روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم کا سلسلہ دراز اور ہمارا ردعمل

روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم کا سلسلہ دراز اور ہمارا ردعمل


آصف اعظمی
www.asifazmi.blogspot.com
برما۔ پہلی باریہ نام بچپن میں سنا تھا۔تب نہ تو تاریخ وجغرافیہ کے علوم سے واقفیت تھی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کی دنیا سے تعارف ۔ تاہم اتنا یاد ہے ، اس وقت بھی یہ نام نحوست ، پریشانی اور ہجر مکانی کے حوالہ سے ہی سامنے آیا تھا۔ تب بھی بڑی تعداد میں ایسے ہندوستانی جو حصول رزق کی غرض سے برما میں مقیم تھے یا مستقل نقل مکانی کر چکے تھے، کمائی ہوئی ساری دولت لٹا کر، چھپتے چھپا تے، ہزار دقتوں کا سامنا کر تے ہوئے واپس وطن کا رخ کر رہے تھے۔آج ایک بار پھر برما کافی موضوع بحث ہے اوراس کے ساتھ تقریبا ویسی ہی دربدری، بھوک مری، درد و الم ، ظلم و ستم کی ایک ہفت بابی داستان وابستہ ہے۔تاریخ کے صفحات میں جھانک کرد یکھا تو پتہ چلا کہ قدررتی وسائل اور معدنیاتی خزانوں سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ ملک ہمیشہ سے ہی بد امنی و بد انتظامی کی آما جگاہ رہا ہے۔رہے برما کے مسلمان، تو انہیں ناموافق حالات اور جبر کے سایہ تلے زندگی گزارتے ہوئے دو صدیاں بیت چکی ہیں۔
میانما رکا صوبہ اراکان جہاں سے آرہی ظلم و تشدد کی خبروں نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، فی الواقع 1784  سے پہلے ایک الگ ملک ہو اکرتا تھا۔ مسلم ملک۔ جسے بدھ مملکت نے بزور قبضہ کر کے برما کے زیر نگیں کر لیا تھا۔ اسی اراکان میں تقریبا آٹھ نو لاکھ روہنگیائی مسلمان بستیہیں ۔روہنگیائی مسلمانوں کی اس  نسل کو یاتو اراکانی کہہ سکتے ہیں یا برمی۔ یہ بنگلہ دیشی یا ہندوستانی ہرگز نہیں ہیں جیسا کہ ڈھاکہ دعوی کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ حال میں بنگلہ دیش کی سرحد پار کرکے داخل ہوئے غیر ملکی ہیں تو وہاں بسنے والے مسلمانوں کی نسلیںکہاں ہیں، جو نہ صرف خلیفہ ہارون رشید کیعہد خلافت میں مسلمان ہوگئے تھیبلکہانہوں نے تین صدیوںسے زائد عرصہ تک بے روک ٹوک اراکان پر حکومت کی تھی۔اصل میں جب برما 1824 میں انگریزوں کی کالونی بنا اس کے بعد سے ہی وہاں کی بودھی اکثریت کے من مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا جانا شروع ہوگیا تھا، چنانچہ جب برما انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا، ذہنی طور پر وہ مسلم دشمنی بلکہ مسلم کشی کے بھیانک مرض میں گرفتار ہوچکا ہو چکا تھا۔1938 میں خود مختاری پانے کے بعد سے ہی مسلم کشی کا لامتناہی سلسلہ چل نکلا، دینی و دعوتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ لائو اسپیکر سے اذان اور مساجد و مدارس کی تعمیر پر قدغن لگائی گئی۔ شادیوں کے لئے بھی انہیں سرحدی سیکیورٹی فورسز سے اجازت نامہ حاصل کرناضروری قرار دیا گیا۔سرکاری تعلیم اور نوکریوں کے دروازے پالیسی بنا کر بند کر دئے گئے۔ مزید ستم ظریفی  دیکھئے کہ 1982میں انہیں بنگلہ دیشی بتا کر ان کی شہریت چھین لی گئی۔جس کے نتیجہ میں تقریبا  پانچ لاکھ روہنگیائی مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑا ۔ کچھ پڑوسی ممالک بنگلہ دیش کی طرف بھاگے تو کچھ نے سعودی شاہ کی اجازت سے مکہ میں پناہ لی۔چنانچہ معلوم یہ ہوا کہ آزاد بدھ مملکت نے باقاعدہ پروگرام کے تحت میانمار کے اقلیتی مسلمانوں کو ٹارگٹ بنایا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
حالیہ جون میں جب ایک بدھ لڑکی کی عصمت دری کا بہانہ بنا کر مسلم بستیوں پر مسلح حملہ، آتش زنی اور انہیں ان کی زمینوں سے بے دخلی کے جو شرمناک واقعات سامنے آرہے ہیں، انہوں نے انسانیت نواز افراد اور ممالک کی تشویش بڑھا دی ہے۔ واضح رہے کہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ عصمت دری کا معاملہ تو گڑھا گیا ہے ورنہ تو اس لڑکی نے اسلام قبول کر کے باقاعدہ شادی کی تھی۔ یہی بات بدھ مذہب کے پیروکاروں کو پسند نہیں آئی اور چنانچہ پہلے تو انہوں نے دعوتی قافلہ پر حملہ کیا اور جب مسلمانوں نے احتجاج کیا توانہیںفرقہ وارانہ تشددکی نہ تھمنے والی آگ میں جھونک دیا گیا۔اس پر طرہ یہ کہ جب برمی فوج نے امن کی کمان سنبھالی تو امن کے علاوہ وہ تمام تحفے دئے جو ان کے درد،بے بسی اوربے وطنی کے احساس کو بڑھانے والے تھے۔ الزام ہے کہ فوج  پہلے تو اقلیت مخالف حملوں کا حصہ بن گئی ۔ ان کے آنے سے ظلم و تشدد کے واقعات باقاعدہ منظم طریقے سے انجام دئے گئے۔بعد ازیں اس نے ایک طرفہ اور جانب دارنہ کاروائی کرتے ہوئے کثیر تعداد میں روہنگیائی مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔یہ الزام مسلمانوں کا لگا یا ہو انہیں بلکہ اقوام متحدہ کی ایک تنظیم کا ہے۔ ایسے میں جب فوج کے ساتھ مل کر متشدد بودھی روہنگیائی مسلمانوںپر جبر کے پہاڑ توڑ رہے تھے، انہیں اپنے بستیوں سے بے دخل یا گرفتار کررہے تھے،  وہ مدد کے لئے پڑوسی ممالک بالخصوص انڈونیشیا، ملیشیا، برونئی، بنگلہ دیش کی طرف دیکھ رہے تھے۔ مگر ان کا مجموعی ردعمل بے حد سرد تھا۔بنگلہ دیش نے تو لٹے پٹے روہنگیائی مسلمانوں کے قافلوں کی آمد پرنہ صرف روک لگائی، بلکہ پہلے سے پناہ گزین روہنگیائیوں کو کھانے اور اشیائے ضروت فراہم کر رہی سماجی تنظیموں کی سرزنش بھی کی۔کیونکہ یہاں معاملہ لٹے پٹے لوگوں کو بچانے یا امداد فراہم کرنے کا نہیں، بلکہ اس دعوی کا تھا کہ یہ بنگلہ دیشی مسلمان ہیں جو حال ہی میں برما میں وارد ہوئے ہیں۔  دوسری طرف برما کے صدر تھین سین کا بیان آیا کہ ان لوگوں کو کسی دوسرے ملک میں بسانا چاہئے۔ایسے میں ایک بار پھر برما کے روہنگیائی مسلمان دوراہے پر کھڑے ہیں۔
وہ تو بھلا ہو کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیاں جاگ رہی تھیں اور اس کے چلتے کچھ مسلم ممالک کی غیرت بھی جاگ گئی۔ترکی نے باقاعدہ چندہ جمع کر کے وفد بنا کر برما بھیجاجس میں وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کی اہلیہ شامل تھیں۔ سعودی عرب نے بھی انفرادی طور پر اور آرگنائزیشن آف مسلم کنٹریز نے اجتماعی طورپرنہ صرف مذمتی قرارداد پاس کی، بلکہ امداد بھی روانہ کی۔لیکن سوال ہندوستان کے ردعمل پر بھیہے۔ آخر صلح کل اور نان الائنٹمنٹ کی پالیسی میں یقین رکھنے والا یہ ملک کیوں پیچھے رہ گیا۔ ہندوستان نے حال ہی میںسری لنکا کے بارے میںا مریکی قرار داد کی حمایت کی تھی۔ پھر کیا چیز اسے برمی اقلیت کی ہمنوائی سے روک رہی ہے، جب کہ اقوام متحدہ کے ادارے بھی چیخ چیخ کر اس ظلم و جبر کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ سردست تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہندوستان دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتا، بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ پڑوسی مسلم ممالک جیسے ملیشیا، انڈونیشیا، برونئی اور بنگلہ دیش سبھی کا رویہ بے حد سرد ہے۔اس پر طرہ  برما کا یہ دعوی ہے کہ روہنگیائی اصلا بنگلہ دیشی ہیں، جب کہ ہندوستان خود بنگلہ دیشی مہاجرین کے مسائل سے نبردآزما ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے ارباب حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ یہ معاملہ نہ تو بنگلہ دیشیوں کی برما میں گھس پیٹھ کا ہے اور نہ ہی تنگ دل پڑوسی ممالک کے ذریعہ پناہ دینے میںسرد مہری کا۔ یہ معاملہ ظلم و جبر اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا ہے جس میں میانمار کو مہارت حاصل ہوچکی ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں پرپچھلے ساٹھ ستر سال سے چلے آرہے تشدد کے سلسلہ کی روک تھام کا ہے، جس میں ان تما م افراد، اقوام اور ممالک کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے جو انسانی قدروں اورانسانی حقوق میں یقین رکھتے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ یہی بات جب ہندوستانی مسلمان ارباب حل و عقد کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ، خواہ اس ناطے سے ہی سہی کہ ظلم ان کے مسلم بھائیوں پر ہو رہا ہے، تو نت نئے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔حکمراں ان کی گلیوں کا رخ نہیں کرتے، انتظامیہ ان کی باتیں اوپر نہیں پہونچاتا، پھر ان کے وہ جذبات و احساسات اہل اقتدار تک کیسے پہونچیں، جوعین ہندوستانی تہذیب و اقدار کے عکاس ہیں اور ہماری خارجہ پالیسی سے بھی نہیں ٹکراتے۔وہ میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید وہی ہمیشہ کی طرح ان کی مدد کرے لیکن و ہ بھی منہ پھیر کر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ آخر ایسا ہو بھی کیوں نہ جب کی ہندوستانی میڈیا خارجہ پالیسی کے بارے میں ساری لیڈ نارتھ و سائو تھ بلاک سے لیتا ہے اور ابھی تک یہ مسئلہ شاید مذکورہ با لا وجوہات کے چلتے ان کی مضبوط دیواروں سے باہر نہیں آپایاہے۔ مگر بات اتنی سی نہیں ہے ۔ عام ہندوستانی مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ان کی آواز مین اسٹریم میڈیابالخصوص الکٹرونک میڈیا نظر انداز کرتا ہے۔ جمعیت علمائے ہند جو امن پسند اور ملک دوست تنظیم ہے ، جنگ آزادی اور آزاد ہندوستان کی تعمیر میں جس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ،وہ بھی یہ شکایت کرتی ہے کہ ان کے  لاکھوں کے پر امن احتجاج اور جلسوں کو بھی میڈیا کو ریج نہیں دیتا ہے۔اگر کبھی یہ احسان کربھی دیا تو بس اتنی بھر خبر آتی ہے کہ کثیر مجمع کی وجہ سے ٹریفک کا نظم درہم برہم ہوگیا۔ دوسری طرف کل کی بات لیجئے جب میڈیا راج ٹھاکرے کی ریلی کو قدم بہ قدم کور کر رہا تھاجو رضا اکیڈمی کی اس جلسہ میں ہوئے تشدد کے واقعات کی مذمت کے لئے منعقد کی گئی تھی ، جس کا مقصد میانمار اورآسام میں جاری ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔
افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں پر جذباتیت کا جو الزام لگا یا جاتا ہے،وہ اسے موقع بہ موقع ثابت کرنے پر کیوں تل جاتے ہیں۔ رضا اکیڈمی اس ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی کہ اس کا پہلا کام ہندوستانی مسلمانوں کی ذہنی، روحانی اور معاشرتی تربیت و اصلاح ہے۔ وہ کون سے مسلم نوجوان تھے جنہیں اتنا تک نہیں معلوم کہ امر جوان جیوتی کی کیا علامتی حیثیت ہے۔ پھر جسٹس کاٹجو کے اس سچ کے باوجود کہ میڈیا بسا اوقات جلسوں اور احتجاج کا حصہ بن جاتا ہے، جیسا کہ بابری مسجد کار سیوا کے وقت ہوا تھا ، یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ ابھی بھی سیکولر ہے اور یہ بات گجرات فسادات کے موقع سے ثابت بھی ہوچکی ہے۔ اگر ہمارا رویہ یوں ہی جذباتی اورردعمل غیر ذمہ دارانہ رہا تو اس سیکولر اکژیت کی ذہنی تبدیلی میں کتنا وقت لگے گا؟

اپنا تبصرہ لکھیں