او ٹی کے جوتے

ڈاکٹر شہلا گوندل

دیوار پہ لگی گھڑی کی ٹک ٹک اور اماں کی ڈرِپ سے گرتے قطروں کی رفتار ایک ہی تھی، گھونگے کی رفتار سے بھی کئی گنا کم۔

اماں آپریشن تھیٹر کے سائیڈ روم میں تھیں اور ہم کسی چوکس اٹینڈنٹ کی طرح اکڑوں بیٹھی تھیں۔ میں اور میری دوست صائمہ انجینئرنگ کے دوسرے سال کی طالبات تھیں۔ ہمیں مشینوں کے پرزے تو سمجھ آ جاتے تھے، مگر اس وقت زندگی کا سب سے پیچیدہ مسئلہ یہی تھا کہ اماں ٹھیک کیسے ہوں گی۔

ایسے کڑے وقت میں سہیلیاں انجینئر تو ہوتی ہی ہیں، مگر دل کی دھڑکن کا حساب کتاب بھی ساتھ ساتھ لگاتی رہتی ہیں۔

ہسپتال کے اصول کے مطابق ہمارے پاؤں میں سبز ربڑ کے او ٹی جوتے تھے۔ رنگ ایسا شوخ کہ اگر ہسپتال میں پھولوں کی نمائش ہوتی تو یہ جوتے یقیناً پہلی پوزیشن لے جاتے۔

ہمیں اپنے جوتوں کا ہوش کہاں تھا۔ ہماری نظریں اماں پر اور خیال دعاؤں میں الجھا ہوا تھا۔

پھر اچانک گلا خشک ہوا۔

صائمہ نے پوچھا:

“چائے؟”

میں نے کہا:

“چائے!”

یہ وہ مختصر مکالمہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

ہم دونوں اٹھیں اور سبز او ٹی جوتوں سمیت کینٹین کی طرف روانہ ہو گئیں۔ انجینئرنگ کی طالبات تھیں، فورسز اور ویکٹرز کا حساب لگا لیتی تھیں، مگر اپنے پاؤں میں کیا پہنا ہے، یہ حساب لگانا بھول گئیں۔

کینٹین میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوا کہ لوگ چائے کم پی رہے ہیں اور ہمیں زیادہ دیکھ رہے ہیں۔ ایک صاحب نے ہمیں دیکھا، پھر دوبارہ دیکھا، جیسے ہماری شناختی دستاویزات کی تصدیق کر رہے ہوں۔ ایک نرس نے تو کپ منہ تک لے جا کر روک لیا۔

میں نے فوراً اپنی چادر دیکھی۔

صائمہ نے سرگوشی کی:

“چادر نہیں، نیچے دیکھو!”

میں نے نیچے دیکھا۔

سبز جوتے!

میں نے حیرت سے پوچھا:

“یہ ہم پہن کر آئی ہیں؟”

“ہاں!”

“دونوں؟”

“دونوں!”

“تم نے راستے میں نہیں دیکھے؟”

اس نے پلٹ کر پوچھا:

“تم نے دیکھے تھے؟”

میں نے کہا:

“نہیں!”

وہ بولی:

“تو پھر دونوں برابر کی شریکِ جرم ہیں!”

ہم ہنس پڑیں۔

میں نے فوراً اسے گھورا:

“آہستہ! سب دیکھ رہے ہیں!”

وہ بولی:

“سب پہلے ہی دیکھ رہے ہیں۔ اب ہنسنے سے کیا فرق پڑے گا؟”

اس میں ایسی منطقی پختگی تھی، جیسے کسی تھیوریم کا ثبوت پیش کر رہی ہو، کہ میں نے خاموشی سے اسے تسلیم کر لیا۔ یوں ہماری عزتِ نفس کا آخری ستون بھی ہنسی بن گیا۔

چائے آئی۔ ہم نے ایسے سنجیدہ چہرے بنا لیے جیسے سبز جوتے کوئی معمولی جوتے نہیں بلکہ ہسپتال کی باقاعدہ وردی ہوں اور ہم دونوں کسی نہایت اہم سرکاری اجلاس میں تشریف فرما ہوں۔

مگر جوتوں کو ہماری اداکاری پسند نہ آئی۔

میں نے ذرا سا پاؤں ہلایا:

“کھچ!”

صائمہ نے پاؤں سرکایا:

“کھچ کھچک!”

میں نے سرگوشی کی:

“یہ جوتے ہیں یا جھنجھنے؟”

وہ بولی:

“خاموش رہو، کہیں اگلی آواز پر ہسپتال کا پورا عملہ حاضر نہ ہو جائے!”

ہم نے چائے ختم کی اور واپسی کا قصد کیا۔

پہلا قدم:

“کھچ!”

دوسرا:

“کھچ کھچک!”

اب مجھے یقین ہو چلا تھا کہ ہمارے جوتے نہیں چل رہے، ہماری شہرت چل رہی ہے۔

واپسی کا پورا راستہ ان جوتوں نے صوتی اعلان کے ساتھ طے کیا۔ جو شخص پہلے ہمیں دیکھ چکا تھا، اب جوتوں کی آواز سے ہماری آمد کا منتظر تھا۔

سائیڈ روم میں پہنچے تو اماں نے نیم وا آنکھوں سے ہمیں دیکھا۔ پہلے چہرے، پھر کپڑے، اور آخر میں پاؤں۔

وہ کچھ نہ بولیں۔

مگر ماں کی خاموش نظر میں کبھی کبھی پوری لغت سما جاتی ہے۔

مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ کہہ رہی ہوں:

“ہر چیز اپنی جگہ پر مناسب لگتی ہے۔ اندر کی بات باہر نکلے تو تماشہ تو بنے گا!”

میں نے دل ہی دل میں عرض کیا:

“اماں، پریشانی میں انسان کو اپنے پاؤں بھی یاد نہیں رہتے۔”

صائمہ نے میرے کان میں سرگوشی کی:

“اگلی بار او ٹی چھوڑنے سے پہلے جوتے چیک کر لینا۔”

ہم دونوں پھر ہنس پڑیں، مگر اس بار ذرا آہستہ۔

وہی سبز جوتے جو ابھی تک ہماری بےخبری کا مذاق اڑا رہے تھے، اب ہمیں کسی عجیب سی یادگار کی طرح لگ رہے تھے۔

شاید زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ بڑے واقعات اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ آتے ہیں، مگر یاد میں اکثر ان کے کنارے پر پڑا کوئی چھوٹا سا واقعہ عمر بھر کی یاد بن جاتا ہے۔

اماں کی بیماری ،ہسپتال کی وہ بےچینی، گھڑی کی سست ٹک ٹک، ڈرِپ کے گرتے قطرے، دعاؤں میں اٹھے ہوئے ہاتھ، سب وقت کے ساتھ دھندلا گئے۔

مگر وہ سبز او ٹی کے جوتے آج بھی یاد ہیں۔

اور تب سے میرا ایک اصول ہے:

زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، ُکپڑے بعد میں دیکھیے گا، جوتے پہلے۔

آخر انسان جہاں بھی جائے، کہانی وہیں تک سفر کرتی ہے جہاں تک قدم اسے لے جا سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ لکھیں