آجکل ہمارے گھر میں میری کزن رہنے کے لیے آئی ہوئی ہیں ، یہ میری وہ کزن ہیں جس سے بھیا شادی نہ ہونے کی صورت میں زمانے کو آگ لگا دوں گا کی دھمکیاں دیتے ہوتے تھے ۔
پہلے دن ڈائنگ ٹیبل پر کھانے کے دوران میں نے بھابھی اور میری کزن کے درمیان تناؤ سا محسوس کیا ، جس کو میری کزن نے بھیا کو بھائی پکار کر ختم کیا ۔
میری کزن کا بھیا کو بھائی کہنا تھا کہ بھیا کے مونہہ پر ڈھائی بج گئے ، جبکہ میرے اور بھابھی کے لبوں پر مسکراہٹ سی بکھر گئی ۔
کھانا کھانے کے دوران میں خیالوں کے گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ اچانک ایک آئیڈیا آیا کہ تھوڑی سا شغل لگایا جائے ۔
بھیا کھانا کھا کر لان میں واک کے لیے نکل کھڑے ہوئے ، میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا ، بھیا سگریٹ سلگا کر چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھا کر ٹہلنے لگے ۔
میں نے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ سجائے بھیا کو طنزیہ چوٹ کی ، بھیا مبارک ہو کل تک جو آپکی جانو مانو تھی آج “بھائی” بنا گئی ۔
بھیا نے غصے سے میری طرف دیکھا اور سگریٹ کا کش لیکر گویا ہوئے : “منحوس شرم آنی چاہیے تجھے ایسی بات کرتے ہوئے ” ۔
میں نے ادھر اُدھر کی باتیں کرکے بھیا کو مزید چڑاتا رہا ، اب اس سے پہلے کہ بھیا سے چماٹ پڑتی میں نے نکلنے میں عافیت جانی اور اپنی کزن کے روم میں چلا گیا ۔
کزن سے گپ شپ کرتا رہا ، ان سے ضد کرتا رہا کہ آپی پلیز آپ کل گولہ کباب اور تکہ بریانی اپنے ہاتھوں سے بنا کر کھلائیں ۔
آپ جیسی بریانی اور کباب ہند و سندھ میں کوئی مائی کی لالی نہیں بنا سکتی ۔
آج کھانے کے لیے ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے تو میں نے بھیا کو میسج کیا کہ بھیا پلیز آج کھانے کی تعریف ضرور کیجیے گا ، بھابھی نے اتنی گرمی میں اتنی محنت سے یہ سب کچھ آپ کے لیے بنایا ہے ۔
کم از کم تعریف کرکے انکی دلجوئی تو کیا کریں ، بھیا نے میسج پڑھ کر میری طرف دیکھا اور مسکرا دئیے ۔
کھانا لگا سب لطف لیکر کھانا کھانے لگے ، بھیا کی بھابھی کے لیے محبت نے جوش مارا ، بھیا نے کباب کو مونہہ میں ٹھونسا اور گویا ہوئے :
“آج کا کھانا بہت لذیذ بنا ہے ، بیگم تمہارے ہاتھ سلامت رہیں آج بہت عرصے بعد اتنا لذیذ کھانا کھا کر مزہ آ گیا ” ۔
بس بھابھی جو مسکرا کر بھیا کو دیکھ رہی تھیں ، ایک دو لقمے لیکر اُٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔
بھیا جب روم میں گئے تو پتہ نہیں کیوں چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگی ۔
میں گھر سے باہر ٹہلنے کے لیے نکل گیا ، پھر پتہ نہیں کیوں مجھے بھیا اور بھابھی کی کالز اور میسجز آنے لگے ۔
” منحوس تو گھر گھس آج تیری خیر نہیں ہے نوٹ میں گھر سے ابھی تک مفرور ہوں اورڈیرے پے آ کے بھینسوں کو چارا ڈال رہا ہوں بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں

واقعئی کہانی جس کسی نے لکھی بہت لا جواب اور سچی کہانی ہے۔اکثر ناکام محبت کے گل یونہی کھلتے ہیں کہ جب اور جہاں کھلیں ساتھ کانٹے ضرور لاتے ہیں۔