رات اک نظم سمندر کی طرح

شعاع نور

رات اک نظم سمندر کی طرح تکیے پر
ایسے پھیلی کے سمیٹی نہ گئی تھی مجھ سے۔۔
میری آنکھوں میں دھواں ہجر کا یوں بھر آیا
جیسے گنبد میں کوئی در نہ کوئی کھڑکی ہو
میرے ہونٹوں پہ کوئی اسمِ محبت ہوگا۔۔۔
جس کو چھونے سے مری آنکھ بہت بھیگی ہے
رات بھی کیسی گزرتی ہے مری تکیے پر
جیسے منظر کوئی دھندلایا ہوا گزرا ہو
دل کے اطراف کئ شعر ستاروں جیسے
میری آنکھوں سے بہے جاتے تھے موتی کی طرح ۔۔
کوئی مہلت مجھے ملتی تو تری خاطر میں ۔۔۔۔
زرد آنچل پہ ترے ہجر کے اس دھاگے سے
دل کے جذبوں سے جو ہم رنگ کہیں مل جاتا۔۔۔
کاڑھتی پھول کسی زخم کا ٹانکا بھرتی
اپنے اشکوں سے کوئی بیل اگاتی اس پر جن میں یادوں کے شفق رنگ ابھی باقی ہیں
کیا خبر پھول محبت کا کہیں کھل جاتا
ایسا کرنے سے ترے دل سے یہ دل مل جاتا۔۔۔
اتنی مہلت ہی کہاں کرب مگر دیتا ہے
کیسی خوشبو ہے محبت کی مرے اشکوں میں
اب تو سورج بھی اتر آیا مرے آنگن میں
ایسا اترا کہ نمی اور چمک اٹھی ہے
کس طرح کے ہیں شب و روز بھگونے والے
چیرتے دل کو مرے لفظ ڈبونے والے
کتنے اشعار ترے نام مجھے کرنے تھے
اپنی نظموں میں پرونے تھے یہ دل کے ٹکڑے
یہ جو منظر پہ اتر آئے ہیں پانی بن کر
ضبط کی کوکھ میں پلتے تو کوئی بات بھی تھی
میرے اشعار میں ڈھلتے تو کوئی بات بھی تھی
تو تو سینے میں سمندر کی طرح یوں بپھرا
میری آنکھوں میں زمرد کی طرح آ اترا
اب میں پانی سے ترا عکس اٹھاؤں کیسے
اس زمرد سے کوئی نظم بناؤں کیسے

اپنا تبصرہ لکھیں