[15:42, 7.11.2025] Gull Bahar Bano:
کرن کی اج نہ صرف خاندان والے بلکہ اس کے پورے گاؤں والے اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جسے کبھی سب طعنہ دیا کرتے تھے ۔اور اسے کم تر سمجھتے تھے۔ کرن جب بیاہ کر آئی تھی۔
تب اس کی سسرال والے اسے خاطر خواہ میں نہیں لاتے تھے ۔کیوں کہ کرن جہیز میں اپنے ساتھ قیمتی زیورات نہیں لائی تھی۔ ماں باپ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ لہذا جو بن سکا بیٹی کو دیا ۔اچھی تربیت تعلیم اور جہیز میں ضرورت کی تمام چیزیں اس کی اماں نے اسے اپنے سونے کی بالیاں بھی دی تھیں۔ وقت گزرتا گیا اس کا شوہر بھی اتنا امیر نہیں تھا۔ کہ اسے زیور بنا کر دیتا بس اس نے منہ دکھائی پر بیوی کو ایک سونے کی انگوٹھی دی ۔جو اس نے ایک ایک پیسہ جمع کر کے اپنی بیوی کے لیے خریدی تھی۔ خاندان کے اندر جتنی بھی عورتیں تھیں۔ ان کے پاس اس وقت اتنا زیور نہیں تھا۔ جب ان کی شادیاں ہوئی تھیں۔ مگر انہوں نے اس روایت کی بدولت کہ” کھانا ملے نہ ملے سونا بننا چاہیے”
اس گاؤں کی عورتوں نے اپنے بچوں کو نہ پڑھایا نہ لکھایا بس صرف اور صرف سونا اکٹھا کیا۔
اس گاؤں میں اس عورت کی عزت زیادہ ہوتی ۔جس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن، کانوں میں سونے کے جھمکے، اور گردن میں چمکتی ہوئی سونے کی چین، ہوتی یا اللہ لاکٹ ہوتا ،کرن کو سب کہتی ہاں تم نے آج تک کیا بنایا ؟
کرن ایک سادہ سی لڑکی تھی۔ اسے یہ پسند نہیں تھا۔ اللہ تعالی نے اسے دو بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کیں شوہر اس کا محنتی تھا۔ اور وہ دل لگا کر کام کرتا تھا۔ کرن نے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ بھلے اس کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔ کہ وہ بچوں کو اعلی تعلیم دلواتی مگر اسے شوق تھا۔ کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر ایک اچھے انسان بنیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اس کے بڑے بیٹے نے یونیورسٹی میں داخلہ لینا تھا۔ اور اس کے اچھے نمبروں کی بدولت اس کو سکالرشپ بھی مل گیا۔مگر اس کے ہاسٹل کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ کرن کی بڑی بیٹی کا ایڈمیشن بھی کالج میں ہونا تھا ۔اور ان دنوں اس کے خاوند کا کاروبار تھوڑا ماند پڑ گیا ۔جتنے پیسے تھے اس نے اپنی بیوی کے ہاتھوں پر رکھ دیے۔ مگر وہ بہت پیسے بہت کم تھے۔ اور کرن نے اپنے سونے کی بالیاں اور انگوٹھی بیچ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے پاس تو سونا ویسے بھی نہیں تھا ۔جو تھا اس نے اپنے بچوں کی تعلیم دلوانے میں بیچ دیا۔تمام عورتیں جب کسی فنکشن میں اسے خالی ہاتھ اور کان کے دیکھتی تو بہت باتیں بناتی تھیں۔ اور اسے ۔۔۔۔کہتی کہ کملی ہے تو۔۔۔ ہم تو مرچوں سے روٹی کھا لیں پر سونا نہ بیچیں۔ پر کرن کہتی اولاد کو کامیاب بنانے کے لیے تو سب کرنا پڑتا ہے۔ مگر عورتیں بڑے چاؤ سے اپنے سونے کی نمائش کرتیں۔ مگر کرن ان سب باتوں کو نہیں مانتی تھی۔ ایک دن کرن کا بیٹا کہنے لگا ماں میں تمہیں اتنا سونا پہناؤں گا کہ یہ ساری عورتیں دیکھتی رہ جائیں گی۔ اور وہ اپنے بیٹے کا ماتھا چومتی اور کہتی بیٹا عورت کی شان سونے سے نہیں عورت کی عزت سے بنتی ہے۔
پانچ سال کے عرصے کے بعد کرن کا بڑا بیٹا وکیل بن گیا۔ اور اس کا نام پورے گاؤں میں اس کی پہچان بن گیا ۔اس کی بڑی بیٹی ڈاکٹر بن گئی ۔اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کیا۔ آج جب بھی خاندان میں عورتیں سونے سے لدی ہوئی دکھائی دیتی تو اس وقت بھی جتنی عزت کرن کو ملتی اتنی اور کسی کو نہ ملتی۔ ساری محفل میں لوگ کرن کی تعریف کرتے نہ تھکتے ۔کہ سلام ہے اس عورت کو جس نے غریبی میں بھی اپنے بچوں کو پڑھایا لکھایا اور بڑا آدمی بنایا۔
لوگ کرن کی اور اس کے خاندان کی بہت عزت کرنے لگے۔ تب ایک دن کرن اپنے خاندان کی اسی عورت سے کہتی ہے ۔کہ تم نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا۔ کہ جب بچوں کو نہ پڑھاؤ ان پر پیسہ مت لگاؤ ۔اپنا سونا مت بیچو انہوں نے کون سا بڑا آدمی بن جانا ہے۔ تو ہم تو کبھی بھی اپنا سونا نہ بیچیں ۔دیکھو میری اولاد ہی میرا اصل سونا ہے۔ اور عزت سونے سے نہیں بنتی عورت کے کردار ،عورت کی شان ،اور عورت کی ذات سے بنتی ہے۔ آج میں چاہوں تو 10 تولہ سے اوپر بھی سونا خرید سکتی ہوں۔ پر کیا فائدہ اس سونے کا کہ وہ عورت کی اصل عزت، اس عورت کا اصل وقار، اور اس کی پہچان کو ہی مسخ کر دے۔
اور کرن کا ایک جملہ اس عورت کو سوچنے پر مجبور کر گیا” آج پورے خاندان اور معاشرے میں میری عزت ہے مگر میرے پاس سونا نہیں ہے”۔یہ تحریر ہمیں یہ بتاتی ہے .کہ عورت کی شان سونے، ہیرے، موتیوں سے نہیں بنتی بلکہ یہ ہمارے معاشرے کی…معاشرے میں میری عزت ہے مگر میرے پاس سونا نہیں ہے”۔یہ تحریر ہمیں یہ بتاتی ہے .کہ عورت کی شان سونے، ہیرے، موتیوں سے نہیں بنتی بلکہ یہ ہمارے معاشرے کی کھوکھلی روایتیں ہیں ۔جو ہمیں ہمارے اصل سے دور لے جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں بھی کرن کی کہانی کی جھلک آپ کو کہیں نہ کہیں نظر آئے گی۔ ہماری بہت ہی جاننے والی ایک خاتون تھیں جو امریکہ سے پاکستان آئی اپنے رشتہ داروں کو ملنے ہر دفعہ وہ ہاتھوں میں کنگن ڈالے ہوئے ہوتے کیونکہ ان کے خاندان کی روایت ہے کہ ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہوتے مگر وہ دکھاوے کے لیے نہیں ڈالتی صرف جب وہ اپنے سسرال آتی تو ڈال کر آتی۔ تو ایک دفعہ جب وہ ایک دفعہ اپنے سسرال آئیں تو وہ کنگن ڈال کے نہیں آئیں تو سب عورتیں انہیں حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں ۔جیسے وہ یہ سمجھ رہی ہوں کہ یہ غریب ہو گئی ہیں۔ یا ان کے پاس سونا نہیں ہے ۔خیر جو ان کو جانتے تھے ان کو تو پتہ تھا۔ لیکن جو عورتیں نہیں جانتی تھیں۔ انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ ایک عام سی خاتون ہے۔کرن جیسی کئی کہانیاں آپ کو اپنے ارد گرد نظر آئیں گی۔ اس عورت کی عزت زیادہ ہوتی ہے ۔یا قدر زیادہ ہوتی ہے۔ جس کے پاس سونا زیادہ ہوتا ہے۔ کسی شادی فنکشن میں جس عورت کے کپڑے اچھے ہوتے ہیں۔ تو اس کی تعریف ہوتی ہے۔ اسے عزت دی جاتی ہے۔ اور ہمارے اس معاشرے میں اس مرد کی بھی اور عورت کی طرح ہی زیادہ عزت ہوتی ہے ۔جو پیسے والا ہو جس کے پاس بڑی گاڑی، ہو بنگلہ ہو اس کے برعکس محنت کش اور کم پیسے والے مرد کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔یہ سب کیا ہے؟
کیا یہ ہمارا اسلامی معاشرہ ہے؟
اسلامی معاشرہ تو اس چمک دمک اور شان و شوکت کو عزت کا دارومدار ہی نہیں مانتا۔ ہم اپنے اصل سے بہت دور ہو چکے ہیں ۔ضرورت اس چیز کی ہے۔ کہ ہم اپنے اخلاق اپنی روح اپنے دل دماغ کو اور اپنے کردار کو بہترین بنائیں۔ نہ کہ سونے کی چمک رکھنے والی چیزوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہترین تحریر ۔۔۔۔👍👍👍