(ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیم سے فارالتحصیل طلبہ و طالبات لے لیے مستقبل کا لائحہ عمل) حصہ دوم

مبنی بر تعلیم مستقبل
میٹرککو تعلیم کے میدان میں داخلے کا ذریعہ کہا جا سکتا ہے ۔ میٹرک کسی بھی تعلیمی سلسلے کا نقطہ آغاز ہوتا ہے ۔ میٹرک کرنےکے بعد ہی تعلیم کے زینے پہ قدم رکھا جاتا ہے ۔ اس کے بعد ایک ایسا سمندر شروع ہوتا ہے جس کی کو ئی حد نہیں یہ غوطہ زن پہ منحصر ہے کہ وہ اس سمندر سے کتنا حاصل کر سکتا ہے ۔میٹرک کے بعد جس بھی شعبے کو انسان اختیار کرتا ہے اس میں آگے اور مزید آگے بڑھنے کے مواقع ہیں یہاں تک کہ انسان اپنے شعبے میں ، بی ایس (ماسٹر)، ایم ایس یا ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کر کے تحقیق و تدوین کے افق پہ جا پہنچتا ہے اور علم کی دنیا میں نئی جہتیں دنیا کو متعارف کرا دیتا ہے۔میٹرک کے بعد انٹر کی تعلیم کے لیے مختلف مضامین آپ کے منتظر ہوتے ہیں ۔یہی مضامین آپ کے اختیار کردہ شعبہ زندگی کے لیے کلید کا کام کرتے ہیں ۔اس مرحلے پہ آپ کو مندرجہ ذیل گروپس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔
فنون و عمرانی علوم(آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز )
سائنس گروپ
علم الانتظام (مینیجمینٹ سائنسز)
دینی علوم
پولی ٹیکنیک
فوج/پولیس /سرکاری محکمہ جات میں ملازمت

مبنی بر قابلیت /مہارت مستقبل
اب ہم ان پیشوں کی بات کریں گے جن کے لیے مہارت اور قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان کے اختیار کرنے کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
زراعت/ فارمنگ: اس کے ذریعے فصلیں سبزیاں اور پھل کاشت کیے جا سکتے ہیں جو ملکی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ زر مبادلہ کا بھی ذریعہ ہیں ۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انقلاب لایا جا سکتا ہے ۔مرغ بانی یا پولٹری فارمنگ اس وقت پاکستان کا سب سے کامیاب پیشہ ہے ۔ یہ خود ایک سمندر ہے ۔ مرغی کا گوشت، انڈے اور ہیچری کے ذریعے چوزے اور پولٹری سے متعلق سے متعلقہ ادویات اور فیڈ کی تیاری یہ سب پولٹری فارمنگ کا حصہ ہے ۔مگز بانی ، یا بی فارمنگ کے ذریعے شہد کی مکھیوں کو پال کر شہد حاصل کرنا بھی ایک ایک نفع بخش کاروبار ہے ۔ شہد کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مگز بانی بھی نہایت مفید کام ہے ۔ماہی پروری / فش فارمنگ سے مچھلی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے اس شعبے کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے یہ بھی نفع بخش ہے ۔گلہ بانی / گوٹ/شیپ یا کیٹل فارمنگ کے ذریعے دودھ اور گوشت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بکری / بھیڑ/ گائے اور بھینس کے فارم کھولے جا سکتے ہیں۔ اس سے اپنی اور معاشرے کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے ۔ ان پیشوں کے لیے محکمہ زراعت نے ٹریننگ کورس رکھے ہیں ان سے ٹریننگ لینے کے بعد آغاز کیا جا سکتا ہے اور اپنی مہارت اور محنت کو بروئے کار لاتے ہوئے زمین سے سونا نکالا جا سکتا ہے ۔
دندان سازی (دانت بنانے کے لیے ڈینٹل ٹیکنیشن کا کورس بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں لوگ دیگر شعبوں کی طرح یہ بھی استاد سے سیکھ لیتے ہیں ۔)،الیکٹریشن /پلمبر/فریج ائر کنڈیشن ریپئیرنگ، سلائی / کڑھائی / رنگائی / بنائی،بیوٹی پارلر / ہیئر ڈریسنگ،کارپینٹنگ ،ویلڈنگ/ خراد،سٹیل فیبریکیشن ،موٹر/ آٹو ورکشاپ مکینیک ،سیلز اینڈ مارکیٹینگ ،پرنٹنگ / ڈیزائننگ ایند ایڈورٹائزنگ ،فوٹو گرافی /ماڈلنگ / ایکٹنگ ،ڈرائیونگ،کوکنگ /ہوٹل مینیجمنٹ،بیکری / فاسٹ فوڈ وغیرہ بھی کافی نفع بخش امور ہیں جنہیں اختیار کر کے آمدن کمائی جا سکتی ہے۔ان کے لیے مختلف کورسز بھی کرائے جاتے ہیں ۔لیکن عموما لوگ یہ کسی استاد کے پاس کام کرتے ہوئے سیکھ جاتے ہیں اور پھر خود استاد بن جاتے ہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ کسی مستند وکیشنل ٹریننگ سینٹر سے اس کی تربیت لی جائے اور کام کا آغاز کیا جائے ۔

سبسے آخر میں نسخہ اکسیر جو تمام پیشوں سے زیادہ نفع بخش ہے اور ہر تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ کے لیے اسکے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں وہ ہے کاروبار ۔ یہ سب سے اعلی پیشہ ہے صرف شرط یہ ہے کہ اسے حلال طریقے سے کیا جائے اور حرام کو قریب بھی نہ بھٹکنے دیا جائے ۔ کاروبار کے ذریعے روزگار پیدا کیے جا سکتے ہیں ۔ ملازمت سے ایک خاندان پلتا ہے جبکہ کاروبار سے کئی خاندانوں کے چولہے جلتے ہیں ۔ اس کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن تعلیم یافتہ افراد اسے اچھے انداز میں کر سکتے ہیں ۔ پاکستان میں کاروبار کے سنہری مواقع موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اگر قوم کے شباب کو کاروبار کی طرف راغب کیا جائے تو اس ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کون سے چیز کہاں دستیاب ہے اور اس کی مانگ کہاں پر ہے ۔ یہ سب کچھ تجربے سے سیکھا جا سکتا ہے ۔ کاروبار کے ذریعے انسان اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔جب قوم کی اکثریت اپنے پاؤں پہ کھڑی ہونے لگے گی تو یہ ملک بھی اپنے پاؤں پہ کھڑا ہوگا اور اقوام عالم کے ساتھ ترقی میں مقابلہ کرے گا ۔
وطن عزیز اس وقت بے روزگاری اور مہنگائی کے بحران کا شکار ہے ۔ مستقبل میں نوکری پیشہ سفید پوش افراد کے لیے سخت آزمائش کا امکان ہے ۔ نوکریاں مفقود ہو رہی ہیں ۔ اور نوکری پیشہ افراد مالی بحران کا شکار ہیں ۔ اس صورتحال میں نوکری کی آس لگا کر بیٹھ جانا کسی بھی صورت میں عقلمندی نہیں ۔ اس فارغ وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبہ طالبات کو اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا چاہیے ،اپنی تحریری و ابلاغی مہارتوں میں اضافہ کریں ۔انہیں چاہیےکہ اپنے مشاغل کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنائیں ، نئی مہارتیں سیکھیں اور عہد حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی زبانیں سیکھیں۔ اس عمل سے وہ مستقبل میں اپنے قدموں پہ کھڑے ہونے کے قابل ہو جائیں گے ۔چھوٹے کاروبار سے آغاز کریں اللہ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔ دور جدید کی ٹیکنالوجی کا مثبت فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں ۔ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے افراد سے ملیں جو ان کی رہنمائی کر سکے اور مستقبل کی نئی راہیں دکھا سکے۔آج کل اس حوالے سے رہنمائی کے لیے انٹرنیٹ پر بہت سارا مواد بھی موجودہے ۔ بڑے بڑے لوگ کیرئیر کونسلنگ اور فری لانسنگ وغیرہ کے حوالے سے دروس کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ خود بڑی بڑی جامعات اور دیگر تعلیمی مراکز کا دورہ کریں اور اس میں زیرِ تعلیم افراد سے ملاقاتیں کریں ۔ اس طرح مستقبل کے بارے میں آپ کی سوچ بالکل واضح ہو جائے گی اور آپ کوئی صحیح فیصلہ کر پائیں گے ۔
مستقبل کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیے کہ آپ زندگی بھر کا انتخاب کر رہے ہیں لہذا سوچ سمجھ کر کسی میدان میں قدم رکھیے ۔ تذبذب کا شکار نہ ہوں اور دنیا کی باتوں سے ہرگز نہ گھبرائیں ۔ ہرممکن کو حاصل کیا جا سکتا ہے لہذا محنت اور مشقت کو عادت بنائیں اور منصوبہ بندی کریں ۔
اک بچہ ٔ شاہیں سے کہتا تھا عقاب سال خورد
اے تیرے شہپر پہ آساں رفت چرخ بریں
شباب ہے اپنی خودی کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخی ٔ زندگانی انگبیں
کبوتر پر جھپٹنے میں جو مزہ ہے اے پسر
وہ مزہ کبوتر کے لہو میں بھی نہیں
اپنےمقاصد کے حصول کے لیے میدان میں نکلیں اور اپنے خوابوں کو تعبیریں مہیا کریں ۔ہم سب کی منزل ۔۔الکاسب حبیب اللہ ۔۔۔کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے ۔۔۔ اللہ ہم سب کو اپنا دوست بنائے آمین ۔

اپنا تبصرہ لکھیں