
جالنہ : بدنا پور تعلقہ کے مانجر گاؤں میں دو سماج کے درمیان پیش آئے تنازعہ سے پیدا ہونے والے حالات کے پس منظر میں ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ایک یادداشت پیش کی گئی ۔ 8 اگست کو پیش آئے اس واقعہ میں ایک برادری کے متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ پولیس نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا، جس پر پولیس محکمے کی ستائش کی گئی ۔
ساتھ ہی زخمیوں سے سرکاری دواخانے میں جاکر ملاقات کی گئی اور ہر ممکن تعاؤن دینے کی بات کہی گئی ۔ پولس سپرنٹنڈنٹ کو دی گئی یادداشت میں چار اہم مطالبات کیے گئے
1. واقعہ میں ملوث اصل مجرموں پر سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
2. تفتیش کے دوران بے قصور افراد کو کسی بھی طرح کی تکلیف نہ دی جائے ۔
3. جماعتِ اسلامی ہند کی پہل پر گاؤں میں “امن و ہم آہنگی پروگرام” منعقد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ باہمی بھائی چارہ اور اعتماد میں اضافہ ہو۔

4. مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے گاؤں کی سطح پر مفاہمتی ، سدبھاونا کمیٹیاں منعقد کرنے میں انتظامیہ پیش قدمی کرے۔
اس سلسلے میں آج ایک وفد نے ایڈیشنل ایس پی نیپانی سے ملاقات کی ۔ وفد میں شیخ عبدالمجیب، شیخ محمد ماجد، سید شاکر، شیخ اسماعیل، شیخ وسیم اور شیخ ابراہیم شامل تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی بروقت کارروائی سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا، اور اب ضروری ہے کہ تمام مذاہب میں اتحاد و امن کا پیغام عام کیا جائے

پریس سیکریٹری
سیّد شاکر
جماعت اسلامی ہند جالنہر،

Recent Comments