اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ “محرم الحرام” ہے، جو نہ صرف اسلامی سال کا آغاز ہے بلکہ اس مہینے کو تمام مہینوں میں ایک خاص فضیلت حاصل ہے۔ یہ مہینہ غم، صبر، قربانی اور حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے کی ایک عظیم علامت بن چکا ہے۔ “محرم” کا مطلب ہی “حرمت والا” ہے، یعنی ایسا مہینہ جس میں جنگ و جدال منع ہے، اور جسے اللہ تعالیٰ نے عزت و احترام والا مہینہ قرار دیا ہے۔
محرم کی فضیلت
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جن چار مہینوں کو حرمت والا قرار دیا ہے، ان میں محرم شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “محرم اللہ کا مہینہ ہے اور اس میں روزہ رکھنے کا بہت ثواب ہے۔” (مسلم شریف)
اس مہینے میں کیے گئے نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اور اس میں گناہوں سے بچنے کی بھی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ خاص طور پر 10 محرم یعنی “یوم عاشورہ” کو روزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے۔ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی، اور اسی خوشی میں نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا اور اپنے اُمتیوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی۔
واقعہ کربلا
محرم کا ذکر کربلا کے بغیر نامکمل ہے۔ 10 محرم کو ہی 61 ہجری میں تاریخ اسلام کا ایک عظیم واقعہ پیش آیا جب نواسۂ رسول ﷺ، حضرت امام حسین علیہ السلام نے دین اسلام کی بقاء اور حق کی سر بلندی کے لیے میدانِ کربلا میں اپنی جان، اپنے خاندان اور ساتھیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
یزید بن معاویہ کی باطل حکومت کے خلاف کھڑے ہوکر امام حسینؑ نے یہ پیغام دیا کہ ظلم و جبر کے خلاف خاموشی اختیار کرنا گناہ ہے، اور حق و صداقت کے لیے ہر قربانی پیش کرنا لازم ہے۔ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کو تین دن کا بھوکا پیاسا رکھ کر شہید کیا گیا۔ چھوٹے بچوں، خواتین اور بوڑھوں پر ظلم کیے گئے، لیکن پھر بھی انہوں نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
محرم اور آج کا معاشرہ
محرم ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ دین کی حفاظت قربانی مانگتی ہے، اور ہمیں اپنے اندر سچائی، صبر، برداشت، اور عدل و انصاف کے جذبے کو پیدا کرنا ہوگا۔ امام حسینؑ کا پیغام صرف ایک مسلک یا فرقے تک محدود نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔
آج کے دور میں جہاں جھوٹ، ظلم اور ناانصافی عام ہو چکی ہے، وہاں امام حسینؑ کا پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں حق کے لیے کھڑا ہونا ہے، چاہے ہماری تعداد کم ہو یا حالات مشکل ہوں۔
نتیجہ
محرم کا مہینہ ہمیں نہ صرف اسلامی سال کے آغاز کی یاد دلاتا ہے بلکہ قربانی، صبر، برداشت اور حق کی راہ پر چلنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ کربلا کی سرزمین پر امام حسینؑ اور ان کے جانثاروں نے جو قربانی دی، وہ رہتی دنیا تک ایک مثالی سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مہینے کی حرمت کو ملحوظ رکھیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

Recent Comments