Recent Comments
عطیہ رحمٰن on بسنت کی واپسی: رنگ، خوشیاں اور محفوظ جشن کی نئی روایت: “میرے خیال میں بسنت منانا وقت کا ضیاع ہے۔ نہ آسکی کوئی شرعی حیثیت ہے اور نہ کوئی دنیاوی فائدہ۔…” فروری 6, 04:30
Aleena Masood on ضلع جہلم کے قصبے پنڈدادن خان میںتعلیم ایک خاموش المیہ: “میں ورچوئل یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ہمارے شہر میں ورچوئل یونیورسٹی کا ایک بھی کیمپس نہیں ہے جس وجہ سے…” فروری 6, 00:46
Sanam on بسنت کی واپسی: رنگ، خوشیاں اور محفوظ جشن کی نئی روایت: “اسلام و علیکم میرا نام سائرہ ہے میں آپکے سارے آرٹیکل پڑھتی ہوں بہت مزے دار تحریر ہے جو آپ…” فروری 5, 23:46
گل بہار on اسلام آباد براستہ استمبول: “واہ شازیہ اندلیب صاحبہ آپ بہترین سفر نامی لکھتی ہیں جو سفر کے دوران ہونے والے واقعات اور نظر آنے…” جنوري 28, 07:35
متعلقہ خبریں
2 تبصرے ”اوسلو کی معروف ڈریس ڈیزائنراور بوتیک شیف صائمہ رشید صاحبہ سے گفتگو“
اپنا تبصرہ لکھیں








ماشاء اللہ یه ایک اچھا سلسلہ ہے ۔صائمہ کو ذاتی طور پر نہ جانتے ہوئے بھی اتنی معلومات انکے کام کے کتعلق اس انٹرویو کے ذریعے ہم تک پہنچ گئی ہین ۔ویسے دیکھنے میں لگتا ہے کپڑے خریدنا بیچنا بس دوکان دوکان کھیلنے کا نام ہے اس کے پیچھے تو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے صاٗمہ بس اتنا کیا کریں! لباس کی تیاری میں با حجاب لوگوں کا بھی ضرور خیال رکھیں۔ فیشن کے پیچھے اتنا نہیں بھااگنا کہ اپنا کلچر و مژہبی روایات کی ہی بھول جائیں۔
صائمہ سے ملوانے کا جزاکالله شازیہ سسٹر ،
MashaAllah bohat dilchasp aur khawateen ko ubhaarnay wali shaksiat hain. Bilkul har insaan ko zindagi mein koi na koi maqsad zuroor rakhna chahihe. Zindagi toh guzar hi jaani hai. Faraq is baat se parray ga ke aap ki zindagi kis kaam ayi.