سہولیات صحت کی کمی

[06:26, 22.2.2026]
گل بہار بانو
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ وہاں کی تعلیم اور صحت کی سہولیات سے لگایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پنڈدادن خان جیسے اہم علاقے میں صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کی عوام معمولی بیماری کے علاج کے لیے بھی دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات نہیں کہ ہسپتال موجود نہیں ہسپتال تو موجود ہے ۔۔مگر سوال یہ ہے کہ 1176 مربع کلومیٹر رقبے کا علاقہ اور 37 971 لوگوں کی تعداد پر مشتمل پنڈ دادنخان جیسے شہر میں صرف ایک سر کاری ہسپتال موجود ہے۔
جس میں بھی جدید مشینری اور سہولیات ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ پنڈدادن خان جیسے علاقے کے ارد گرد تمام قصبوں کے لوگ بھی اسی ایک ہسپتال میں آتے ہیں۔ اور مجبورا کابل ڈاکٹروں کی کمی اور الات جراہی اور مشینری کے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی سہو…
: چند دن پہلے کا واقعہ علاقے کے لوگوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا۔۔۔۔۔۔
ایک شخص کو فائرنگ کے واقعے میں گولی لگی تو اسے فوراً پنڈ دادن خان کے مقامی ہسپتال لایا گیا۔ مگر وہاں ضروری مشینری موجود نہیں تھی اور نہ ہی ایسا ماہر ڈاکٹر جو مکمل علاج کر سکتا، ڈاکٹروں نے کہا اسے پنڈی لے جائیں۔ راستے کی دشواری اور وقت کے ضیاع نے صورتحال کو اور سنگین بنا دیا ۔اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اور بوقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کی موت واقع ہو گئی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر مقامی سطح پر جدید سہولیات اور قابل ڈاکٹر موجود ہوتے ،تو شاید اس شخص کی جان بچ سکتی تھی۔

اسی طرح ایک اور واقعہ حاملہ خاتون کے ساتھ پیش آیا زچکی کے وقت جب اسے ہسپتال لایا گیا تو وہاں مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث اہل خانہ کو دوبارہ یہی کہا گیا کہ میں مریضہ کو راولپنڈی لے جائیں ایسے حالات میں سفر ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔
مگر مجبوری کے باعث لوگوں کو یہی کرنا پڑا ،اور راستے کی دشواریوں اور درد کے باعث اس حملہ عورت کی جو حالت تھی۔ اسے بس وہی جانتی تھی۔
اسی طرح ایک واقعہ 21 سالہ لڑکی کے ساتھ ہوا اس کو ہسپتال ایمرجنسی میں لایا جاتا رہا ،کیونکہ اس کے معدے میں درد رہتی تھی۔ایک دفعہ تو رات کو اس کے معدے میں درد تھی۔ اسے ہسپتال لایا گیا وہاں کمپوڈر موجود تھے۔ رات کے نو بج رہے تھے۔ جو ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اس نے مریضہ کو ٹیکہ لگانے کا کہا مریضہ کو ٹیکہ لگا دیا گیا۔ مگر اس کے معدے کا درد کم نہیں ہوا ۔پھر ڈاکٹر نے دوسرا ٹیکہ کا لگایا تب بھی درد نہیں گیا اور رات کے 12 بجے تک مریضہ درد سے تڑپتی رہی۔ مگر ڈاکٹر گھر جا چکا تھا۔ کیونکہ اس کی ڈیوٹی ختم ہو چکی تھی ۔ اس کے بعد کمپیوٹر جو وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے ٹیکہ لانا پڑے گا ۔مگر بدقسمتی سے ہسپتال کے باہر تمام فارمیسی بند ہو چکی تھی۔ ٹیکہ کہیں سے نہیں ملا مجبورا کمپیوٹروں نے ڈرپ میں نیند کا انجکشن ڈال کر مریضہ کو لگا دیا اور وہ سو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے روز ہسپتال کی روزمرہ روٹین میں مریضہ کو ڈاکٹر کو دکھایا گیا مگر انہوں نے کہا کہ (انڈرسکوپی) ہوگی جو یہاں سے نہیں ہوتی .ہمارے پاس مشینیں نہیں ہیں. اور وہ بیچارے غریب لوگ اپنی بیٹی کو لے کر باہر کے شہروں میں دھکے کھا تے رہے ۔
یہ تو صرف تین واقعات تھے۔ مگر حقیقت میں ایسے واقعات روزانہ پیش آرہے ہیں۔
ان صحت کے مسائل کی بنیادی وجوہات میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی جدید مشینری کا نہ ہونا ایمرجنسی سہولیات کی کمی اور ادویات کی عدم دستیابی شامل ہیں ۔ آخر میں سوالات آتے ہیں ان سوالات کے کیا حل موجود ہیں۔ سب سے پہلے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ پنڈدادن خان کے ہسپتال کو جدید طبی آلات مہیا کریں۔ اور یہاں ماہر ڈاکٹروں کی تعییناتی یقینی بنائیں۔ خصوصا( گائنا کالوجسٹ )اور ایمرجنسی کے ماہر ڈاکٹر ہر بڑے مرکز صحت میں موجود ہونے چاہیے۔ دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ ایمرجنسی سروسز اور ایمبولنس کا نظام بہتر بنایا جائے۔ تاکہ مریضوں کو تیسرا قدم صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں اضافہ اور اس کا درست استعمال اور نگرانی بھی ضروری ہے ۔تاکہ سہولیات واقع ہی عوام تک پہنچ سکیں۔ ان صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دور دراز علاقوں کو اگر ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ صحت کے شعبے پر مناسب توجہ نہ دینے سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور عام آدمی مہنگی نجی ہسپتالوں کا خرچ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ صحت بنیادی انسانی حق ہے۔ جب تک چھوٹے شہروں اور تحصیلوں کو بنیادی طبی سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ایسے افسوس ناک واقعات ہوتے رہیں گے ۔اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ذمہ دار ادارے فوری توجہ دیں۔ تاکہ عوام کو علاج کے لیے دور دراز نہ جانا پڑے اور قیمتی جانیں بچائی جا سکیں اور علاقہ تب ہی ترقی کر سکتا ہے ۔جب اس علاقے کے لوگ صحت مند رہیں گے۔

آخر میں تمام قارئین سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے ساتھ یا آپ کے اہل خانہ یا قریبی رشتے داروں کے ساتھ بھی کوئی واقعہ پیش آیا ہے جس کے لئے آپکو پنڈ دادن خان کے شہر سے باہر کے علاقوں میں جانا پڑا ہے تو ضرور ہمارے ساتھ شیئر کریں اور اپنی رائے کا اظہار کریں ہم نے ہی آواز بلند کرنی ہے
کیونکہ خدا بھی اسی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتا ہے

6 تبصرے ”سہولیات صحت کی کمی

  1. یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحت کی سہولیات کا فقدان پنڈ دادن خان کی عوام کے لئے سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے ہسپتال تو موجود ہے مگر قابل ڈاکٹر اور مشینری نہ ہونے کے برابر ہے جس کے لئے عوام کو باہر کے شہروں میں جانا پڑتا ہے

  2. اسلام وعلیکم! جی بلکل صحیح کہا ایسے ہی ایک 5سا ل کی بچی جو کہ پنڈ دادنخان کے تما م ڈاکٹرسےچیک کر وایا بچی تکلیف برداشت کر تی رہی اور ڈاکٹر کو مر ض ہی نہ معلوم ہو سکا ۔ جب کہ اس بچی کے گردوں میں پتھری تھی ۔اور اب اس کا با ہر علاج ہو رہا ہے ۔

  3. اسلام و علیکم
    یہ اس طرح کی تحریریں اصل تعریف کی حقدار ہیں مگر ان کا دائرہ تب ہو جب ان مسائل کا حل بھی ملے مگر ہمیں خوشی ہے کہ گل بہار بانو نے پہلے سڑکوں کے مسائل پر لکھا تھا وہ مسئلہ تو واقع ہی میں حل ہوا ہے تو ہماری تو پرایم منسٹر مریم نواز شریف صاحبہ سے گزارش ہے کہ ان مسائل پر بھی نظر ثانی کریں تا کہ پنجاب کی عوام کے مسائل بھی حل ہو جائے
    شکریہ

  4. بنیادی سہولتوں کا فقدان چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو انتہائ سنگین مسلہ اختیار کرتا جا رہاہے پاکستان کے بہت سے گاؤ ں،شہروں کو ان مسائل کاسامنا ہےجب تک عوام کو اپنی راے حق دہی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہو گا کچھ نہیں بدلےگااپنے حق کےلیے آواز بھی خود ہی اٹھانی ہو گی۔بہترین طریقے سے آپ نے صحت عامہ کے مسائل کو اجا گر کیاگیا ہے

  5. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته یہ کہنا غلط نا ہو گا کہ کتنے لوگ اپنے پیارون کو صرف اس لے کھو دیتے ہیں کے ان کے پاس اس جدید دور مین بھی بنیادی سھولتون کا فقدان ہے اور اگر رات کے وقت کوئ ایمرجینسی بنتی ہے تو اپ کو بنیادی علاج کی کمی کا اچھے سے پتا لگ جاتا ہے اور بڑے شہروں کی طرف دوڑ لگوا دیتے ہین اس میں غریب عوام کرے بھی تو کیا

اپنا تبصرہ لکھیں