(ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیم سے فارالتحصیل طلبہ و طالبات لے لیے مستقبل کا لائحہ عمل)

وطن عزیز پاکستان میں ثانوی اور اعلی ثانوی جماعتوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات امتحانات سے فارغ ہو چکے ہیں اور اب نتائج کے انتظار میں ہیں ۔ انہیں اپنے مستقبل کی فکر تو لاحق ہوتی ہے اور یہ سہانے خواب بھی دیکھتے ہیں لیکن امتحانات کے بعد تمام تر وقت تفریح طبع میں ضائع کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ان کی زندگی کا قیمتی وقت ہوتا ہے اور اس وقت کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہیے۔ضرورت تو اس بات کی ہے کہ سکول میں داخلے کے دوران رجحان کی جانچ کی جائے اور ابتدائ سے ہی بچوں کی تعلیم اسی نہج پہ ہو تاکہ انہیں بعد میں فکر نہ ہو لیکن اس طرف ہمارے ارباب اختیار نے کبھی توجہ نہیں دی ۔ اس صورتحال میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے ۔ روزگار سے متعلق رہنمائی (Career Counseling ) کی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کی بروقت رہنمائی فرمائیں ۔
عام طور پر تعلیم حاصل کرنے کا مقصد حصول روزگار کو گردانا جاتا ہے جو انتہائی تنگ زاویہ نظر ہے ۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو تعلیم کا مقصد محض حصول روزگار نہیں بلکہ خود کو انسانیت کے لیے ایک مفید فرد بنانا ہے ۔ دینی تعلیمات کو سامنے رکھا جائے تو بھی حصول علم کا مقصد معرفت الٰہیہ کا حصول اور دین و دنیا کی فلاح کا حصول ہے ۔علم کے ذریعے معرفت ، کسب حلال کے ذریعے قرب الٰہی، حاصل ہوتا ہے ۔ انسان علم کے ذریعے باعمل اور مال کے حصول اور اسکے صحیح راستے پہ خرچ کرنے سے قوی مومن بن جاتا ہے جو اللہ کو بہت محبوب ہے ۔ہمارا استبدادی نظام تعلیم ان اعلٰی مقاصد کے حصول کے بجائے قوم کے شباب کو کے طور پر تیار کر رہا ہے ۔اس نظام تعلیم سے مادہ پرست اور ذہنی غلام ہی تیار ہوتے ہیں جوفلاح انسانیت کی ظاطر آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔والدین کے پسندیدہ پیشے کا اختیار کرناایک بہت بڑی وجہ ہے ۔ اکثر والدین بچوں کے ذہن میں یہ بات انڈیل دیتے ہیں کہ انہوں نے تعلیم حاصل کر کے افسر بننا ہے، ڈاکٹر بننا ہے وغیرہ ۔پیشے کے اختیار کو بچے کے رجحان پہ چھوڑنا چاہیے تاکہ وہ اپنے ذہن اور استعداد کے مطابق درست فیصلہ کر سکے۔
یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کامیابی کا جو تصور آپ کے ذہن میں ہوگا وہی کامیابی ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز کامیابی نہیں ہوتی ۔کبھی ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک دفعہ کسی سکول میں دوڑ کا مقابلہ ہو رہا تھا ۔ تمام افراد کے ذہن میں ایک طالب علم کا نام تھا جو ہر مقابلے میں اول انعام لیتا تھا ۔ اس بار بھی وہ تمام لوگوں کے لیے مرکز نگاہ تھا لیکن وہ خود اس بار دوسرے نمبر پہ آنا چاہتا تھا کیونکہ دوسرے نمبر پہ آنے والے کے لیے جوتوں کا انعام تھا جو اس کی چھوٹی بہن کو بہت پسند تھے ۔ جب دوڑ شروع ہوئی تو اس طالب علم نے خود کو دوسرے نمبر پہ رکھنے کی کوشش کی لیکن دوڑ کے اختتام پر وہ آگے نکل گیا اور اول آگیا۔ لوگون نے اسے کنھوں پہ اٹھا لیا لیکن وہ بری طرح رو رہا تھا ۔ اصل میں لوگ اسے کامیاب سمجھ رہے تھے لیکن وہ اپنے ہدف کے حصول میں ناکام رہا اس لیے وہ رو رہا تھا۔ کسی ایک فرد کو اپنے پیشے میں کامیاب دیکھ کر معاشرے کے دیگر افراد بھی اپنے بچوں کو اسی شعبے کی طرف دھکیل دیتے ہیں ۔ اس بھیڑ چال کی وجہ سے جلد ہی وہ شعبہ افراد کار سے بھر جاتا ہے اور پھر لوگ ڈگریاں ہاتھوں میں لیے روزگار کے لیے سرگرداں ہوتے ہیں ۔طب اور انجنئیرنک کی جانب جھکاؤ ایک المیہ ہے کیونکہ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے طبیب (ڈاکٹر ) یا مہندس(انجنئیر) بنیں اس سے یہ نقصان ہوتا ہے کہ دوڑ لگتی ہے اور لائق افراد انہی دو شعبوں میں چلے جاتے ہیں ۔ جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ یہی لائق افراد ہر شعبے میں ہوں ۔
بیرون ملک ملازمت کے متوقع مواقع بھی ذہنی انتشار کا سبب بنتے ہیں ۔طلبہ کی کثیر تعداد ایسی بھی ہے جوجلد از جلد دولت کمانے کی خاطر بیرون ملک چھوٹی موٹی ملازمت اختیار کر لیتے ہیں اور تعلیم کو خیرباد کہہ دیتے ہیں ۔ اسی طرح ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو اچھی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود یہاں مناسب روزگار نہ پاکر بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح یہ روش ذہنی انخلاء (برین ڈرین) کاسبب بن رہی ہے ۔ قابل اذہان دیگر اقوام کی تعمیر و ترقی کا سبب بن رہا ہے اوریہاں مزید مایوسی پھیل رہی ہے ۔سرکاری ملازمت کی چکاچوند بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ لوگ سرکاری ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بچے سرکاری ملازم اختیار کریں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان شعبوں میں کام کم اور فوائد زیادہ نظر آتے ہیں ۔یہ رویہ بھی افراد سے محنت کا جذبہ سلب کر کے انہیں تساہل پسندی کی جانب دھکیل دیتا ہے ۔
ہمیں مستقبل کی فکر کرنے سے پہلے اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ڈھیروں راستے اور مواقع موجود ہیں ،تمام ہی انتخاب برابر و یکساں ہیں اور ایک دوسرے کے مقابلے کے ہیں،ہر کسی کو چاہیے کہ اپنی شخصیت ، تعلیم اور خواہش کے مطابق ذریعہ معاش کا انتخاب کرے،جذبہ نہ تو کسی کے اندر انڈیلا جا سکتا ہے نہ ہی کسی سے نقل کیا جا سکتا ہے۔

بھی شعبے کو اختیار کرنے سے قبل خود کو اپنی پسند اور اپنی ترجیحات کو سمجھنے کے لیے کچھ وقت دیجیےاپنے مستقبل کی فکر کرنے کے لیے مندرجہ ذیل کام ضرور کیجیےخود شناسی کیجئے ، کود کو ٹٹولیں اپنے اندر چھپی مہارتوں کو تلاش کریں ، اپنے وسائل اور شخصیت کا جائزہ لیجئے۔اسکے بعد امکانات کا جائزہ لیجئے اور دیکھیے کہ کون کون سے شعبہ جات آپ کی شخصیت سے مطابقت رکھتے ہیں ۔اپنے لیے اہداف مقرر کریں ، اس کے لئے منصوبہ بندی کریں اور دیکھیں کہ اس راستے میں کیا مشکلات درپیش ہیں ۔اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں اور اس شعبے کے لیے جو ضروری ہے وہ سیکھیں اور مشکلات کو عبور کریں ۔اس کا تعین کرنے کے لیے خیال رکھیں کہ آپ کا ماحول ، جہاں آپ رہتے ہیں وہ کیسا ہے ،آپ کی تعلیم کیسی ہے،آپ کی مہارتیں (سکلز) کتنی اور کیسی ہیں ؟(مواصلت کی مہارتیں (کمیونیکیشن سکلز)،مسائل کا حل نکانے کی مہارت(پرابلم سالونگ سکلز)،اجتماعی کام (ٹیم ورک)،حسابی مہارتیں (کمپیوٹنگ)،تنظیمی مہارتیں (آرگنائزنگ سکلز)۔آپ کی دلچسپی کے امور (تخلیقی کام،سماجی کام،گھر سے باہر کی سرگرمیاں،تحقیقی و علمی کام)کیا ہیں ؟آپ کی اقدار کیسی ہیں ؟ اور آپ کی اپنی شخصیت کیسی ہے ؟
زندگی میں ایک نصب العین متعین کیجیے، اس مقصد کے حصول کے پیچھے ایک خواب ہوگا، اس خواب کو اپنے دل کے اندر موجود جذبے کے ساتھ نکھاریے تو آپ کے لیے امکانات کے دروازے کھل جائیں گے۔اپنی امنگوں، امیدوں اور خوابوں کی طلسماتی قوت پہ یقین کرنے کے لیے آج ہی اپنے بہتر مستقبل کا انتخاب کیجئے ۔موجودہ دور میں انسان دو طرح سے اپنی زندگی کو بنا سکتا ہے یا تو وہ تعلیم کے زریعے اپنا مستقبل بنا سکتا ہے ہا اپنی صلاحیت ، قابلیت اور مہارت کی بنیاد پہ اسے استوار کر سکتا ہے ۔ اس طرح اس کے سامنے دو راستے ہی ں جن میں سے سکی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔

1. مبنی بر تعلیم مستقبل
2. مبنی بر قابلیت / مہارت مستقبل
اگر آپ کسی ایسا مقصد زندگی رکھتے ہیں جس کے حصول کے لیے آپ کے لیے حصول تعلیم لازم ہو تو آپ کو مبنی بر تعلیم مستقبل کا دروازہ کھٹکھٹانا ہے اور اگر آپ اپنی صلاحیت مہارت پہ بھروسہ رکھتے ہیں تو آپ کو مبنی بر قابلیت مسقبل کے آفاق پہ اپنی منزل تلاش کرنا ہو گی ۔ چونکہ ہم حصول علم کو مقدم جانتے ہیں اس لیے ہم مبنی بر تعلیم مستقبل سے آغاز کرتے ہیں ۔ …..جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں