کالم نگار
گل بہار بانو
شہریار اپنی فیملی کے ساتھ بہت عرصہ پہلے جرمنی شفٹ ہو گیا تھا ۔
آج برسوں بعد جب وہ پاکستان آیا تو اسے بہت کچھ دیکھنے کو ملا ،وہ لاہور کی سڑکوں پر سفر کر رہا تھا۔
اسے وہ چیزیں دیکھنے کو ملیں، جو وہ ہمیشہ سے دیکھنا چاہتا تھا۔ اصل میں شاید یار کے والد محمد حسان اپنے خاندان سے جدا ہو کر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ جرمنی ہجرت کر گئے۔ اس وقت شہریار نے صرف میٹرک پاس کیا تھا ۔اس کے والد کو لگتا تھا ۔کہ جیسے قانون پاکستان کے اندر تو کتابوں تک محدود ہے ۔آج ان چیزوں کو شہریار دیکھ رہا تھا ۔جو اس کے والد دیکھنا چاہتے تھے ۔لاہور جیسے بڑے شہر کی سڑکوں پر رواں دواں گاڑیاں، موٹر سائیکل، رکشہ ،بسیں منظم انداز میں چل رہی تھیں۔ اسے دیکھ کے لگا کہ اگر اگرچہ ابھی بہت سفر باقی ہے ۔لیکن قانون کی بالادستی کی سمت میں قدم ضرور اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریار کی نظر جس بھی موٹر سائیکل والے اور رکشے والے پر پڑتی سب نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔
ٹریفک پولیس والے ہر سٹاپ پر گاڑی والوں سے ڈرائیونگ لائسنس، گاڑی کی رجسٹریشن ،نمبر پلیٹ ،ٹوکن ٹیکس، ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ ،شیشوں کی سیاہی ۔یعنی Tinted Glasses وغیرہ کی چیکنگ کر رہے تھے .
شہریار نے گرین بس بھی دیکھی جس پر مریم نواز کا پوسٹر لگا ہوا تھا .شاید یہ وہ بس تھی جس پر عوام مفت میں سفر کرتے تھے .اس کے علاوہ صاف ستھری اور نئی سڑکیں تھیں۔ جو سڑکیں پہلے خستہ حالت میں تھیں۔ اب وہ پکی اور منظم ہو چکی تھی۔ شہریار یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔کیونکہ جب وہ پاکستان میں رہتے تھے۔ تو ایسا کچھ نہیں تھا ۔آئے دن حادثات پیش آتے تھے۔ خستہ حال سڑکیں تھیں ۔ چھوٹے بچے موٹر سائیکل چلاتے تھے۔ ہیلمٹ کا تو نام و نشان تک نہیں تھا ۔گاڑی چلانے والوں سے لائسنس کم نہیں پوچھا جاتا تھا ۔قوانین کی خلاف ورزی معمولی سمجھی جاتی تھی۔ مگر اب سب کچھ بدل گیا تھا ۔ٹریفک پولیس والے متحرک دکھائی دے رہے تھے۔ شہریار جب یہ سب دیکھ رہا تھا تو اس نے ڈرائیور سے پوچھا اور کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس پر گاڑی کے ڈرائیور نے کہا۔ صاحب جی یہ تبدیلیاں اتفاقا نہیں آئیں، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی حکومت نے ٹریفک قوانین پر سختی سے کام شروع کر دیا ہے۔ سیف سٹی کے نظام کے موثر استعمال ،ڈرائیونگ لائسنس کے نظام میں بہتری اور جرائم کو روکنے کے لیے سی سی ڈی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ان کا مقصد صرف جرمانہ وصول کرنا نہیں۔ بلکہ شہریوں کے اندر قانون کی پابندی کا شعور پیدا کرنا ،اور معاشرے میں نظم و ضبط کو فروغ دینا بھی ہے۔ اب سی سی ڈی 2025 میں پنجاب پولیس کے تحت
Crime Control Department
قائم کیا گیا ہے اس کا مقصد اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، منظم جرائم اور سنگین مقدمات کے خلاف خصوصی کاروائیاں کی گئی ہیں ۔سی سی ڈی کو خصوصی اختیارات کے ساتھ متعارف کروایا گیا ہے ۔پرانے کیس جو سالوں سے چلتے آ رہے ہیں ان کے مقدمات کے جلد فیصلوں پر زور دیا گیا ۔اور تھانوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے ۔یہ سب سن کر شہریار کو دلی خوشی ہوئی ۔اور وہ سوچنے لگا کہ جب وہ واپس جرمنی جائے گا تو اپنے بابا کو یہ سب بتائے گا اور حقیقتا ہو یہ سب سن کر بہت خوش ہوں گے ۔
بلا شبہ کسی بھی اصلاحی عمل کا حقیقی امتحان اس کے تسلسل میں ہوتا ہے۔ اگر یہ اقدامات مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہوگا ۔جہاں قانون افراد کا نہیں بلکہ اداروں کے تابع ہوتا ہے اور شہری قوانین کی پابندی کو مجبوری نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری

بے شک پنجاب حکومت نے ہر شہر قصبہ ،تحصیل اور گاؤں کے لیے بے شمار ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں اور انہیں مکمل بھی کروا رہی ہے۔
اب اگر میں تحصیل پنڈ دادنخان کی بات کروں تو پنڈ دادنخان سے للہ تک سڑک بہت خستہ حال تھی اور ضلع جہلم تک کا سفر تو تھکا دینے والا تھا لیکن للہ تک تو سڑک بن چکی ہے اور بہت کشادہ بنی ہے سفر کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے اس کے علاؤہ ضلع جہلم کی سڑکیں ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
ہم محترمہ مریم نواز کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے صوبہ پنجاب کے لیے یہ ترقیاتی کام کروائے ہیں۔