“اگر شہد کی مکھی زمین سے غائب ہو جائےتو انسان صرف 4 سال ہی زندہ رہ سکے گا

ضمیر آفاقی
البرٹ آئن سٹائن سے منسوب ایک قول ہے کہ
“اگر شہد کی مکھی زمین سے غائب ہو جائےتو انسان صرف 4 سال ہی زندہ رہ سکے گا۔“
کیا واقعی ایسا ممکن ہے کہ
مکھیاں خود ہمارےوجود کے لئے اتنی اہم ہیں۔
جی ہاں! یہ ایک حیران کن مگر حقیقت پر مبنی بات ہے کہ
اگر مکھیاں ختم ہو جائیں تو انسانوں کے لیے بھی بقا مشکل ہو جائے گی۔
اس کی چند بنیادی وجوہات یہ ہیں:
*مکھیاں، خاص طور پر شہد کی مکھیاں، دنیا کی 70 فیصد فصلوں کی پولینیشن میں مدد دیتی ہیں۔ اگر مکھیاں ختم ہو جائیں تو*
*پھل، سبزیاں، اور دیگر اہم فصلیں پیدا ہونا بند ہو جائیں گی*
*زراعت شدید متاثر ہوگی، اور خوراک کی قلت پیدا ہو جائے گی*۔
*قدرتی جنگلات اور گھاس کے میدان بھی ختم ہو سکتے ہیں، کیونکہ بہت سے درخت اور پودے بھی مکھیوں پر انحصار کرتے ہیں*۔
*خوراک کی سپلائی چین تباہ ہو جائے گی*۔
*اگر پودے اور درخت پھل نہیں دیں گے تو*
*جانوروں کو چارہ نہیں ملے گا، جس سے مویشی، ہرن، خرگوش، اور دیگر جڑی بوٹی کھانے والے جانور ختم ہونے لگیں گے*۔
*اس کے نتیجے میں گوشت کھانے والے جانور بھی متاثر ہوں گے، کیونکہ ان کے شکار ختم ہو جائیں گے*۔
*بالآخر انسانوں کو شدید غذائی بحران کا سامنا ہوگا اور ان کی بقا شدید خطرے میں پڑ جاۓ گی*۔
*اس کے علاوہ ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا*۔
*مکھیاں صرف پولینیشن ہی نہیں کرتیں بلکہ ماحول کو بھی صاف رکھتی ہیں*۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں