خواجہ سرا کی قبر

زارا نے عشاء کی نماز ادا کی اور ہاتھ میں تسبیح لیے کھڑکی کے پاس آ بیٹھی،
کل جو چاند آسمان پر چمک رہا تھا آج اس کی روشنی پھیکی پڑ گئی تھی،
آج چاند دھندلا نظر آ رہا تھا، گرم لو چل رہی تھی، گرم ہوا کا جھونکا کھڑکی سے گزرا تو زارا نے جلدی سے کھڑکی بند کر دی،
اور تسبیح پڑھتے ہوئے چارپائی پر لیٹ گئی،
گوركن بابا حجرے کے صحن میں بیٹھے اعراب کے بغیر والا قرآن پاک پڑھ رہے تھے،
کچھ لوگ ننگے پاؤں دبے قدموں سے چلتے ہوئے کندھے پہ جنازہ رکھے قبرستان میں داخل ہو رہے تھے،
بابا نے قرآن پاک کو بند کیا اور حجرے کے طاقچے میں رکھ دیا اور چپل پہن کر ان لوگوں کی طرف چلے دیے،
چپ چاپ اسے دفنایا گیا اور وہ لوگ چلے گئے،
صبح کی نماز کے بعد زارا بابا کے پاس آئی اور راتوں رات بنی اس قبر کا پوچھا جس کی مٹی ابھی تک نم تھی وہ قبر گیلی لگ رہی تھی، بیٹی اس دنیا میں کسی کی ذات مکمل نہیں ہے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی معذوری ہے،
کوئی ذہنی معذور ہے تو کوئی جسمانی معذور، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں یہ سفاک معاشرہ کیا ان کے ماں باپ تک بھی انھیں قبول نہیں کرتے انھیں گھر سے نکال دیا جاتا ہے،
انھیں اس معاشرے کا فرد تک نہیں سمجھا جاتا، انھیں نامکمل ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں،
بیٹی یہ ایک خواجہ سرا کی قبر ہے، ان کی نا ہی ڈولی اٹھتی ہے اور نہ جنازہ،
انہیں رات کے اندھیرے میں دبے پاؤں آ کر دوسرے خواجہ سرا دفن کر کے چلے جاتے ہیں،
بیٹی والدین کو تو گناہوں والی اولاد تک پیاری ہوتی ہے، ماں تو اپنے قاتل بیٹے تک کو بددعا نہیں دیتی اسے معاف کرنے تک تیار ہو جاتی ہے مگر ان کو گھر میں جگہ ملتی ہے اور نہ ماں باپ کے دلوں میں،
پیاری بیٹی اگر اللہ پاک نے انہیں اک محرومی کے ساتھ پیدا کیا ہے تو ہمیں ان کو دنیا کی باقی ساری محرومیوں سے محفوظ رکھنا چاہیے
ہمیں ان کیلئے آسانیاں پیدا کرنے چاہیے مگر۔۔۔ مگر ہم کیا کرتے ہیں ان کے ساتھ،😥
بابا آبدیده ہو گئے، ہم لوگوں کو انہیں وہ تمام مواقع فراہم کرنے چاہییں تا کہ یہ باعزت طریقے سے با پردہ زندگی گزار سکیں،
مگر ہم انہیں ایک بوجھ کی طرح اپنے کندھوں سے اتار پھینکتے ہیں تو کچھ لوگ ان میں سے بھکاری بن جاتے ہیں اور کچھ تا عمر زلت کی زندگی گزارتے ہیں،
آج بھی اس کے چند دوست اسے یہاں چھوڑ گئے اور والدین کو تو علم بھی نہیں کہ ان کی ایک اولاد آج اس دنیا سے چلی گئی ہے،۔۔۔۔ بیٹی آج کے بعد کوئی اس قبر کا پوچھے تو کہنا یہ گورکن بابا کے بیٹے کی قبر ہے،
بابا کے آنسو رکے تو اچانک بارش شروع ہو گئی آسمان بھی رو رہا تھا
اور یہ پہلی بار تھا جب کوئی قبر اتنے گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی نہیں سوکھی تھی نمی ہنوز برقرار تھی
یوں جیسے اندر ہی اندر کوئی رو رہا ہو، اپنے رب کی نعمتوں کو دیکھ کر اس کی آنکھیں خوشی سے برس رہی ہوں،
زارا بھی بارش میں بھیگتی رہی یوں جیسے وہ بھی اپنے آنسو چھپانا چاہ رہی ہو

اپنا تبصرہ لکھیں