خزانہ بزرگوں‌کی یادوں‌کا

تحریر گل بہار بانو
ضلع جہلم
حصہٰ ءاول
سمیرا کی سکول سے سردیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہو چکا تھا ۔وہ جیسے ہی اکیڈمی سے پڑھ کر گھر لوٹی تو گھر کے صحن میں اس کی سب کزنیں دادی کے ارد گرد جمع تھیں۔ اور غور سے دادی کی باتیں سن رہی تھیں ۔سمیرا نے جلدی سے کھانا کھایا اور دادی کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی۔ سردیوں کا موسم تھا۔ اچھی خاصی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ اس کی بڑی پھپھو اور چاچی بھی ان کے ہاں آئے ہوئے تھے۔ سب لڑکے چاچو طایا اور ابا کے ساتھ ڈیرے پر گئے ہوئے تھے۔ اور ساری کزنز دادی کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی کزن ملیحہ جو گریجویشن کر رہی تھی۔ زنائشہ جو بی ایس کی سٹوڈنٹ تھی۔ آمنہ جس نے ابھی فرسٹ ایئر کے پیپرز دیے تھے۔ اور چھوٹی بسمہ جو ابھی میٹرک کی طالب علم تھی۔ ساتھ میں پھپھو اور امی جان بھی دادی کے زمانے کے قصے سن رہی تھیں۔ یہ وہ کہانیاں اور واقعات تھے ۔جو سمیرا اور اسکی کزنز کے لیے بالکل نئے تھے۔ آج سے 25 سے 30 سال پہلے کی باتیں جو سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھیں۔ سمیرا کی دادی نے بتایا کہ ان کے زمانے میں نہ تو بجلی ہوا کرتی تھی۔ نہ گیس اور نہ گھروں میں پانی میسر ہوتا تھا۔….جاری ہے

2 تبصرے ”خزانہ بزرگوں‌کی یادوں‌کا

  1. بزرگوں کی یادیں انکی زندگی کے تجربات ہیں۔ اس میں زندگی کی یادیں ،خوشیاں ،غم سب شامل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھنے سے انسان ان سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ان کے تجربات سے فایدہ اٹھا سکتا ہے۔ سب کے ساتھ بیٹھنے سے انسان مجلس میں بیٹھنے کے آداب سیکھتا ہے،حاضر جواب ہوتا ہے،زندگی کی اونچ نیچ سمجھ میں آ تی ہے۔ معلومات میں اضافی ہوتا ہے۔ دوسروں کے مزاج کے مطابق انسان بات کرنا سیکھتا ہے،آداب معاشرت سمجھ آتے ہیں۔
    آئیے
    اس سال اپنے گھر اس روایت کو کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں