باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
زندگی کے سفر نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ میں نے دنیا دیکھی، ملک بدلے، دفتروں کے دروازے کھلے، بادشاہوں کے دیوان دیکھے، صحافت کی دنیا میں مشاہدہ کیا، مگر ایک حقیقت آج بھی پتھر پر لکیر ہے—عزت اور کردار کی بنیاد تربیت ہے، محض تعلیم نہیں۔ یہی وہ بات ہے جو میرا بھتیجا واجد امتیاز گجر اکثر مجھ سے کہا کرتا ہے:
“چچا جی! ہمارے معاشرے کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔”
اور میں ہر بار اس جملے کو سنتے ہوئے سوچتا ہوں کہ اس ایک سطر میں کتنی نسلوں کی کہانی بند ہے۔
میری عمر ڈھل چکی ہے، وقت کی چادر میں کئی موسم لپیٹ چکا ہوں۔ آج بھی جب واجد اور قاسم گجرانوالہ سے پنڈی میرے پاس آتے ہیں، تو وہی پرانی گجر روایات تازہ کر دیتے ہیں۔ میری خیریت پوچھتے ہوئے میری ٹانگیں دبانا، میرے جوتے صاف کرنا، میرے سامنے بیٹھتے ہوئے آنکھیں جھکا لینا—یہ سب وہ مناظر ہیں جو مجھے احساس دلاتے ہیں کہ ہمارے اندر کی روشنی ابھی بجھی نہیں۔ ہمارے گھروں کے صحن ابھی تک تربیت کی خوشبو دیتے ہیں۔
مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے، جب ہمارے گھروں میں “چارپائی” ایک یونیورسٹی تھی۔ وہیں سے گفتگو کا ادب سیکھا، وہیں سے بزرگوں کا احترام، وہیں سے بیٹیوں کی حیا، بیٹوں کی غیرت اور چھوٹوں کی محبت کے آداب منتقل ہوتے تھے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے “پردہ” میں لکھا ہے کہ معاشرے کی سب سے بڑی جامعہ گھر ہوتا ہے، اور ماں اس کا سب سے بڑا استاد۔ میں نے یہ سچائی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ ماں باپ کے قدموں میں جو جنت رکھی گئی ہے، وہ دراصل اسی تربیت کی وجہ سے ہے جو نسلوں کو سنوارتی ہے، اور اسی کے نہ ہونے سے نسلیں بگڑ بھی جاتی ہیں۔
آج کے بچوں کو دیکھ کر اکثر دل افسردہ ہوتا ہے۔ نہ بیٹھنے کا سلیقہ، نہ گفتگو کا ادب، نہ نگاہوں میں حیا، نہ استاد کو استاد ماننے کا شوق۔ مرد ہو یا عورت—سب کو نئی روشنیوں نے یوں چکاچوند کر دیا ہے کہ تربیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ماں باپ موبائل اسکرینوں کے آگے بے بس، بچہ استاد کا مذاق اُڑاتا ہے، شوہر بیوی کو وائس ٹیگز میں اکاؤنٹ بناتے پکڑ لیتا ہے، بیوی کسی نامعلوم شخص کے ساتھ چیٹ میں زندگی کا سب سے بڑا راز بانٹ دیتی ہے، اور گھر کا نوکر مالک کے گھر کا حال باہر والوں کو پہنچاتا ہے۔ یہ معاشرہ ایک ایسے جنگل میں بدل رہا ہے جہاں ہر درخت دوسرے کو کاٹنے پر تُلا ہوا ہے۔
میں نے دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں یہ دیکھا کہ تہذیب ہی اصل طاقت ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دو بھارتی صحافی روسی صدر پوٹن کے سامنے بیٹھے ہوئے نڈھال ہو رہے تھے۔ بیٹھنے کا سلیقہ، بدن کی تھکن، جسم کا ڈھل جانا—یہ سب تربیت کی کمی تھی۔ شخصیت کی مضبوطی صرف الفاظ سے نہیں آتی، آداب سے آتی ہے۔ آداب نہ ہوں تو علم انسان کو رعونت دیتا ہے، شیطانیت دیتا ہے، غرور دیتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے کہا تھا کہ “علم اگر اخلاق کے تابع نہ رہے تو فساد بن جاتا ہے، صلاح نہیں۔”
ہماری نئی نسل نے کرسیوں پر پھیل کر بیٹھنے کو فیشن بنا لیا ہے۔ میں نے خود دیکھا، کہ ایک نوجوان کسی بزرگ کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم اس انداز میں کیوں بیٹھے ہو؟ اس نے کہا کہ یہ میرا اسٹائل ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ اسٹائل کبھی بھی بزرگوں کے احترام کو پامال نہیں کرتا۔ جہاں ادب ختم ہو جائے، وہاں تربیت روٹھ جاتی ہے، اور جس گھر سے تربیت روٹھ جائے، وہ کبھی آباد نہیں رہتا۔
سوات کی ایک تقریب یاد آتی ہے جس میں میرے آنے پر ایک نوجوان، مبین چوہان، کھڑا ہوا تو اس کے لہجے میں ایک عجیب سی حرمت تھی۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ یہ ہمارے بزرگ ہیں، یہ ہماری عزت ہیں۔ میں نے اسے گلے لگایا تو اس کے دل کی خوشبو میرے کپڑوں تک اتر گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ پہاڑوں کے درمیان رہنے والے لوگوں نے آج بھی اپنی اقدار، اپنی غیرت اور اپنے بزرگوں کا احترام زندہ رکھا ہے۔ اس نوجوان میں مجھے اپنی گزری ہوئی نسل کی جھلک نظر آئی۔
گھر میں بیٹی ہو تو اس کی نگاہ نیچی ہونی چاہیے، بول چال میں نزاکت، چال میں وقار۔ عورت کو جس طرح اللہ نے پردے کی زینت بنایا ہے، وہ اس کی عزت کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ آج کی لڑکیاں غیر مردوں سے کال پر باتیں کرتی ہیں، نام سے بھی پکارتے ہوئے گھن نہیں آتی۔ یہ روش آنے والے وقتوں میں ہمارے گھروں میں زخم ڈالتی ہے۔ گھر کی بنیادیں جب ہلتی ہیں جب راز گھر سے باہر نکل جائیں۔ نوکر نوکروں کے کام کے لیے ہوتے ہیں، دل کے رازدار نہیں۔
ایک زمانہ تھا جب ماں باپ کی خدمت فخر تھا۔ میں نے خود اپنے والد کی ٹانگیں دبائیں، جوتے صاف کیے، گھٹنوں کے پاس بیٹھ کر ان کی دعائیں لیں۔ آج جب میرا بھتیجا واجد اور قسمت میرے پاس آتے ہیں اور محبت سے میری ٹانگیں دباتے ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میرے خاندان کی تربیت ابھی زندہ ہے۔ ان کی یہ خدمت مجھے واپس اس زمانے میں لے جاتی ہے جہاں ہم والدین کے قدموں میں بیٹھنے کو اپنی شان سمجھتے تھے۔
مگر افسوس یہ ہے کہ آج لڑکے باپ کو باپ نہیں سمجھتے، استاد کو استاد نہیں مانتے، ماں کی ڈانٹ کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ گھروں میں خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ واٹس ایپ کے گروپس میں فتنہ، فیس بک پر دوستیاں، انسٹاگرام پر دکھاوا—یہ سب وہ راستے ہیں جہاں سے شیطان انسان کو بے حیائی کی طرف دھکیلتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے کہا تھا کہ “فتنہ ہمیشہ دروازہ نہیں توڑتا، وہ آہستہ آہستہ اندر اترتا ہے، انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور وہ گھر ویران ہو چکا ہوتا ہے۔”
میں نے اپنی زندگی میں کئی حکمران دیکھے، بڑے بڑے لوگ، بڑے بڑے ایوان۔ مگر جو عزت میں نے اپنے گاؤں کی چارپائی پر پائی، وہ کسی شاہی دیوان میں نہ ملی۔ شاہ فہد کی بارگاہ ہو یا کسی جنرل کا دفتر—عزت ہمیشہ سلیقے کے ساتھ ملتی ہے، بحث کے ساتھ نہیں۔
یہ دنیا بدل جائے گی، نسلیں بدل جائیں گی، مگر ایک حقیقت کبھی نہیں بدلے گی:
تربیت کے بغیر انسان نامکمل ہے۔
تعلیم انسان کو اوپر تو لے جاتی ہے مگر تربیت نہ ہو تو وہیں گرا دیتی ہے۔ وہی بات جو میرا بھتیجا واجد امتیاز گجر ہمیشہ کہتا ہے—
“چچا جی! ہمیں تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے…”

Recent Comments