جب آدمی ریٹائر ہو جاتا ہے
اور اچانک سارا وقت گھر میں گزارنے لگتا ہے
تو کبھی کبھی گھر کا سکون بھی الٹ جاتا ہے
اسی طرح ایک بزرگ تھے
ریٹائر ہو کر گھر بیٹھے
شروع میں سب خوش تھے
کہ اب ابّا گھر میں رہیں گے
لیکن کچھ ہی دنوں میں مسئلہ بن گیا
ہر بات پر ٹوکنا
کبھی بجلی کے بل پر غصہ
کبھی کہنا اے سی بند کر دو
کبھی پانی کیوں بہہ رہا ہے
کپڑے دھوئے یا نہیں
گھر صاف ہوا یا نہیں
ہر وقت تنقید
ہر وقت شکایت
پورے گھر کی فضا خراب ہونے لگی
بیوی بھی تنگ
بچے بھی تنگ
اور سب کے دل میں یہی احساس
کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر کی سانسیں رک سی گئی ہیں
ایک دن خود بزرگ کو بھی احساس ہو گیا
کہ گھر میں سب مجھ سے پریشان ہیں
میری موجودگی گھر والوں کے لیے بوجھ بن رہی ہے
تو دل ٹوٹ گیا
اور سوچا
کہ گھر میں کم رہوں
تاکہ ماحول بہتر ہو جائے
وہ روز باہر نکلنے لگے
پارک میں بیٹھنا
بازار کا چکر
بس ایسے ہی وقت گزارنا
تاکہ کسی کو تنگ بھی نہ کریں
اور خود بھی ذہنی دباؤ سے بچیں
ایک دن بازار میں
ایک پرانی واقفیت والی خاتون مل گئیں
عمر میں چھوٹی
اپنی زندگی کے مسئلوں سے گزرتی ہوئی
کہنے لگیں
میں بھی مشکل وقت سے گزری ہوں
اکیلی ہوں
اور آپ کی حالت بھی سن کر دل دکھا
باتوں باتوں میں وہ دونوں قریب آئے
اور دونوں نے فیصلہ کیا
کہ اپنی تنہائی اور ذہنی تھکن ختم کرنے کے لیے
ایک نیا زندگی کا فیصلہ کیا جائے
سو دونوں نے نکاح کر لیا
اب اگلی صبح
بزرگ گھر واپس آئے
بیوی نے پوچھا
کہاں تھے
رات کہاں گزاری
بزرگ نے کہا
الحمدللہ نوکری مل گئی ہے
بیوی خوش
دل سے دعا دی
کہ چلو آپ کا بھی دل لگا رہے گا
اور گھر کا ماحول بھی بہتر رہے گا
پوچھا
کیا نوکری ملی ہے
بزرگ بولے
رات کی ڈیوٹی
چوکیداری
بیوی نے خوش ہو کر کہا
بہت اچھا فیصلہ ہے
رات کی ڈیوٹی ہے
تو صبح آرام سے گھر آ جایا کریں
میں ناشتہ بھی بنا دوں گی
آپ بھی سکون سے وقت گزاریں گے
یوں بڑے میاں کی
گھر میں عزت بھی واپس آ گئی
گھر کا سکون بھی
اور سب نے شکر کیا
کہ خاموشی سے مسئلہ ایسے حل ہوا
کہ نہ گھر ٹوٹا
نہ دل ٹوٹے
اور ماحول بھی سدھر گیا
اصل بات یہ ہے
کہ آدمی گھر میں فارغ ہو کر بیٹھ جائے
تو گھر کی برداشت بھی ختم ہو جاتی ہے
اور اس کا اپنا صبر بھی
مصروف رہیے
کیونکہ یہ بہترین علاج ہے
گھر کے سکون کے لیے بھی
اور اپنے دل کے لیے بھی ❤️❤️❤️

Recent Comments