تحریر شازیہ عندلیب
جب لگے کہ اللہ تبارک ہمیںنظر انداز کر رہا ہے ہماری دعائیںقبول نہیںہورہیں…..
پچھلے دنوںہم لوگ اپنے ایک قریبی عزیز کے ہاںدعوت پر گئے.آجکل ناروے کا موسم بہت دلکش ہے.سورج جو موسم سرماء میںکبھی کبھی ہی اپنی شکل دکھاتا تھا اب تو ہر دوسرے دن آسمان پر جلوے بکھیرتا ہے.سورج جس دن بھی نکلے ناروے میںعید کاسماںہوتا ہے.لوگ خوشی کے مارے گھروںسے نکل کر سمندروںدریائوںجھیلوںاور سیرگاہوںکا رخکرتے ہیں.نارویجن اور یورپین قوم کی اکثریت تو مارے خوشی کے لگتا ہے کہ لباس بھی مکمل پہننا بھول جاتے ہیں.ایسا لگتا ہے کہ بس جو ہاتھ لگا وہی تھوڑا بہت لباس پہن کر ساحلوںکا رخکرلیا .کئی مرد حضرات تو سڑکوںپر ننگے پائوںاپنے بچوںکو کاندھے پہ بٹھائے خراماںخراماں جارہے ہوتے ہیں.وہ بھی ایک ایسا ہی موسم گرماء کا روشن اور چمکدار دن تھا جب ہم لوگ ایک دعوت پر گئے .ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے باہر دیکھا ہر جانب سبزہ زار پھیلا تھا.انسان ہی نہیںجانور بھی بہت خوش نظر آ رہے تھے.ساتھ والے نارویجن پڑوسیوںکے لان میںتین خوبصورت دمبوںکے بچے قطار
میںبیٹھے تھے.وہ اتنے خوبصورت تھے کہ بے اختیار انہیںقریب سے دیکھنے کو جی چاہ رہا تھا. چنانچہ ہم سب بھی ان کے قریب گئے.ہمیںپاس آتا دیکھتے ہی خوبصورت دنبے ہماری جانب آ کر بڑی تمیز سے کھڑے ہو گئے اور دل لبھانے والے دوستانہ اندازمیں میںمیںکرنے لگے. ہماری میزبان نے بتایا کہ یہ کھانا مانگ رہے ہیں.ہم لوگوںنے بڑی خوشی سے ایک قریبی درخت کی ٹہنی توڑکر انہیںپیش کی.وہ دمبے جو بہت چھوٹی عمر کے یعنی دو ماہ اور ایک ماہ کے تھے بڑی تمیز سے لائن میںکھڑے ہو شاخکے پتے کھانے لگے. میں حیران رہ گئی کہ یہ جانور ہو کر بھی کیسے تمیز کا مظاہرہ کر رہے ہیں.نہ کوءی دھکم پیل نہ کو ءی شور شرابا بالکل نارویجن دعوتوںکی
طرحجہاں بڑی سے بڑی دعوت میںبھی مہمان لائن بنا کر بڑے صبر و تمیز کے ساتھ اپنی اپنی پلیٹوںمیںکھانا ڈالتے ہیں.مگر ان چھوٹے چھوٹے دمبوںنے یہ تمیز کہاںسے سیکھی انہوںنے نہ تو کوءی نرسری اسکول اٹینڈکیا ہور نہ ہی ان کی ماںان کے پاس ہے.مگر لگ رہا تھا کہ یہ ماحول کا اثرہے.مجھے یہاںدو دلچسپ باتیںیاد آ گءیں ..ایک لطیفہ اور دوسرا دلچسپ واقعہ تمیز دار جانوروںکے حوالے سے……..
ایک امیر شخص ایک دوکاندار کے پاس گیا اور اسے بڑے رعب سے کہاکہ اگر تمہاری دوکان پر میرا کتا بھی آءے تم نے اس کے ساتھ تمیز سے پیش آنا ہے.دوکاندار نے جواب میںکہا ..
آپ فکر نہ کریںجب آپکا کتا یہاںآئے گا میںیہی سمجھوںگا کہ جناب ہی تشریف لائے ہیں……
دوسرا واقعہ یہ ہےکہ کچھ برس پہلے جب میں صاحب نصاب ہوئی میںنے بھی بکرہ عید پر قربانی دینے کا ارادہ کیا.مگر جو بکرہ منتخب ہوا وہ میرے بجٹسے ذیادہ تھا اگر میںوہ بکرہ خرید لیتی میر ا عید کا جوڑا اتنا اچھا نہ بنتا جو میںبنانا چاہتی تھی.اس لیے میں سودا کر کے مکر گئی کہ مجھے نہیںدینی قربانی میںتو عید کا من پسند جوڑا لوںگی.مگرپتہ ہے میرے ساتھ کیا ہوا!…
ابھی عیدمیںایک ہفتہ باقی تھا. رات بھر خواب میںوہی کاغانی بکرہ جس کی قربانی کا ارادہ تھا.میرے پیچھے بھاگتا رہا اور میں آگے آگے بھاگتی رہی.صبح آنکھ کھلی تو جسم پسینہ سے شرابور تھا.زہن میںخوف اور تھکن کی ملی جلی کیفیت تھی.سمجھ نہیںآ رہی تھی کہ یہ کیا تھا.پھر اچانک ذہن میںایک جھماکہ سا ہوا اور میںنے پل بھر میںایک خوبصورت فیصلہ کر لیا.جو مرضی ہو جائے میںبکرہ کی قربانی دوںگی.وہ دن اور آج کا دن پھر میںنے کبھی قربانی کا ناغہ نہیںکیا.
آپ دیکھیںکہ اللہ کتنا مہربان ہےاگر انسان کو سیدھی طرحسے بات سمجھ نہیںآتی تو وہ کیسے اپنی شان کے مطابق بات سمجھاتا ہے.گو کہ میںخواب میںڈر رہی تھی مگر میں غلطی پر تھی اور اپنے فرضپر اپنی ذات کو فوقیت دے رہی تھی اس لیے مجھے یہ خواب آیا جس نے زندگی کا بڑا سبق دیا کہ کبھی اپنی ذات کو اللہ تبارک کی مرضی اور ذات پر فوقیت نہ دو.اور میںکوءی بہت نیک ولی نہیں.ایسے مواقع ہر کسی کی زندگی میںآتے ہیں.بس تھوڑا سا سوچنے اور فوکس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے .جب بھی ایسا موقع آءے ذرا رک کر سوچیںضرور کہ جب لگے کہ اللہ تبارک ہمیںنظر انداز کر رہا ہے ہماری دعائیںقبول نہیںہورہیں کہیںایسا تو نہیں کہ ہم اللہ کے حکموںکو نظر انداز کر رہے ہیں .غفلت برت رہے ہیں اپنے فرائضسے.کیا خیال ہے آپ کا !

Recent Comments