حصہءدوم
[17:12, 13.8.2025] Gull Bahar Bano:
ضلع جہلم کے لوگ بہادری محنت اور محب وطنی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں ۔اگر اس علاقے کا محل وقوع دیکھیں، تو جہلم کا یہ ضلع شمال میں آزاد کشمیرسے ملتا ہے، مشرق میں گجرات سے جڑا ہوا ہے اور مغرب میں چکوال کے ساتھ اور جو مشہور شخصیات ہیں جن کا تعلق جہلم سے ہیں ان کا ذکر کرنا چاہوں گی۔ سب سے پہلے کیپٹن محمد سرور شہید (نشان حیدر) پاکستان کے پہلے نشان حیدر حاصل کرنے والے شہید, جنہوں نے 1948 کی جنگ کشمیر میں اپنی جان وطن پر نچھاور کی تھی. دوسرے نمبر پر ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمد خان جنہوں نے عالمی جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تیسرے نمبر پر جنرل آصف نواز جنجوہ پاکستان آرمی کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جن کا تعلق جہلم سے تھا ۔چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔ راجہ افتخار بھٹی عالمی امن مشن میں خدمات سرانجام دینے والے بہادر سپاہی تھے۔ جن کا تعلق جہلم سے تھا۔ آج بھی ضلع جہلم کے لوگ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی امن مشنوں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ تعلیمی اور کھیلوں کے میدان میں بھی یہ خطہ ملک کا نام روشن کر رہا ہے ۔میجر محمد اکرم کی بات کی جائے یہ بہادر سپوت بھی جیلم سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 1971 کی بنگلہ دیش جنگ میں خیلی علاقوں میں مارکے میں نمایاں بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کارنامے پر انہیں پاکستان کا سب سے اعلی فوجی اعزاز نشانے حیدر مرحومانہ طور پر عطا کیا گیا۔ کپتان حسن نائن اختر پنڈ دادن خان کے علاقے دولت پور سے تعلق رکھنے والے کیپتان حسن نائن اختر شہید جنہوں نے 20 مارچ 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے خلاف ایک اپریشن کے دوران اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی شہادت کو فوجی اعزاز کے ساتھ یاد کیا گیا ۔
انسانیت میں بہادری کی مثالیں 1947 کے واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہوا تھا .کہ تقسیم کے دوران ایک معروف بات جو تھی وہ سامنے آئی کہ اداکار سنیل دت کے خاندان کو جہلم میں ایک مسلمان خاندان نے اپنی جانوں پر کھیل کر تحفظ فراہم کیا ،وہ گھر پر حملے کے دوران ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ اور ان کی حفاظت یقینی بنائی اس کے علاوہ دیگر اہم شخصیات جنہوں نے بہادری یا خدمات میں اپنے کردار ادا کیے ان میں سے چند ایک کے نام لینا چاہوں گی۔
راجہ غزنفر علی خان پاکستان تحریک آزادی کے رہنما اور وفاقی وزیر جن کے نام کے نام کا سکول جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان میں بنایا گیا۔ اور اس سکول سے ہزاروں طلبہ نے تعلیم حاصل کی۔
جہلم کے بہادروں کی وجہ سے اس سرزمین کو city of soldiers کا نام بھی دیا گیا ہے۔یعنی
(Land of Martyrs and warrirors)
سے جانا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ علاقہ روایتی طور پر پاکستان آرمی میں بھرتی ہونے والوں میں نصیب دار رہا ہے ۔برطانوی دور سے ہی جہلم راولپنڈی اور اٹک وہ اضلا ع رہے ہیں جہاں سے فوج میں بھرتی کی جاتی تھی۔ جب پاکستان نے 1947 میں آزادی حاصل کی تھی۔ تو اس وقت پاکستان آرمی کے چار سینیئر میجر جنرلز جن میں سے تین کا تعلق جہلم سے تھا۔ سب سے پہلے آتے ہیں۔ میجر جنرل محمد اکبر، جنرل نظیر احمد اور میجر جنرل محمد افتخار جہلم کا یہ فوجی پس منظر آج بھی برقرار ہے۔ اور یہ علاقہ اپنی فوجی خدمات اور بہادری کے اعتبار سے پہچانا جاتا ہے۔
اگر حالیہ دور میں جہلم کے بہادروں کی خدمات بیان کرنے لگوں تو یہاں کے لوگوں کی دلیری اور بہادری کی قصے بھی تاریخ میں دہرائے جائیں گے۔حال ہی میں آنے والے سیلاب میں جہلم پولیس نے تقریبا 400 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ایک ایسے وقت پر جب خطرہ اپنی انتہا پر تھا ۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ان کی جرات اور عقیدت کو سراہا، اور انہیں حقیقی ہیروز قرار دیا جہلم کے علاقے پر سیلاب زدہ افراد کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے۔ اپنی جان قربان کر دی ان کی لاش اگلے دن بازیاب ہوئی ایسے بہادر بیٹے کو سلام جس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی قوم کے لوگوں کی مدد کی ڈپٹی کمشنرز آفس ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس اور دیگر مقامی اداروں میں کام کرنے والے ہی اصل اور حقیقی ہیروز اور بہادر جواں ہیں۔ جنہوں نے کھٹن اور مشکل وقت میں قوم کی خدمت کی، یہ داستانیں ہمیں یاد دلاتی ہیں ۔کہ کیسے جہلم کے بہادروں نے نہ صرف تاریخی بلکہ حالیہ طور پر بھی وطن کی حفاظت اور خدمت کی ہے۔ چاہے جنگ کا میدان ہو یا قدرتی آفات آ جائیں جہلم کے بہادر ہر وقت تیار رہتے ہیں

Recent Comments