خواب لکھنے والی قلمکار کے نام

ڈاکٹر شہلا گوندل

یہ نظمیں یہ غزلیں یہ تیری کتابیں
یہ لفظوں کے گھوڑے یہ سطری طنابیں

ترا خواب بس یہ کہ دنیا یہ بدلے
جو تو سوچتی ہے زمانہ وہ سمجھے

پرانے یہ ظلمت کدے چھوٹ جائیں
روایت سے لپٹے صنم ٹوٹ جائیں

مگر اہلِ دنیا غنا کب کریں گے
ہوس کے پجاری وفا کب کریں گے

جو بس میں ترےمعجزہ کوئی ہوتا
نہ گلیوں میں بھوکا کبھی کوئی سوتا

یہ جنگوں کا طوفان برپا نہ ہوتا
فلسطین میں کوئی بچہ نہ روتا

جو ہر اک کو تعلیم و فن یکساں ملتا
تو طبقاتی درجوں کا یہ فرق مٹتا

نہ مجبُور باپوں کے آنسو ہی بہتے
نہ ہم بے بسی کے یہ افسانے کہتے

ماں بچے لے کر خود کشی بھی نہ کرتی
بدن بیچ کے پیٹ عورت نہ بھرتی

سفر خواب کا سہل ہر گز نہیں ہے
کہ انساں کی فطرت وہیں کی وہیں ہے

فقط ایک آواز اور اک قلم سے
بچیں کیسے انساں جہاں کے ستم سے

مگر تم نے ہمت جو باندھی ہے اب تو
جہاں کے ستم سارے جرات سے لکھ دو

بظاہر ترے خواب ہیں بس فسانے
بھلا لکھتے رہنے سے کب کوئی مانے

مگر لکھ کہ حرفِ رقم رائیگاں کب
مٹے گا زمانے سے اسکا نشاں کب

اپنا تبصرہ لکھیں