امید کی کرن

گل بہار بانو
یہ کہانی ہے۔
اس لڑکی کی جس سے امید تھی۔ روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن کی، جو اس کی زندگی کو چمک دے سکے۔ جو اس کو جینے کا مقصد دے سکے۔ جو اس کی انگلی تھامے کچے راستوں سے نکال کر، پکی سڑک پر چلنا سکھا سکے۔ اور وہ راستے اس کے منزل کی راہیں بن جائیں۔ جس راہ پر اس روشنی کے ہمراہ چلنے کا خواب اس نے دیکھا تھا ۔مگر اس کے لیے اسے اس
” کی آرزو تھی۔ جو اسے اپنے ہمراہ زندگی کو جینا سکھاتی۔ پھر وہ روشنی اس کے نصیب میں ہوئی۔ جب وہ ان سے ملی تو بھلے اس خواب کی مانند جسے رات کو آپ دیکھتے ہیں۔ مگر صبح آنکھ کھلنے پر ختم ہو جاتا ہے۔ مگر وہ آپ کو احساس دیتا ہے۔ آپ کو ایک آواز لگاتا ہے۔ جس کے پیچھے آپ کو چلنا اچھا لگتا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے ۔۔۔۔کہ وہ روشنی کون ہوگی ۔تو ہر انسان کو زندگی میں ایک ایسی ہستی کی طلب ہوتی ہے۔ جو اس کا محسن بن سکے ۔جو اس کی آئیڈیل بن سکے۔ جو اسے جینا سکھا سکے ۔جو اس سویرے کی مانند ہو جو کالی رات کے اندھیرے کو چیر کر نکلتا ہے۔ اور ہر چیز کو واضح کر دیتا ہے۔ایسی ہی ایک روشنی کی کرن مہ جبین کی زندگی میں بھی آئی تب اس کو روشنی کی امید تھی۔ جب وہ ان حالات میں تھی جیسے ۔۔۔۔۔ایک شخص سمندر کے ایک کنارے کو پار کر کے اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مگر اسے نہیں پتہ کہ کیسے۔۔۔۔؟
جیسے اندھیروں کا گھیرا ہو کوئی سمجھنے والا نہ تیرا ہو اچانک سے سویرا ہو
پھر دور یہ اندھیرا ہو
سات سمندر پار جن سے وہ کبھی ملی نہیں ،پھر ایک شام کے پہر موبائل فون کی گھنٹی بجی، یہ وہ دستک تھی ۔جو مہ جبین کی زندگی کو مہکانے آئی تھی ۔یہ وہ خاموش قدموں کی چاپ تھی۔ جو اس کو منزلوں کی طرف لے جانے آئی تھی۔ یہ وہ آواز تھی ۔جو مہ جبین کی زندگی کو پورے طریقے سے بدلنے والی تھی۔ اس کی والدہ ہمیشہ ذکر کرتی تھی۔ ایک ایسی شخصیت کا جس کو نہ تو بہارے نے دیکھا تھا۔ نہ ان کے بارے میں جانتی تھی ۔مگر اسے کیا پتہ تھا۔ کہ جن کا نام کئی بار اس نے سنا اپنی والدہ کے منہ سے وہ اس کی منزل کے ہمراہی ہوگی، وہ اس کی ذات سے روشناس کروائے گی۔
جاری ہے…..

اپنا تبصرہ لکھیں