ماں کے ساتھ شام کا کھانا

کچھ دن پہلے ایک شخص اپنی ضعیف ماں کو کھانے کے لیے باہر لے گیا۔

وہ کمزور اور تھوڑی سی کانپ رہی تھیں۔ کھانے کے دوران کچھ کھانا ان کے کپڑوں پر گر گیا۔ آس پاس بیٹھے لوگ گھورنے لگے۔ کچھ کے چہرے پر ناگواری جھلک رہی تھی۔ کمرے میں جیسے خاموش سا فیصلہ سنایا جا رہا ہو۔

لیکن بیٹے نے سکون سے کام لیا۔ نہ وہ شرمندہ ہوا، نہ پریشان۔

کھانے کے بعد اُس نے خاموشی سے اپنی ماں کو سہارا دیا۔ انھیں واش روم لے گیا، کپڑوں سے داغ صاف کیے، ان کا منہ پونچھا، عینک درست کی، اور نرمی سے ان کے بال سنوارے۔

جب وہ واپس آئے، پورا ہال جیسے ساکت ہو گیا۔ سب دیکھ رہے تھے۔

جب وہ رخصت ہونے لگے، ایک بزرگ میز سے آواز دی:

“بیٹے، لگتا ہے تم کچھ بھول گئے ہو۔”

بیٹے نے مڑ کر کہا:

“نہیں جناب، میرا خیال ہے میں کچھ نہیں بھولا۔”

بزرگ مسکرا کر بولے:

“نہیں بیٹے، تم ایک چیز چھوڑ گئے ہو۔۔۔
ہر بیٹے کے لیے ایک سبق۔۔۔
اور ہر ماں کے لیے امید۔”

بعض لمحے الفاظ سے زیادہ بولتے ہیں۔

جو ہمارے لیے کبھی سب کچھ تھے،
ان کا خیال رکھنا۔۔۔
محبت کی سب سے سچی شکل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں