معظمہ کی جانب بذریعہ ٹرین جا رہا تھا۔یہ ایک نہائیت آرام دہ اور تیز رفتار ٹرین تھی۔وہ سفر جو کہ بسوں میں آٹھ گھنٹہ میں مکمل ہوتا ہے وہ سفر اس تیز رفتار ٹرین میں صرف دو گھنٹے میں مکمل ہوا۔ مکہ معظمہ میں ہمارا گروپ ہوٹل
ہلٹن میں ٹھہرا۔ جیسا کہ مشقات حج و عمرہ گروپ کا معاہدہ ان ہی دوہوٹلوں کے ساتھ ہےاور یہ ہوٹل بھی حرم پاک سے صرف پانچ منٹ کےفاصلے پہ واقعہ ہے۔ ہوٹل کا انتظام بہت اچھا تھا اور ناشتے سے لے کر کھانے اور چائے تک کا انتظام مشقات کے ہی ذمہ تھا اسلیے کوئی ٹینشن نہیں تھی۔
دن کو چونکہ درجہ حرارت پچاس ڈگری کے قریب تک پہنچ جاتا تھا اسلیے طواف اور خانہ کعبہ کی ذیارت کا وقت رات کو رکھا گیا۔ ہم لوگ گروپ کے ساتھ اس عظیم اور با برکت مقام خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے گئے۔ خانہ کعبہ کے دیدار کے ساتھ ہی میری آنکھوں سےآ نسوئوں کا سیلاب رواں ہو گیا۔ میں چند لمحوں کے لیے سب کچھ بھول گئی۔ میرے پائوں میں زیادہ چلنے کی وجہ سے آبلے پڑ چکے تھے۔ اور ٹانگوں میں سوزش تھی۔مجھے بس یہ ڈر تھا کہ طواف کے دوران کہیں آبلے پھٹ کر احرام کو گندہ نہ کر دیں۔ورنہ دل میں یہی خیال تھا کہ میں اگر تکلیف کے ساتھ طواف کروں گی مجھے ذیادہ ثواب ملے گا۔ میں بہت مشکل سے چلتی رہی اور چلتے چلتے خانہ کعبہ کی دیوار کے بالکل قریب پہنچ گئی۔اتنی قریب کہ میں اسے چھو سکتی تھی۔بعد میں خیال آیا کہ شائید میری یہی سوچ تھی کہ تکلیف میں زیارت کرنے کا ذیادہ ثواب ملے گا ۔ میں خانہ کعبہ کی دیوار کے بالکل قریب پہنچ گئی۔
پھر میں نے خانہ کعبہ کی مقدس دیوار کو اپنے ہاتھوں سے چھو لیا۔میرے جسم میں ایک عجیب سی طاقت اور انرجی آ گئی۔ پھربڑی آسانی سے طواف کیا۔ وہ قدم جو کچھ دیر پہلے مشکل سے اٹھ رہے تھے اب تو مجھے اڑائے لے جا رہے تھے۔سعی کی سب کچھ اتنی آسانی سے ہو گیا۔
ادھر میں نے اپنی ماما کے لیے وہیل چیر بک کروائی تھی کیونکہ وہ زیادہ چل نہیں سکتی تھیں۔مگر جب ماما طواف کے لیے گئیں انہوں نے وہیل چیر لینے سے انکار کر دیا اور خود ہی طواف کر لیا۔ ایسے لگتا تھا جیسے خانہ کعبہ میں آتے ہی ماما کے اندر طاقت آ گئی تھی۔پھر ہم لوگ جبل رحمت گئے۔ جہاں حضرت آدم کو جنت سے اتارا گیا تھا۔مزدلفہ اور میدان عرفات میں گئے۔خیموں میں ایک رات گزاری شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے میدان عرفات سے کنکریاں اکٹھی کیں۔
خیموں میں قالین بچھے تھے کھانے پینے کے لیے ریفریجریٹرز میں ہر قسم کے مشروبات آئس کریمیں اور دیگر اشیاء موجود تھیں.ماما اس بات پر بہت خوش تھیں کہ جب بھی ہم لوگ کوئی فریضہ ادا کر کے اپنے ہوٹل واپس آتے تھے ہمارے کمرے میں کوئی نہ کوئی گفٹ پڑا ہوتا تھا۔جس سے خوشی دوگنی ہو جاتی ۔
جب ہم لوگ مزدلفہ کی خیمہ بستی میں خیمہ زن ہوئے،میرا جی چاہتا تھا کہ میں ائیر کنڈیشنڈ خیمے سے نکل کر باہر کی ٹھنڈی فضاءمیں سانس لوں۔مگر میں جب بھی باہر نکلتی ہمارے گروپ لیڈر ساجد بھائی کہتے آپ اندر چلیں ۔میں نے آپ سب کو زندہ واپس لے جانا ہے۔ پھر میں نے صبح خیمہ سے باہر قدم رکھا تو مجھے خوش خبری ملی کہ حج ہو گیا ہے۔ میں ایکدم سے حیران رہ گئی اس سرپرائز پہ ۔ مجھے ایسا لگا جیسے اللہ تبارک نے مجھے سرپرائز دیا ہے۔میں حیران رہ گئی خود سے سوال کیا ، حناء حج ہو گیا ؟بس….. اتناآسان حج۔!
جب ہملوگ واپس ہوٹل گئےسب لوگ ہم سب حاجیوں کو حجہ حجہ کہہ رہے تھے ۔ ا ب ہمارا اسٹیٹس بدل گیا تھا۔ اب ہم نے اسلام کا ایک اہم رکن اور فرض حج ادا کر دیا تھا۔اس لیے اب زندگی کا ڈھنگ بھی بدلنے والا تھا۔یہ سننا کانوں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ یہ رات جو حج کی سعادت کے بعد کی پہلی رات تھی بہت خوشیوں بھری تھی۔خوشی کے مارے مجھے نیند نہیں آ رہی تی۔اسی سرشاری کے عالم میں مجھے اپنے پیارے دادا دادی کا خیال آیا جنہوں نے مجھے اتنے لاڈ پیار سے پالا تھا۔ دادی اماں کی وفات کو پانچ برس اور دادا ابو کی وفات کو تین برس گزر چکے ہیں۔ مگر انکی یادیں اور محبتیں آج بھی میرے دل میں تازہ ہیں۔ میرے تصور میں انکا محبت بھرا سراپا گھومنے لگا۔ میں نے ایک فیصلہ کیا اور اسی وقت ہوٹل سے اٹھی اور مسجد عائشہ عمرہ کی نیت کرنے گئی۔ آدھی رات کو حرم شریف کی جانب چل دی۔اس وقت راستوں میں اکا دکا لوگ آ جا رہے تھے۔میں سب سے بے پرواہ خانہ کعبہ کی جانب تیزی سے جا رہی تھی۔میں نے وہاں اپنے دادا دادی کا عمرہ کیا۔
اس وقت میری حیرت کی انتہاءنہ رہی جب میں نے دیکھا کہ میری دادی اماں بھی دادا ابو کا ہاتھ پکڑ کر طواف کر رہی ہیں وہ مجھ سے آگے تھیں۔ میں لپک کر ان تک پہنچنا چاہا۔ میری دادی اماں نے مجھے اپنے حجاب کی اوٹ سے دیکھا بھی تھا۔ میں بے خود ہو کر انکی جانب بڑہی اور وہ دونوں پھرسے بھیڑ میں گم ہو گئے۔ اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔ میںاپنے پیارے دادا دادی کے عمرہ کے بعد خوب جی بھر کے سوئی۔ اور وہ میرے خواب میں آ گئے جیسے میرا شکریہ ادا کر رہے ہوں۔یہ خیال بہت جاں فزاں تھا۔میں دل میں خوبصورت یادیں لیے اللہ کے گھر سے اپنے گھر لوٹ آئی۔
حج سے واپسی کے ایک ہفتہ بعد ہم نے سب رشتہ داروں اور دوستوں کی ضیافت کی۔تاکہ سب ایک ہی مرتبہ حج کی مبارکباد دے دیں۔یہ ایک بہت منفرد اور روح پرور محفل تھی۔میں تو خوشی کے مارے اپنے حج کے سفر کی داستان سنا سنا کر نہیں تھکتی تھی۔ ظاہر ہے حج روز روز تو نہیں ہوتا۔اور یہ بھی سچ ہے کہ انسان اللہ کے گھر تب ہی جاتا ہے جب اس کا بلاوہ آتا ہے اور ایک مرتبہ بھی نہیں بلکہ دو مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت کرناتو گویا میرے لیے اللہ کے گھر کے دعوت نامہ سے کم نہیں تھا۔اسی محفل میںسنائی گئی یہ حج کی روداد اب آنٹی شازیہ کی زبانی آپ کی نذ ر ہے.

ارے واہ
ماشاء اللہ
خوش نصیب ہیں حنا صاحبہ 😍
اللہ سب کو نصیب کرے ایسے سچے خواب
آمین
ڈاکٹر شہلاء گوندل
جی بالکل شہلاء میں بھی انکی یہ داستان سفر سن کر بہت حیران ہوئی کہ کیسے ایک خواب سے دوسرے اور پھر تیسرے تک کا یہ روحانی اور زمینی سفر طے ہوا۔
ایسے خوش قسمت لوگ بھی کم ہی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اللہ نظر بد سے بچائے انہیں۔