خزانہ بزرگوں‌کی یادوں‌کا..حصہ دوم

تحریر گل بہار بانو
ضلع جہلم
دادی نے بتایا کہ ہم پانی بھرنے کے لیے محلے کی چار پانچ سہیلیاں جن کے انہوں نے عجیب نام بتائے( شموں کمہاری، بی بی تالیاں ،آسیہ قسین، رقیہ موچن ،فاطمہ ست بھرائی) یہ عجیب نام تھے. شاید ان کے زمانے میں عورتوں کے ناموں کے آگے ان کے پیشے کا نام لگتا تھا۔ پھر وہ پیشہ چاہے ان کے والد کا ہوتا یا ان کے شوہر کا ۔
دادی نے بتایا کہ دریا پر وہ مٹی کے گھڑے لے کر پانی بھرنے جایا کرتی تھیں۔ چاہے گرمی ہوتی یا سردی پر آج کل کے بچوں کو تو خود سے اٹھ کر پانی کا گلاس بھی نہیں پیا جاتا ۔اور آج کل کی عورتیں گھروں میں پانی ہونے کے باوجود موٹر چلانے کے لیے ایک دوسرے کو کہتی ہیں۔ ایک کہتی ہے تم چلاؤ دوسری کہتی ہے تم چلاؤ ۔یہ بات سن کر چچی اور طائی نے اتفاق کیا کہ سچ میں ایسا ہی ہے۔ سمیرا کی دادی نے بتایا کہ جب میں 17 سال کی تھی۔ تو وہ دور بڑا ہی خوبصورت تھا ۔آج تم لوگ اپنی ننہال آئے ہو میرے بچوں بالکل اسی طرح جب ہم نے نانی کے گھر جانا ہوتا تھا۔ تو احمد آباد سے چل کر ٹوبہ تک آتے اور پھر آگے سے ریل گاڑی آتی جو سیدھا پنڈ آکر رکتی تھی۔
دادی کی چھ بہنیں تھیں۔ اور دو بھائی اور ان کے ابو کے پاس ایک سائیکل ہوتی تھی۔ اس پر وہ چھوٹی بیٹیوں کو بٹھاتے اور باقی سب بہن بھائی خوشی خوشی چل کر آتے تھے۔ راستے میں رک کر پانی پیتے آرام کرتے پھر چلتے اس طرح ہم پنڈ پہنچتے۔ سب غور سے دادی کی باتیں سن رہے تھے ۔کہ اتنے میں چچی کینو لے کر آئی اور مولیاں کھانے کے لیے تب دادی نے بتایا کہ جو ہمارے نانا ابو ہوتے تھے ۔وہ منڈی سے مولیاں، گاجریں ، شلجم کینو لے کر آتے تھے ۔اور ہم نے سارا دن کچے شلجم کھانے مولیاں کھانی کینو ،گاجریں کھانیں ۔تب ہی تو ہمارے رنگ سفید اور سرخ ہوتے تھے۔ لوگ کہتے تھے۔ کہ یہ پٹھانوں کے بچے ہیں ۔اتنے میں آمنہ کو امی نے آواز لگائی کہ کھانا کھالو تو آمنہ نے منہ بنا کر کہا کہ میں پالک نہیں کھاؤں گی مجھے آملیٹ بنا دیں۔دادی بولی یہ لو آج کے بچوں کے نخرے ہمارے زمانے میں ہمیں جب بھوک لگتی تھی۔ تو ہم گڑ، شکر کے ساتھ روٹی کھاتے تھے۔ کبھی کبھی تو لال مرچیں پانی میں مکس کر کے پیاز کے ساتھ روٹی کھا لیتے تھے۔ کبھی نخرے نہیں کرتے تھے۔ ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ سارا دن کام کرنا اور کھیلنا اور پھر میں بعد اتنی بھوک لگتی تھی۔ کہ جو ملتا تھا کھا لیتے تھے۔ زنائشہ نے پوچھا کہ دادی جب گیس نہیں ہوتی تھی ۔تب آپ کھانا کیسے بناتے تھے۔ دادی مسکرا کر بولی تب ہم پانچوں بہنیں مل کر بیلے جاتی تھیں۔ تین بہنیں لکڑیاں کاٹتی دو بہنیں گوبر کی تھاپیاں بنا کر رکھ دیتی شام ہوتی وہ تھاپیاں خشک ہو جاتی تو گھر لے کر آتے تھے ۔ان تھاپیوں سے آگ جلاتے تھے۔ اور کھانا پکاتے تھے۔ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا تھا۔ کہ جو روٹی صبح یا کل کی پڑی ہوئی ہوتی تھی۔ خشک روٹی جس کو کہتے ہیں۔ اس روٹی کو چٹو میں ڈال کر کوٹ لیتے تھے۔ پھر اس کو چھان کر اس (بھور) میں شکر ملا کر چوری بنا کر کھاتے تھے۔ ہم لوگ دریا پر جاتے ہیں۔ اپنی سہیلیوں کے ساتھ جس دن کپڑے دھونے ہوتے تھے۔ میرے ابو کا صابن بنانے والا (ٹال) ہوا کرتا تھا ۔اور وہ صابن بناتے تھے۔ اور بیچتے تھے۔ ہم نے جوں ہی کپڑوں کی گٹھڑی اٹھانی کالا صابن لینااور دریا پر چلے جانا وہیں پر کپڑے دھونے، دریا کے کنارے بچھا دینے ،اور وہی دریا میں نہانا، تیرنا تیراکی کے مقابلے کرنے، سمیرا بولی وہ کیسے؟
بھائی ہم پانچوں سہیلیاں بڑی تیراکو تھیں ۔تیرنا جانتی تھیں۔ ہم نے بڑے سے اونچائی والے دریا کنارے سے چھلانگ لگانی اور ڈائی لگانی مقابلہ لگانا کہ پہلے کون دوسرے کنارے پر جائے گا ۔سمیرا بولی واہ دادی آپکو تو سوئمنگ بھی آتی تھی۔ پر دادی وہاں پر لڑکے ہوتے ہوں گے آپ کو شرم تو آتی ہوگی ارے نہیں !
اس دور میں دریا پر لڑ کے بہت کم ہوتے تھے۔ ہم دوپہر کو جاتی تھیں۔نہ موبائل ہوتا تھا۔ بڑا سادہ زمانہ تھا۔ سادے لوگ اگر سردیاں ہوتیں تب بھی ہم دریا پر جاتی دریا کے کنارے سے لکڑیاں اکھٹی کر کے آگ جلاتی پانی گرم کرتی تھی۔ اور کپڑے دھوتی دن کا کھانا وہیں پر کھاتیں ،روٹی اور اچار ساتھ لے جاتیں بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آمنہ نے پوچھا دادی بجلی تو ہوتی نہیں تھی پھر آپ کیسے سوتے تھے رات کو کھانا کیسے کھاتے تھے ؟…
جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں