[15:47, 15.9.2026]
جنگل میں ایک شیر تھا۔ وہ ہر روز اپنی بھوک مٹانے کے لیے جانوروں پر حملہ کرتا تھا ۔اور پکڑ کر انہیں اپنی خوراک بناتا تھا ۔اس کے نتیجے میں تمام جانور مستقل طور پر دہشت اور خوف میں پڑے رہتے تھے۔ آخر کار انہوں نے اس کا ایک حل نکالا انہوں نے شیر سے بات کر کے اس کو اس بات پر راضی کیا، کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے وہ خود اپنی طرف سے ہر روز ایک جانور اس کے پاس بھیج دیا کریں گے ۔اس تجویز پر عمل ہونے لگا اس کی صورت یہ تھی کہ ہر روز قرعہ اندازی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا کہ آج کون سا جانور شیر کی خوراک بنے گا ۔جس جانور کا نام قر عہ اندازی میں نکلتا اس کو شیر کے پاس بھیج دیا جاتا، اس طرح تمام جانور امن کے ساتھ جنگل میں رہنے لگے۔ آخر کار قر اندازی والے دن ایک خرگوش کا نام نکل آیا۔ اور خرگوش پہلے سے سوچے ہوئے بیٹھا تھا ۔کہ جب قر عہ اندازی میں اس کا نام نکلے گا ،تو وہ اپنے آپ کو شیر کی خوراک بننے نہیں دے گا، بلکہ تدبیر کے ذریعے خود شیر کو ہلاک کر دے گا۔ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق خرگوش ایک گھنٹے کی تاخیر کے ساتھ شیر کے پاس پہنچا، شیر بہت بھوکا تھا۔ وہ تاخیر کی بنا پر اس کے اوپر بگڑ گیا۔
[15:53, 15.9.2026] +92 341 2933294: شیر نے صرف ایک چھوٹا خرگوش دیکھا تو اس کو اور بھی زیادہ غصہ آیا ۔خرگوش نے نرمی سے کہا جناب بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک اور شیر آگیا ہے ۔جانوروں نے آپ کی آج کی خوراک کے لیے دو خرگوش بھیجے تھے ۔مگر دوسرا شیر ہمارے اوپر جھپٹا ایک کو تو اس نے پکڑ لیا ،میں کسی طرح بھاگ کر آپ کے پاس آیا ہوں۔ آپ شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مڑ گیا۔ اس نے چلا کر کہا دوسرا شیر کون ہے؟ جس نے اس جنگل میں آنے کی جرات کی ہے ۔مجھے اس کے پاس لے چلو، تاکہ میں اس کا قصہ تمام کر دوں۔ آپ خرگوش کے ساتھ شیر روانہ ہوا خرگوش نے شیر کو ادھر ادھر گھمایا ۔اور آخر کار اس سے ایک کنویں کے کنارے کے پاس لا کر کھڑا کر دیا ۔اور کہا کہ حضور وہ شیر اس کے اندر موجود ہے۔ آپ خود اس کو دیکھ لیں۔ شیر نے کنویں کے اوپر سے جھانکا تو نیچے پانی میں اس کو اپنا عکس دکھائی دیا ۔اس نے سمجھا کہ خرگوش کا کہنا درست ہے ۔اور واقعی اس کے اندر ایک اور شیر موجود ہے ۔شیر غرایا تو دوسرا شیر بھی غرا اٹھا اپنی سلطنت میں اس طرح کا ایک اور شیر گھس کا آنا اس کو برداشت نہیں ہوا اور وہ چھلانگ لگا کر شیر کے اوپر کود پڑا اور پھر کنویں میں پڑا پڑا مر گیا۔ اس طرح ایک خرگوش نے تدبیر کی طاقت سے شیر جیسے دشمن کا خاتمہ کر دیا۔ حقائق ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں زندگی میں موت کے بجائے تدبیر کا طریقہ ڈھونڈنا چاہیے۔ ابتدا میں انسان کو چھوٹا بننا پڑتا ہے۔ مگر آخری مرحلے میں پہنچ کر وہ بڑائی اور فتح کے بلند مقام کو پا لیتا ہے۔۔۔۔۔۔

Recent Comments