نیا قانون یا ڈیموکریسی پر کاری ضرب
پاکستانی پس منظر رکھنے والی سمیعہ ناز سے ایک تازہ گفتگو میں ناروے میں ہونے والے مرکزی حکومت کے انتخابات اور نئے قانون پر روشنی ڈالی گءی ۔ سمیعہ ناز نے کہا کہ وہ اس وقت پارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پہلے نمبر پر پارٹی لیڈر گائر ہیں۔اسکا مطلب ہے کہ اگر سینٹرل پارٹی کو سترہ یا اٹھارہ ہزار ووٹ ملیں گے گائر قومی اسمبلی کی سیٹ جیت سکتے ہیں جبکہ سمیعہ کو سیٹ حاصل کرنے کے لیےتیس ہزار کے لگ بھگ ووٹوں کی ضرورت ہے۔
سمیعہ ناز نے بتایا کہ اس س پہلے وہ ریڈ پارٹی کی عہدے دار تھیں لیکن ناروے میں پرائڈ مہم کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔جو کہ شخصی آزادی کے منافی رویہ تھا۔اس لیے وہ پارٹی چھوڑ کر سینٹرل پارٹی میں آ گئیں۔
سینٹرل پارٹی اس وقت ناروے میں تارکین وطن کی سب سے بڑی نمائندہ پارٹی ہے۔ جبکہ اس کے پلیٹ فورم سے مزید پاکستانی بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ان میں آکرش ہائوس سے ایک پارٹی ممبر مھتاب اختر ہیں اس کے علاوہ ثمینہ تھاگے آکرش ہائوس میں پارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
سینٹرل پارٹی کے منشور میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرنا۔قرآن اور دیگر مذہبی کتابوں کی توہین کو روکنا
فلسطینی عوام کی حمائیت کرنااور
تیسری جنس کے افراد کو انسانی حقوق دلوانا شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت نے قانون میں ترمیم کی ہے جس کے تحت اب ووٹر کسی آزاد پارٹی امیدوار کو سپورٹ کے لیے ووٹ نہیں دے سکتے۔یہ قانون جمہوری اقدار کی نفی کرتا ہے۔اس وجہ سے بھی چھوٹی پارٹیوں کو ووٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

Recent Comments