تحریر: رومان راغبی
کل رات میں فریال سے ملا۔
سوشل میڈیا سے جڑے لوگوں سے ملنا میری عادت نہیں، لیکن کسی ایسے شخص سے ملاقات جو فکری، معاشرتی اور جذباتی لحاظ سے آپ کا مد مقابل ہو، ہمیشہ دلچسپ، حیران کن اور سنسنی خیز ہوتی ہے۔ شاید میں اجتناب ہی برتتا، مگر کچھ ٹوٹے ہوئے جذباتی رویے کبھی انسان کو بے حد کشش محسوس کراتے ہیں۔
فریال کو میں نے کیسا پایا؟ ایک خوبرو اور مالدار خاتون، لاابالی طبیعت، سوشل، شائستہ، صابر و شاکر، مجھ سے پندرہ بیس برس بڑی۔
غصہ تو مجھے بہت آیا جب لگ بھگ ایک ڈیڑھ گھنٹا ٹم ہارٹن میں انتظار کرنا پڑا، اور کبھی کبھی لگا کہ شاید وہ گوگل میپس استعمال نہیں کرتیں یا پھر انہیں بھی میری طرح خدشات اور تحفظات لاحق ہیں۔
خدا خدا کرکے ان کی بی ایم ڈبلیو میرے پاس آ کر رکی۔ شیشہ نیچے کیا اور پکارا:
“رومان! یہ تم ہو!! اتنے ہینڈسم! اوہ مائی گاڈ۔ آؤ میری گاڑی میں بیٹھو۔ تم تو بہت ینگ ہو!”
میرے بیٹھتے ہی، مجھے کانپتا دیکھ کر سیٹ ہیٹرز آن کر دئیے۔ برفباری کئی دن پہلے شروع ہو چکی تھی اور میں کچھ دیر سے سڑک پر کھڑا، انتظار میں بے ربط خیالات میں مبتلا تھا۔
فریال نے کہا، “چلو کسی اچھی جگہ سے ڈنر کرتے ہیں۔” اور گاڑی مین روڈ پر ڈال دی۔
میں کئی بار ڈر کے مارے چیخ اٹھا۔ مجھے لگا یہ شاید زندگی کی آخری ڈرائیو ہے۔ پھر انہوں نے شفقت سے گاڑی احتیاط سے چلانا شروع کی اور ہماری گفتگو آگے بڑھی۔
نہ کوئی مضمون وفا کا ہوا نہ جفا کا۔ میں بھی گریزاں رہا کہ سوشل میڈیا کی بات چھیڑی جائے اور وہ بھی کبھی اپنے خیالات، کبھی روزمرہ کی گفتگو میں مصروف رہیں۔ بچوں، شوہر، گاڑی، اور روڈ ایکسیڈنٹس کے قصے سناتے ہوئے ان کا انداز منفرد تھا۔
ہم ایک بڑے، خاموش، مدھم روشنیوں والے ریستوران میں پہنچے۔ کینڈل لائٹس، ہلکی موسیقی، معتدل حرارت، لوگوں کی سرگوشیاں اور شوخ لڑکیوں کے قہقہے……
یہ سب دل کو بہت بھایا۔ وہاں زندگی کا ایک دلفریب احساس مسحور کن لگا۔
حالانکہ میں رات کا کھانا کھا چکا تھا، مگر پھر بھی کھانا ان کی پسند کا منگوایا گیا۔ مجھے پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ بل ہمیشہ وہ ادا کرتی ہیں۔
کھانے کے دوران مینیجر آدھمکا اور بے تکلف ہو کر باتیں کرنے لگا۔ اس نے بتایا، “آپ فریال کے مہمان ہیں اور وہ یہاں کی پرانی قابل قدر گاہک ہیں۔” چند مشترکہ دوستوں کا ذکر بھی ہوا۔
فریال کی آنکھیں کئی بار اشک آلود ہوئیں۔ جذبات بے قابو ہوئے تو آواز رندھ گئی اور بے ساختہ ہچکیاں آئیں۔ میں نے باتوں کا رخ موڑا اور خلاؤں میں دیکھنے لگا۔ شاید وہ اپنا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے ایک دو بار واش روم بھی گئیں۔
میں سوچتا رہا کہ ہم، گوشت پوست کے انسان، مختلف حالات میں کیسے بھیس بدلتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مردم آزار لوگ عام زندگی میں کتنا مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔ مضبوط دل والے، بحث مباحثے کرنے والے لوگ عام زندگی میں کتنے ٹوٹے بکھرے نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا کتنا بڑا دھوکہ ہے۔ ان کی باتیں سن کر بار بار ایک مصرع ذہن میں آیا:
“ہمیں دھوکہ دیا گیا جاناں”
کچھ لوگ میڈیا کے سراب میں اتنے ڈوب جاتے ہیں کہ ماضی کی دیومالائی داستانیں اور محبت بھرے افسانے کم تر محسوس ہونے لگتے ہیں۔
میرے جیسے جذبات سے عاری شخص کو بہت عجیب لگا کہ آج بھی کچھ لوگ ان دیکھی محبت، ان چاہی الفت میں ڈوب کر خود کو برباد کر بیٹھتے ہیں۔ ان جذبات کو محبت کا نام دیا جائے یا ذہنی فتور، میں کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔
دل بہت اداس رہا۔ بوجھل لمحے کب بیتے، یاد ہی نہیں۔ فریال نے بچوں سے بات کرنا تھی، اس لیے نشست جلد ختم ہو گئی۔
واپسی پر میں خاموش تھا۔ شاید ان دیکھے اندیشے، ناپائیدار مستقبل، بڑھتی تنہائی، اور رشتوں کی پیچیدگیاں میرے رگ و پے پر مسلط تھیں۔ شاید ان دیکھے خواب، ناکام حسرتیں، اجنبی راستے اور ان چاہی منزلیں ہماری زندگیوں کا المیہ ہیں۔
میں چاہتا تھا کہ واپس اسی پرانے ٹم ہارٹن پر اتروں اور وہاں سے کیب کروا لوں، مگر وہ بضد تھیں کہ مجھے گھر تک چھوڑا جائے۔ راستے میں کہا:
“آج پیسا بچاؤ گے تو کل روپے تمہاری حفاظت کریں گے۔”
میں کینیڈا میں لگ بھگ دو سال رہا۔ یہ پہلی ملاقات تھی اور شاید آخری۔ انہوں نے کہا، “میرے گھر آنا، کچھ سامان دینا ہے، جو واپس انگلینڈ پہنچانا ہے۔”
میں شاید اس ملاقات کا ذکر نہ کرتا۔ ایک تو میرا حلقہ احباب خفا ہوگا، دوسرا یہ کہ ہم سب اپنی اپنی الجھنوں میں گرفتار، دوسروں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم یا تو لوگوں کو بھگوان بنا بیٹھتے ہیں یا انہیں شیطان سمجھتے ہیں۔ ان دو انتہاؤں کے بیچ موجود انسان کو ہم بھلا دیتے ہیں۔ وہ جو غلطیاں بھی کرےگا، ہنسے گا، روئے گا اور کبھی کبھار ٹوٹ بھی جائے گا!

بہت خوبصورت اور مربوط تحریر
کینیڈا میں رہنے والے راغبی کی اتنی شستہ اردو
بے ساختہ پن
واللہ بہت مزا آیا
متاثر کن
واہ کیا کہانی ہے سوشل میڈیا پر بہت ہی اچھوتی اور شاندار